(گزشتہ سے پیوستہ)
دونوں فریقین باہمی کامیابی اورمشترکہ خوشحالی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اوردونوں کے مابین تعاون ڈیجیٹل معیشت ،سبزترقی اورماحولیاتی تحفظ،نئی توانائی اورمصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھنے کی مکمل صلاحیت ہے۔یورپی یونین چیمبر آف کامرس ان چائنا (ای یوسی سی سی)کی جانب سے جاری کردہ بزنس کانفیڈنس سروے2023ء کے مطابق سروے میں شامل 90 فیصدسے زائد یورپی کمپنیاں چین کواپنی سرمایہ کاری کی منزل بنانے اور سروے میں شامل 80 فیصدسے زیادہ چینی کمپنیاں یورپ میں اپنے کاروبارکو بڑھانے کاہوم ورک مکمل کرچکی ہیں۔ ابھی یورپ اورچین میں اس مساوی نطام کوقابل عمل بنانے کے لئے بات چیت چل رہی تھی کہ اچانک بلومبرگ نیوزمیں خبرشائع ہوگئی کہ چین کی کرنسی یوآن نے روس میں اپناسکہ جماتے ہوئے امریکی ڈالرکو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ 2022ء میں یوکرین پرحملہ کرنے کے بعدروس نے چینی یوآن کوزیادہ ترجیح دیناشروع کردی ہے اوراس سال روس نے زیادہ تربین الاقوامی تجارت ڈالرکے مقابلے یوآن میں کی ہے۔مغربی ممالک کی جانب سے روس پرعائد اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے روس کی بڑی کمپنیوں نے غیر ملکی تجارت کے لیے دیگر کرنسیوں پر انحصار بڑھا دیا تھا اور اس میں یوآن نے بازی مار لی ہے۔یہی نہیں چین نے آگے بڑھ کر روسی اشیاء کے لیے اپنی مارکیٹیں کھول دی ہیں تاکہ غیر ملکی کرنسی کے تبادلے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چین کا یوآن جسے رینمنبی بھی کہا جاتا ہے اب امریکی ڈالر کو برابری کی ٹکر دینے کی تیاری کر رہا ہے؟
یوآن کی ترقی کا تجزیہ کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ غیر ملکی کرنسیوں کا دنیا پر غلبہ کب، کیوں اور کیسے ہوا۔آسان الفاظ میں، کسی بھی ایک غیر ملکی کرنسی کی مقبولیت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے جاری کرنے والے ملک کی معاشی اور سٹریٹجک حالت کتنی اچھی ہے اور عالمی تجارت میں اسے کیا مقام حاصل ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی غیر ملکی کرنسی مضبوط ہوتی ہے تو دوسرے ممالک کے مرکزی بینک بھی اسے اپنی ریزرو کرنسی کے طور پر رکھیں گے۔امریکن انسٹیٹیوٹ فار اکنامک ریسرچ کے پیٹر ارل کے مطابق 1450 کے بعد سے دنیا نے ریزرو کرنسی کے چھ بڑے ادوار دیکھے ہیں، جن میں 1530تک پرتگال کی کرنسی غالب تھی۔ اسے سپین کی کرنسی نے پیچھے چھوڑ دیا۔17ویں اور 18ویں صدیوں میں نیدرلینڈز (ڈچ’اور فرانس کی کرنسیوں نے عالمی تجارت پر غلبہ حاصل کیا، جسے برطانوی سلطنت کے عروج نے سمیٹ دیا۔ پہلی جنگ عظیم تک برطانوی پائونڈ سٹرلنگ زیادہ تر ممالک کی ریزرو کرنسی ہوا کرتی تھی۔ لیکن 1930 ء کی دہائی کے بعد سے امریکی معیشت اور عسکری قوت نے اپنی دھاک جمانی شروع کر دی اور ڈالر نے عالمی تجارت میں پائونڈ کو پیچھے دھکیل دیا، جو آج تک برقرار ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2008 ء سے 2022 ء تک دنیا کی تقریباً 75 فیصد تجارت صرف امریکی ڈالر میں ہوئی ہے اور آج بھی دنیا بھر کے 59 فیصد ممالک کے پاس امریکی ڈالر بطور ریزرو کرنسی ہے۔ اگرچہ امریکی ڈالر عالمی تجارت میں آگے بڑھ رہا ہے، بہت سے ممالک نے اپنی غیر ملکی تجارت یا قرض کے لئے دوسرے آپشنز تلاش کرنا شروع کر دئیے ہیں۔برازیل کی وزارت خزانہ میں بین الاقوامی امور کی سیکرٹری تاتیانا روسیٹو کے مطابق دنیا کے 25ممالک اس وقت چین کے ساتھ اپنی تجارت یوآن میں کر رہے ہیں۔برازیل کی جانب سے تجارت کے لیے امریکی ڈالر کے بجائے یوآن کو غیر ملکی کرنسی کے طور پر استعمال کرنے کے فیصلے کے بعد ہی اس کے پڑوسی ارجنٹائن نے بھی چین کے ساتھ تجارت میں ڈالر کے بجائے یوآن کو استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چین دنیاکاسب سے بڑاترقی پذیرملک ہے اوریورپ کسی بھی دوسرے براعظم کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ ممالک کاخطہ ہے۔چین اوریورپی یونین دونوں بکھری ہوئی عالمی معیشت اورتحفظ پسندی کی بڑھتی ہوئی لہرکے سامنے محتاط رہ کرکھلے پن کے ساتھ منصفانہ مسابقت اورآزادتجارت کوبرقرار رکھنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں ۔ سلامتی کے تصورکو بڑھاچڑھا کر پیش کرنے سے گریزکی پالیسی اختیار کرتے ہوئے گلوبلائزیشن کے خلاف مشترکہ مزاحمت کے لئے تیاری کے مراحل میں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ چین بیلٹ اینڈروڈانیشی ایٹواور گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹوکے حصول کے لئے مشترکہ ہدف کے تعاقب میں یورپی یونین اوردیگریورپی ممالک کی فعال شرکت کابھی خیرمقدم کررہاہے اوریورپی یونین کی گلوبل گیٹ وے حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے بھی تیار نظر آتاہے تاکہ ترقی پذیر ممالک ترقی کے اپنے سفرکو تیز کرنے میں مدد کے لئے متعلقہ طاقتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔بدلتی ہوئی اورغیرمستحکم بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظرچین اوریورپ کومزیدتعاون کی ضرورت ہے۔دونوں فریقوں کوکثیرالجہتی پرعمل کرنے، کھلے پن اورترقی کی وکالت کرنے اورتہذیبوں کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے کے لئے مل کرکام کرناہوگا۔انہیں مشترکہ طور پر ایک مساوی اورمنظم کثیرقطبی دنیاکی تعمیر کرناہوگی اورعالمی سطح پرفائدہ مند اورجامع اقتصادی عالمگیریت کوفروغ دیناہوگا۔
قدرت نے پاکستان کوایک بارپھرایک سنہری موقع دیاہے کہ وہ اپنے جغرافیائی وجودکی وجہ سے ان فوائدکوسمیٹ سکے اوراب تک سی پیک پراجیکٹ کی تکمیل میں مجرمانہ تاخیرکافوری ازالہ کرتے ہوئے ایسے ہنگامی اورانقلابی اقدامات اٹھائے تاکہ برادرعرب ممالک کی طرف سے آنے والی سرمایہ کاری کوبھی ایک ایسارخ میسرآجائے جس کے بعدیورپی ممالک کی سرمایہ کاری بھی پاکستان کارخ کرے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی افراتفری اوربدامنی کوختم کرنے کا سازگارماحول پیداکیاجائے اورتمام سیاسی جماعتیں کم ازکم ملکی معیشت پراتفاق کرتے ہوئے ایک ایساباہمی لائحہ عمل تیارکریں کہ ملک میں جوبھی حکومت آئے لیکن ان معاشی اہداف کوکبھی بھی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھایاجائے گا۔بابااقبال ؒیاد آگئے۔
اندازبیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اترجائے ترے دل میں مری بات
یاوسعت افلاک میں تکبیر ِمسلسل
یاخاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات
وہ مذہب مردان خود آگاہ و خدا مست
یہ مذہب ملا و جمادات و نباتات