Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

یو ٹیوٹرز کی صحافت گردی

شعب صحافت بہت قدیم اور مقدس پیشہ ہے ۔ فروغ ِعلم و آگاہی میں اس کا مسلمہ کردار ہے ۔ اس سے منسلک لوگ بڑے معتبر اور مہذب ہوا کرتے تھے ۔ ان کی بات میں اثر ہوتا تھا ۔ لوگ ان کی بے حد قدر کرتے تھے ۔حرمتِ قلم کا وہ کبھی سودا نہیں کرتے تھے ۔ چہرہ اور دامنِ ضمیر ، قلم فروشی کی کالک سے پاک رکھتے تھے ۔ جو دیکھتے ، وہی لکھتے تھے ۔ کسی کو تلخ لگے یا شریں اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے ۔ ان کی صحافت دیانت داری اور اصول پسندی سے عبارت ہوا کرتی تھی جس کی پاداش انہیں مالی و جسمانی صعوبتیں بھی سہنا پڑتیں ، لیکن ہر دور میں اپنے اصولوں کے لئے وہ چٹان کی طرح ڈٹے رہے تھے ۔ سفرِ حیات کی گزر گاہوں میں بکھرے کانٹے نوکِ قلم سے چنتے تھے ۔ جبر کی سیاہ راتوں میں بھی وہ کلم حق کے چراغ جلاتے تھے ۔ مہذب معاشروں میں ایسے لوگ مینار نور ہوتے ہیں۔ جن کو دیکھ کر سب خود شناسی اور اصلاحِ سمت کرتے ہیں ۔ جن کا وجود علم و شعور کا منبہ ہوتا ہے۔ حق گوئی اور اجلے کردار کے تمغے ان کے سینوں پہ ٹمٹا رہے ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں ایسے نابغے ناپید ہی ہو گئے ہیں ۔ دوسری طرف لوگ تیزی سے قلم و قرطاس سے دور ہو رہے ہیں۔ کتب اور اخبار بینی کا شوق دم توڑ رہا ہے ۔ جس کی بڑی وجہ جدید ٹیکنالوجی ہے ۔اخبار اور کتاب کو کمپیوٹر اور موبائل فون نے پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ یہ ایسی ایجادات ہیں جن کے دامن میں پوری کائنات کا علم اور تفصیلات سمٹی ہوئی ہیں ۔ جن تک رسائی محض ایک کلک کی مار ہے ۔اس سہولت نے قاری اور کتاب میں دوریاں پیدا کر دی ہیں ۔اکثریت کا رحجان اور دھیان سوشل میڈیا کی طرف ہو گیا ہے ۔ جہاں چٹ پٹی خبریں اور دیگر موضوعات کا اک سیلاب ہے ۔ پرانے دور میں اخبار اور ٹی وی کے گنے چنے صحافی اور اینکرز ہوتے تھے ۔جن کی پیشہ ورانہ اور علمی صلاحیت کی دنیا معترف تھی ۔
نشرواشاعت کے ادارے بھی صرف ایسے ہی قابل اور مستند لوگوں کو منتخب کرتے تھے ۔ رپورٹر سے پروڈیوسر تک کے چنائو میں اعلیٰ صحافتی معیار اور تقاضوں کا خیال رکھا جاتا تھا۔ بصد افسوس کمپیوٹر اور موبائل پر سوشل میڈیا کی آمد نے باقی تمام اقسام کے میڈیاز کو لوگوں کے مائنڈ اور مارکیٹ سے بے دخل کر دیا ہے ۔ پوری دنیا سوشل میڈیا کی اسیر ہو گئی ہے ۔اس کی ظاہری تمکنت نے سب کو گرویدہ بنا لیا ہے ۔ موبائل فون کے حامل ہر شخص کی نظریں اس کی سکرین پر جمی رہتی ہیں ۔ دل و دماغ اس کے اندر برپا تماشوں میں کھویا رہتا ہے۔ایسا انہماک اگر علمی جستجو اور تعمیری مقصد کے لئے ہو تو بہت اعلیٰ لیکن اگر منفی سرگرمیوں میں تضیعِ اوقات ہو تو باعث ِفکر ہے ۔ لوگوں کی دلچسپی اور رحجان کو بھانپتے ہوئے دونمبر صحافیوں کا اک ٹولہ میدانِ میں اتر آیا ہے۔ جیسے برسات کے موسم میں کھمبیاں اُگ آتی ہیں۔ جیسے عیدالاضحی پر پیسہ کمانے کے لئے جزوقتی قصائی نمودار ہو جاتے ہیں۔ جانور کے ساتھ جو وہ تباہی کرتے ہیں اس سے ہم سب واقف ہیں۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت کے بعد قصابوں کی طرح کچھ نام نہاد صحافی اور اینکرز کا غول بھی صحافت کے افق پر اڑنے لگا ہے ۔ مین اسٹریم میڈیا کے معیار پر نہ اترنے والوں نے یوٹیوب چینل کو مورچہ بنا لیا ہے۔خاص تعداد کے فالورز اور واچ ٹائم کے حامل لوگوں کو مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔ اس معیار کو چھونے کے لئے دو نمبرصحافی صحافت کی اعلیٰ اقدار کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ۔ نفرت اور تقسیم کو بے دریغ پھیلا رہے ہیں ۔فیک نیوز اور مسالے دار ڈس انفارمیشن کی مقبولیت کو خوب کیش کر رہے ہیں ۔ سیاست کے رنگ ڈھنگ چونکہ بدل گئے ، دلکش بیانیہ تراشنے اور پھیلانے کی عجب رسم چل پڑی ہے ۔سہانے خواب اور افسانوی دعوے اصل کارکردگی کی اہمیت کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں ۔دانش پہ جذباتیت چھا چکی ہے ۔ یہ کچھ سیاستدانوں کو بڑا سوٹ کرتا ہے۔
زمینی حقائق، عملی کاموں اور کارناموں کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنے کی بجائے وہ مسحور کن بیانیوں اور نعروں سے کام لیتے ہیں ۔ سب سے مئوثر بیانیہ مخالفین کی کردار کشی کر کے لوگوں کو ان کے بارے بدظن اور متنفر کرنا ہے۔ اس گھنائونے کام کے لئے آج کل دو نمبر نام نہاد صحافی اور یو ٹیوبرز خاصی تعداد میں دستیاب ہیں ۔ جو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرنے میں بڑے مشاق ہیں۔ رائی کا پہاڑ اور بات کا بتنگڑ بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ کسی کی ذاتی زندگی تک کو برباد کرنے میں بھی انہیں ذرا بھر احساس ہوتا ہے نہ ندامت ۔ تڑ تڑ ٹی وی اور یو ٹیوب پر آ کر من گھڑت قصے سنا کر خاص طبقے کو خوش کرتے رہتے ہیں جس سے ان کی ویوورشپ بڑھتی ہے اور مالی فائدہ ہوتا ہے ۔ سیاسی تعصب ، بغض اور مالی حرص نے فیک نیوز اور مخالفین کے خلاف جھوٹی داستانوں کو تخلیق کر کے پھیلانے کی بدعت کو جنم دیا ہے ۔ غیر یقینی اور پریشانی کی دھند تو پہلے ہی عرصہ دراز سے ملک عزیز پہ چھائی ہوئی تھی ان دو نمبر صحافیوں نے اس کو مزید گہرا اور پیچیدہ کر دیا ہے ۔ سچ اور جھوٹ میں تفریق کرنا بھوسے سے سوئی تلاش کرنے سے بھی مشکل ہو گیا ہے۔ معاشرے میں پائی جانی والی حالیہ نفرت اور باہمی تقسیم میں ان دو نمبریوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ بدامنی کی آگ پر یہ بڑی مکاری سے تیل ڈالتے ہیں ۔ان کا گھنانا پن سمجھنے کے لئے صرف ڈی چوک واقع ہی کو لے لیں ۔ ابھی آپریشن ختم ہوئے چند لمحے ہی گزرے تھے ان وارداتیوں نے اس کو غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں سے بڑا سانحہ قرار دینا شروع کر دیا ۔ سینکڑوں اموات کی خبریں نشر کر دیں ۔ حالات کو مزید سنگین بنانے کے لئے غزہ میں شہداء کی پڑی لاشوں کی فوٹیج لگا کر سانحہ ڈی چوک بنا کر پیش کرنے لگے۔ ایسے المناک مناظر دکھا کر پوری قوم کو دکھ اور اضطراب کی کیفیت میں ڈال دیا ۔ یاد رہے چند ایک کے سوا باقی سب کردار بیرون ملک بیٹھ کرملک کے خلاف سازش اور پروپیگنڈا کر رہے ہیں ۔ ان کے عزائم بڑے ذاتی اور مالی مفاد سے جڑے ہیں ۔ان کا ملکی سالمیت ، معیشت اور خوشحالی سے کوئی سروکار نہیں۔ بہتوں کا تو علمی معیار بھی واجبی سا ہے ۔ خدا را ایسے بہروپیوں کی نیت، صلاحیت اور رسائی کو سمجھیں۔ آپ خود جب واقعہ رونما ہونے والے ملک ، شہر اور مقام پر موجود ہونے کے باوجود ایسی تفصیلات سے بے خبر ہیں تو ایک بندہ امریکہ اور برطانیہ میں بیٹھ کر کیسے اس بارے اتنی معلومات رکھ سکتا ہے ۔ جس کو وہ بڑے اعتماد سے چسکے لگا کر بیان کرتا ہے اور ہم معصوم لوگ اس پہ نہ صرف یقین کرتے ہیں بلکہ خوشی اور تحسین کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔ آئیں عہد کریں ، جب بھی کوئی آپ کو خبر دے ، اس سورس کی حیثیت، صلاحیت اور رسائی دیکھیں ۔حقائق اور دلائل کے پیمانے پر اس کے دعوئوں کو پرکھیں ۔ تحقیق کے اس عمل سے گزر کر خبر کی حقیقت نکھر کر سامنے آ جائے گی ۔ بغیر سوچے سمجھے جذباتی ہونے ، دل جلانے اور دوسروں سے تعلق بگاڑنے سے گریز کریں ۔ بے شک اپنے نظرئیے اور عقیدے کو مضبوطی سے تھامے رکھیں ، لیکن سچ اور جھوٹ کی تفریق کرنا سیکھ لیں ۔ ان گھنائونی حرکات کے مرتکب دو نمبر صحافیوں کی باتوں پر سردست یقین کرنا چھوڑ دیں ۔ ملکی مفاد اور اتحاد کی خاطر ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو جائیں ۔تمام محب وطن قوتوں سے مل کر ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام کریں۔ اسی میں ہم سب کافائدہ ہے ۔جعلی اور دو نمبر صحافیوں کی اجتماعی بنیادوں پر حوصلہ شکنی کرنے سے کافی حد تک فیک نیوز اور پروپیگنڈا کی آگ سے پھیلا دھواں چھٹ جائے گا ۔ نفرت اور رنجشوں کی ہوائیں تھم جائیں گی ۔ بس ایک بار دو نمبر صحافیوں اور ان کی پھیلائی شر انگیز فیک نیوز اور گمراہ کن مہم کا مئوثر سدباب ہو جائے ۔ شنید ہے حکومت وقت اس بابت سخت قوانین بنا رہی ہے جس سے صحافت گردی کے شٹر بے مہار کو نکیل ڈالی جا سکے گی ۔

یہ بھی پڑھیں