پاکستان بڑا بھائی بن کر بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوے تمام بین الاقوامی مصلحتوں کو بالاے طاق رکھ کر افغانستان موجودہ حقیقی حکومت کوفوری طور پر تسلیم کرے اور یہ فقط اللہ کی رضا اور حکم خدا کی پیروی میں کرے۔
آخرزمان کے فتنوں سے بچنے اور اللہ کی رضا کے لئے اپنی انا اور خودی کو چھوڑ کر باہم بھائی بھائی بن کر اللہ کی خوشنودی کے لئے باہم متحد ہوجائیں۔ امام مہدی کا ظہور اور ملحمۃ الکبری ہمارے دروازہ پر کھڑے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان دونوں خراسان کے مناطق کا محور اور مرکز ہیں۔ دونوں کوشش کریں کہ باہمی اخوت اور اتحاد کے ساتھ امام مہدی کی نصرت میں نکلنے والے مبارک خراسانی جیش کا ہر اول دستہ بنیں۔
آپ سب کو اس موضوع پر احادیث ا علم ہے۔ پاکستان اور افغانستان باہمی اتحاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بے شمار برکتوں اور نعمتوں کے متمنی اور حقدار ہوسکتے ہیں۔ اسلامی دنیا اس وقت بہت سے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ ان حالات میں امت مسلمہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد اور اتفاق کے ساتھ آگے بڑھے۔ خاص طور پر پاکستان اور افغانستان، جو ایک دوسرے کے ہمسائے اور اسلامی اخوت کے علمبردار ہیں، کے لیے وقت کا تقاضا ہے کہ وہ باہمی رنجشوں کو مٹائیں اور ایک مضبوط اسلامی اتحاد تشکیل دیں۔
اسلامی اتحاد کی بنیاد، قرآن و سنت کی رہنمائی میں اختلافات سے بچنے اور اتحاد قائم کرنے کے حکم کی تعمیل کریں اور حقیقی عزت و کامیابی دنیا اور آخرت میں حاصل کریں۔ حکم قرآن کی فوری تعمیل واجب ہے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، سب مل کر، اور تفرقہ نہ ڈالو۔(سورہ آل عمران: 103)
قرآن کی ہدایت ،بے شک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، سو اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرو، اور اللہ کا پاس کروتاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(سورہ الحجرات: 10) پاکستان اور افغانستان کے اختلافات اور مسائل کا حل اسلامی تعلیمات اور بھائی چارے اور اخوت کے اندر ہے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔(صحیح بخاری)
سرحدی مسائل اور دیگر تنازعات،عسکریت پسندی اور امن و امان، دونوں ممالک دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے چیلنجز سے نبرد آزما ہیں۔ان مسائل کا اللہ کے حکم کے سامنے جھک کر اخوت اختیار کرکے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور اخوت کی فضاء کو قائم کرنے میں ہے۔مسائل کو حل کرنے کے لئے کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر دو بھائی تمام معاملات طے کریں۔ پاکستان اور افغانستان اسلامی دنیا کے دو اہم ممالک ہیں۔ ان کے درمیان اتحاد نہ صرف ان دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہوگا بلکہ یہ باقی اسلامی دنیا کے لئے بھی ایک مثال بنے گا۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر مشترکہ دشمنوں، جیسے کہ دہشت گردی، اسلاموفوبیا، اور عالمی استحصال کا مقابلہ کریں اور امام مہدی کے متوقع ظہور اور ملمحم البر یا آرمگاڈان کا مقابلہ کرنے کے لئے یک جان ہو جائیں۔ یہ اتحاد نہ صرف ان دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہوگا بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک مثال بنے گا۔ قرآن و سنت ہمیں اتحاد اور محبت کا درس دیتے ہیں اور ہمیں انہی اصولوں پر عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوارنی ہوگی۔
ایک خاص سازش کے ساتھ پاکستان کی معیشت اور پاکستانی فوج کو ٹارگٹ بنایا جارہا تاکہ پاکستان مالی طور پر دیوالیہ ہو جائے اور فوج بے بس ہوجائے اور اس طرح پاکستان کو ڈی نیوکلیرازیشن پر مجبور کردیا اور سیاسی عدم استحام پیدا کر کے اس کے ٹکڑے کردئیے جائیں۔ پاکستانی عوام اور علماء کو جاگ جانا چاہئے اور ملک کو ذات اور سیاس مصلحتوں سے بالا رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کو اختلافات ختم کرکے اتحاد و اتفاق کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں اسلامی دنیا کے لیے ایک روشن مثال بنائے۔ آمین۔ (الداعی الی الخیر)