Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

انصاف کی جنگ،عالمی عدالت اوراسرائیل

(گزشتہ سے پیوستہ)
اگرکوئی ریاست ایسے ایکشنزکی اجازت دیتی ہے،انہیں تسلیم کرتی ہے اوراپنی سٹیٹ پالیسی بنالیتی ہے توایسی صورت میں وہ ریاست بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہی ہے۔اس صورت میں دنیابھرکی ریاستوں کواس ریاست کے خلاف صف آراہونا پڑے گا،سفارتی تعلقات ختم کرکے اورپابندیوں کے ذریعے حتیٰ کہ اگرضرورت پڑے توطاقت کااستعمال کرتے ہوئے اسے بتاناپڑے گایہ غلط ہے اوراسے ان ایکشنز سے رکناپڑے گا۔اگران تمام اقدامات کے باوجودوہ ریاست بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جاری رکھتی ہے تودیگرممالک مل کروہاں مشترکہ فوجی بھیجنے کافیصلہ کرسکتے ہیں جس سے اس ملک کوجنگی جرائم سے روکاجا سکے اورعام شہریوں کی حفاظت کے لئے جس حد تک بھی جاناپڑے جایا جائے۔یہاںR2P یعنی’’ریسپانسبلٹی ٹوپروٹیکٹ‘‘ کااصول لاگو ہوتاہے جسے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری نے منظورکیاہے۔
یادرہے کہ5 فروری2021ء کو بین الاقوامی فوجداری عدالت یعنی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے فیصلہ سنایاتھاکہ اسے فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اورمظالم کے بارے میں فیصلہ کرنے کادائرہ اختیار حاصل ہے۔ عالمی عدالت فوجداری کے اس اکثریتی فیصلے سے عدالت کے لئے اسرائیل کے ’’زیر قبضہ فلسطینی علاقوں‘‘ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا راستہ ہموار ہو چکا ہے اور مزیدبراں عدالت کادائرہ کار1967ء سے اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں یعنی غزہ اورمشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے تک پھیل گیاہے۔عدالت نے کہاکہ فیصلہ عدالت کے بانی دستاویزات کی روسے قواعدپر مبنی تھااوراس کامطلب ریاست یاقانونی حدودکاتعین کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہے۔
عدالت کی پراسیکیوٹرفتوبینسودانے اس سے قبل اس بارے میں تحقیقات کامطالبہ کرتے ہوئے کہاتھاکہ فلسطینی خطے میں جنگی جرائم مرتکب کیے جانے کے دعوؤں کو ’’یقین کرنے کی معقول وجوہات‘‘ہیں۔یہ فیصلہ عدالتی پراسیکوٹر بینسوداکے اس بیان کے ٹھیک ایک سال بعدسامنے آیاتھا جب انہوں نے کہاتھاکہ ابتدائی جائزے میں (فلسطینی خطے میں جنگی جرائم)کی تحقیقات کو کھولنے کے لئے تمام معیارات کوپوراکرنے کے لئے خاطرخواہ معلومات جمع کی گئی ہیں۔
عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے نیتن یاہو اورسابق اسرائیلی وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری کے اجراکے اعلان کے بعدمتعددمغربی ممالک نے کہاہے کہ وہ آئی سی سی کے اس فیصلے پرعملدرآمدکریں گے۔اسرائیل کے مغربی اتحادی برطانیہ کے علاوہ بیلجیئم، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، اٹلی،آئرلینڈ،سپین اورکینیڈانے بھی اعلان کیاہے کہ وہ اس معاملے میں بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں گے۔آئی سی سی کی جانب سے نیتن یاہواوریواوگیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری کے اجرا کے اعلان کے بعد سے اسرائیل کے سیاستدانوں کی جانب سے شدیدردِعمل سامنے آرہا ہے۔اگرچہ نیتن یاہواوریواو گیلنٹ کے ساتھ ساتھ حماس کے فوجی کمانڈرمحمددیف کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے ہیں تاہم عالمی فوجداری عدالت کے اس فیصلے کو حماس،فلسطینی اسلامی جہاد اور غزہ کے عام شہریوں کی جانب سے سراہا گیا ۔
برطانوی وزیراعظم کیئرسٹامرکے ترجمان سے جب پوچھاگیاکہ کیانیتن یاہوکے برطانیہ میں داخل ہونے کی صورت میں انہیں حراست میں لے لیاجائے گا تو ترجمان نے ’’مفروضوں‘‘پرتبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ’’حکومت اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرے گی‘‘۔دوسری جانب جب کینیڈاکے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے پوچھاگیاکہ اگرنیتن یاہوآئے توکیاانہیں گرفتارکیا جائے گاتوٹروڈونے کہاکہ’’ہم بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں گے اوربین الاقوامی عدالتوں کے تمام ضابطوں اور احکام کی پابندی کریں گے‘‘۔
تاہم حماس نے اپنے فوجی کمانڈر محمد دیف کے وارنٹ کے اجرا پر تبصرہ کیے بغیر اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔دوسری حانب حماس کواپنے کمانڈرابراہیم المصری عرف محمددیف کے گرفتار ہونے کاکوئی خاص خدشہ نہیں۔ اسرائیل کامانناہے کہ وہ پچھلے سال مارے گئے تھے حالانکہ حماس نے آج تک ان کی موت کی تصدیق نہیں کی۔ان کوگرفتارکرنے کے علاوہ آئی سی سی کاارادہ تھاکہ حماس کے دورہنمایحییٰ سنواراوراسماعیل ہنیہ کے خلاف کاروائی کریں تاہم ان کی موت کی تصدیق پہلے ہی ہوچکی ہے۔ایک بیان میں حماس کی جانب سے کہا گیا کہ ’’ہم دنیاکے تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صہیونی جنگی مجرموں،نیتن یاہو اورگیلنٹ کوعدالت میں لانے کے آئی سی سی کے ساتھ تعاون کریں اورغزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف نسل کشی کے جرائم کو فوری طورپرروکنے کے لئے کام کریں‘‘۔
غزہ سے تعلق رکھنے والے عام فلسطینی شہریوں نے بھی اس فیصلے کاخیرمقدم کیا۔غزہ شہرسے بے گھرہونے والے اوراس وقت دیرالبلاح کے مرکزی علاقے میں رہنے والے 40 سالہ محمدعلی نے کہاکہ’’ہمیں دہشت گردی کا نشانہ بنایاگیاہے۔ ہمیں بھوکارکھاگیاہے۔ہمارے گھر تباہ کر دئیے گئے ہیں۔ہم نے اپنی اولادیں،اپنے بیٹے اور اپنے پیارے کھو دئیے ہیں۔ہم اس فیصلے کاخیر مقدم کرتے ہیں اورظاہرہے،ہم امیدکرتے ہیں کہ آئی سی سی کے فیصلے پرعمل کیاجائے گا‘‘۔منیرہ الشامی،جن کی بہن گذشتہ ماہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہید ہو گئی تھیں،نے کہاکہ آئی سی سی کایہ فیصلہ ان کی’’بہن وفاسمیت دسیوں ہزارمتاثرین کے لئے انصاف‘‘کی طرف اشارہ ہے۔
برطانیہ سمیت کل124ممالک آئی سی سی کے دستخط کنندگان ہیں تاہم ان میں امریکا،روس،چین اوراسرائیل شامل نہیں ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تکنیکی اعتبارسے اگرنیتن یاہو یاگیلنٹ آئی سی سی کے دستخط کنندگان ممالک میں سے کسی بھی ملک میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں وہاں سے گرفتارکرکے عدالت کے حوالے کیاجاناچاہیے۔تاہم بین الاقوامی سطح پر وکلا نے شک کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ گرفتاری وارنٹ میں نامزددونوں شخصیات میں سے کسی کوبھی مقدمے کے لئے ’’دی ہیگ‘‘ میں پیش کیا جائے گا۔آخری بار جب نیتن یاہونے امریکا کا دورہ کیاتھاجہاں انہیں مکمل استثنٰی حاصل ہے تاہم گذشتہ سال انہوں نے برطانیہ سمیت کئی ممالک کادورہ کیاتھاجن میں سے کئی آئی سی سی کے دستخط کنندگان میں شامل ہیں لیکن کہاجارہاہے کہ اس کے کافی کم امکان ہیں کہ نیتن یاہودوبارہ ان ممالک جاکراس قسم کاخطرہ مول لیں گے۔اس کے علاوہ دستخط کنندگان ممالک بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ اس طرح کی صورتحال پیداہوجہاں انھیں نیتن یاہوکوگرفتارکرناپڑے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آئی سی سی کا یہ فیصلہ اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ان دوشخصیات اور خاص طور پراسرائیل کی جانب سے غزہ میں اپنی فوجی مہم کو اچھائی اوربرائی کے درمیان لڑائی کے طورپرپیش کرنے کی جاری کوششوں کے لئے بھی لیکن فلسطینیوں کواورخاص طورپروہ شہری جن کاغزہ سے تعلق ہے،انہیں اپنے صحیح ثابت ہونے کااحساس ہو رہاہے کیونکہ اب ایک بین الاقوامی ادارے کوبھی اسرائیل کے جنگی جرائم کے الزامات میں کچھ وزن نظرآرہاہے۔
نظریاتی طورپراتنے بڑے ایکشن یعنی کسی دوسرے ملک میں نسل کشی کوروکنے کے لئے فوج بھجوانے جیسے عمل کواقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ میں ہوناچاہیے لیکن اگریواین ایسانہیں کرتااور اسرائیل دنیاکے ردِعمل سے بے خوف،بے فکرہو کربازنہیں آرہاتوشایدچند ممالک خودایساکرنے کے بارے میں سوچناشروع کردیں (چند دن قبل یمن کی جانب سے فائرکیے گئے راکٹ کوامریکی بحری جہاز نے انٹرسیپٹ کیا) مگراس سے عالمی امن کوخطرہ لاحق ہوگا۔
آئی سی سی کی جانب سے جنگی جرائم کے مجرم قرار دئیے گئے سربراہانِ مملکت میں سربیاکے سابق صدر سلوبودان میلوسویچ، لائبیریاکے سابق صدر چارلس جی ٹیلر،بوسنیاکے سابق سرب صدررادووان کراڈزیچ، سوڈان کے سابق سربراہ مملکت عمرالبشیر، لیبیاکے سابق رہنما معمرقذافی،پیروکے سابق صدرالبرٹوفوجیموری اور دوسری عالمی جنگ کے بعدجرمن ایڈمیرل اورصدرکارل ڈونیٹز اور جاپانی وزیراعظم اورجنرل ہیڈیکی ٹوجواورکونی آکی کو ئسو وغیرہ شامل ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ نیتن یاہو کے ان جنگی جرائم میں ان ممالک کے سربراہوں کوبھی شامل کیاجائے گاجنہوں نے کھلم کھلانہ صرف اسرائیل کواسلحہ فراہم کیابلکہ غزہ،لبنان،شام اور یمن میں حملوں کی تائیدبھی کی؟اگرایساہواتوحالیہ منتخب امریکی صدرکی کابینہ کی نئی نامزدگیوں کے وارنٹ کون جاری کرے گاجوحماس کوجانورسے تشبیہ دیتے ہوئے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا کھلم کھلااعلان کرتے رہے ہیں اوراب بھی اپنے اسی مؤقف پرقائم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں