ہم عمل سے دور تو ہیں ہی، بدقسمتی سے اپنے علمی خزانوں سے بھی لاتعلقی اختیار کرنے کی روش پر چل رہے ہیں ۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے علوم کو جاننا اور دنیا میں ہونے والی ترقی کی رفتار پر نظر رکھنا ازحد ضروری ہے، مگر اس سے ضروری اپنے علماء و فقہا کے بارے آگہی رکھنا اور انہیں اپنی نسلوں سے متعارف کرانا بھی اشد ضروری ہے ۔آسمان رفعت کے وہ ستارے جن کی ضوفشانی سے ہم پر شعور و آگہی کے در وا ہوئے ۔قابل فخر ہیں ، وہ لوگ جن کی وجہ سے ہم بھی سر اٹھا کر جینے کے لائق ٹھہرے۔ امام حاکم ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن محمد نیشاپوری ایک صاحب کمال عالم دین، مستند فقیہ اور محدث تھے جو صدیوں سے اپنی کتاب ’’المستدرک علی الصحیحین ‘‘کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں ۔ یہ وہ عظیم کتاب ہے جس میں امام حاکم نے وہ احادیث یکجاکیں جو امام بخاری ؒ اور مسلم ؒ کی کتب احادیث میں شامل ہونے سے رہ گئی تھیں ،مگر معیار کے اعتبار سے اتنی ہی معتبر تھیں جتنی دیگراحادیث۔امام حاکم ؒ933 میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم مقامی مدرسے میں حاصل کی۔اور پھر شوق علم اور ذوق حدیث و فقہ کی پیاس بجھانے کے لئے دور ،دورکے سفر کئے۔انہوں نے اپنے وقت کے مشہور محدث اساتذہ کے حضور زانوئے تلمذ طے کیا ،جن میں ابوحاتم الرازی،امام ابوبکر بن خزیمہ اور دارقطنی شامل تھے۔جن سے انہوں نے علم حدیث اور فقہ میں مہارت سیکھی۔
امام حکم ایک نابغہ روز گار شخصیت کے حامل تھے اس لئے اپنے جید اساتذہ سے خوب علمی استفادہ کیا اور ’’المستدرک ‘‘ جیسی کتاب مرتب کرکے شہرت دوام حاصل کی ۔یہ وہ کتاب ہے جو کتب احادیث میں سند کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کے علاوہ امام حاکم نے ایک اور کتاب ’’المدخل الی الصحیح’’جیسی کتب بھی لکھیں جن میں علم حدیث کے اصول اور ضوابط بیان فرمائے۔اسی طرح آپ نے جہاں حدیث وفقہ اور تاریخ کے میدان میں نام کمایا۔امام حاکم کا ایک زریں کارنامہ یہ بھی ہے کہ اسلامی تاریخ کے اہم واقعات اور شخصیات کے علمی فضائل کو قلم بند کیا۔
امام حاکم کے علمی مقام کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی ایک کتاب ’’المستدرک‘‘کی دسیوں علما ء نے شروحات لکھیں جس میں انہوں نے مذکورہ کتاب کی احادیث کی اسناد اور متن کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا اور پھر اس کی تشریح پر قلم اٹھایاامام ذہبی نے ’’تلخیص المستدرک‘‘ لکھی جو ان کی تصنیفات میں سب سے اہم تصنیف گردانی جاتی ہے ۔امام ذہبی نے کتاب میں شامل کئی احادیث کو ضعیف یا موضوع قرار دیا جنہیں امام حاکم نے صحیح کہا تھا۔اسی طرح عبدالغنی مقدسی نے بھی ’’المستدرک‘‘کی احادیث کاتفصیلی اور عمیق جائزہ لیا۔انہوں نے ان روایات کی صحت کااحاطہ کرنے کے بعد ان پر محدثین کی آرا شامل کیں۔بعد کے ادوار میں کئی جید علماء نے ’’المستدرک‘‘ میں شامل احادیث پر تخریجی کام کیا۔
کتاب مذکور کی احادیث کو شیخ البانی نے بھی اپنی تحقیق کا موضوع بنایا اور کتاب میں شامل احادیث کی جانچ پڑتال کا فریضہ سر انجام دیا۔ علاوہ ازیں معتدبہ معاصر علما ء نے بھی تفصیلی تحقیق فرمائی۔یہاں تک کہ دور حاضر میں بھی کئی محدثین نے ’’المستدرک‘‘ پر امام ذہبی کی تحقیق و تنقید کو مزید وضاحت کے ساتھ پیش کیا ۔جن میں ڈاکٹر بشار عواد معروف اور شیخ مصطفی الاعظمی سر فہرست ہیں۔علاوہ ازیں جدید دور میں مختلف جامعات نے بھی ’’المستدرک‘‘پر تحقیقی کام کروایا ہے۔کئی اور زبانوں میں بھی اس پر مقالات اور تفصیلی شروحات تحریر فرمائی ہیں۔
امام تاج الدین سبکی نے ’’المستدرک‘‘پر اپنے کئے گئے تبصروں میں ان کے فقہی مسائل اور احادیث کی تفصیلات کو اجاگر کیا ہے۔ ’’المستدرک‘‘کی احادیث کو صحت کے لحاظ سے عام طور پرتین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔اول،وہ احادیث جو امام مسلم اور امام بخاری کے معیار پر صحیح گردانی جاتی ہیں۔دوم، وہ احادیث جو احسن ہیں یا معمولی اختلاف کے ساتھ صحیح ہیں ۔سوئم،وہ احادیث جو ضعیف یا موضوع ہیں۔غرض امام حاکم کی ’’المستدرک‘‘ پر ہونے والی تمام تحقیقات علوم حدیث میں اہم مقام رکھتی ہیں اور حدیث کی صحت کے اصولوں کو مضبوط کرنے میں ان کی بہت اہمیت ہے۔