Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل دماغ

انسانی تاریخ کے ایک منفرد اور بے مثال دور میں ہم داخل ہو چکے ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی ترقی نے دنیا کو بدل کر رکھنے کا آغاز کردیا ہے۔ یہ ترقی نہ صرف ہمارے فہم اور اندازوں سے بالا تر ہے بلکہ ہمارے روزمرہ کے نظام کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔یہ بیماریوں کی تشخیص اور ان کا علاج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعہ کرنے کا آغاز کر کے عمر میں اضافہ کرکے عمر نوح سطح یعنی ہزار سال تک لے جاسکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا تصور محض ایک مشین کی محدود فعالیت تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ ایک ڈیجیٹل دماغ یا عقل فراست کے طور پر ابھر رہا ہے، جو عام انسانی ذہن سے کہیں آگے بڑھ کر فیصلہ سازی، مسائل کے حل، اور انتظامی امور کی نگرانی کر سکتا ہے۔ڈیجیٹل دماغ، جو جدید الگورتھم متعارف اور طاقتور کمپیوٹنگ پر مبنی ہے، اب انسانی ذہن کے کئی پہلوئوں میں برتری حاصل کر چکا ہے۔ یہ مشین محض انسان کے تیار کردہ اصولوں پر نہیں چلتی بلکہ ان اصولوں کو مزید ترقی دے کر نئے امکانات پیدا کررہی ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے حالات ہوں، ٹریفک جام یا قدرتی آفات، ڈیجیٹل دماغ ایک منظم نظام کے تحت حالات کا جائزہ لیتا ہے اور بہتر فیصلے کرتا ہے۔یہ آنے والے دنوں میں حکومتی نظام کو خودکار نظام میں بدل کر تمام اقدامات کا اعلان کرسکے گا۔
مصنوعی ذہانت مستقبل میں مذہبی معاملات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔مساجد، کلیسائوں، اور دیگر عبادت گاہوں میں مبلغ، خطیب، اور مفتی کی جگہ ایک ڈیجیٹل دماغ لے سکتا ہے، جواحادیث، اور مستند دینی روایات کی بنیاد پر فتوے اور خطبے دے سکتا ہے۔ اور اسے ہر زبان پر دسترس ہوگی۔مصنوعی ذہانت نے سماج کے مختلف شعبوں میں قابل ذکر کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے، اور آنے والے وقتوں میں یہ کردار مزید اہمیت اختیار کرے گا:یہ اداروں اور تنظیموں کو بہتر نظم و نسق کےذریعے چلا سکے گا ۔ڈیجیٹل ذہن جنگوں، زلزلوں، اور دیگر آفات کے دوران رہنمائی فراہم کرے گا، اور متاثرہ افراد تک وسائل پہنچائے گا۔
ٹریفک کے بہا ئوکو کنٹرول کرنا، حادثات کو روکنا، اور شہریوں کو بروقت رہنمائی فراہم کرسکے گا۔حتی کہ تعلیمی نظام امتحانات کا بروقت شیڈول، موسم یا دیگر عوامل کی پیش بندی کر سکے گا۔ یہ بات ہمارے علماء کو فتوی دینے سے پہلے اور عام المسلمین کو معلوم ہونی چاہئے کہ مصنوعی ذہانت کی بنیاد رکھنے والے اصول مسلم دانشور علماء نے صدیوں پہلے فراہم کیے تھے۔محمد بن موسی الخوارزمی نے الجبرا اور الگورتھم متعارف کروایا، جو آج کے کمپیوٹر سائنس کی بنیاد ہے۔الکندی اور دیگر مسلم سائنسدانوں نے سائنس، ریاضی، اور فلسفے کے میدان میں اہم خدمات انجام دیں، جن پر آج کی ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جہاں مصنوعی ذہانت کے فوائد بے شمار ہیں، وہیں اس کے ساتھ کئی چیلنجز بھی در پیش ہوں گے۔
کیا ڈیجیٹل دماغ انسانی جذبات، اخلاقیات، اور روحانی ضروریات کو مکمل طور پر سمجھ سکے گا؟کیا ہم مصنوعی ذہانت کو مکمل اختیار دے کر انسانی معاشرت کی اہمیت کو کمزور کر رہے ہیں؟ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل دماغ ایک نئی دنیا کا آغاز ہیں، جہاں انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں کو بدلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس ترقی کو انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کرنے کے لئے اپنے علمی ورثے کو یاد رکھیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹیکنالوجی انسانی اقدار، جذبات، اور روحانی پہلوئوں کو متاثر نہ کرے۔یہی وہ وقت ہے جب ہمیں سائنسی عقل کی روشنی میں اپنے دماغ کو قرآن فرمان علم وفکر اور فہم و تدبر سے زرخیز کرکے انسانی بہتری کی طرف لے جانا ہوگا۔اسلام تعلیمات نے ہمیں علم کے حصول کی نہ صرف تاکید کی ہے بلکہ اسے فرض قرار دیا۔اسلام کے ابتدائی دور میں مدینہ سے علم کا آغاز ہوا اور وہ غیر مسلم قیدی رسول اللہﷺ نے اس شرط پر رہا کردیئے جو مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سیکھانے پر تیار ہو گئے۔علم کو اہمیت دی گئی اور اس طرح اموی دورخلافت میں عظیم فتوحات کے ساتھ اندلس تک عظیم علمی مراکز قائم ہوئے۔ دنیا کی پہلی یونیورسٹی مدینتہ فاس میں قائم ہوئی اور عباسی دور میں عظیم علمی مرکز بیت الحکمت قائم ہوا۔ بدقسمتی سے اور تقدیر الٰہی سے خلافت عثمانیہ کے جنگ عظیم اول میں خاتمہ کے بعد صہیونی طاقتوں برطانیہ اور فرانس نے مسلمان ممالک کو تقسیم کر کے ان کو زیر تسلط کردیا۔ آج ضرورت ہے ایک قومی ملی وحدت فکر کی‘ جو تیزی سے بڑھتے ہوئے مصنوع ذہانت پر قائم ڈیجیٹل انقلاب کا مثبت استعمال اور استفادہ کا اہتمام کرسکیں۔ یہ مصنوعی ڈیجیٹل نظام روحانی انقلاب جو حضرت عیسی علیہ السلام کے ذریعہ آئے گا ‘ پر ختم ہوگا ۔اس روحانی انقلاب کا آغاز حضرت امام مہدی کے ظہور سے ہوگا اور حضرت عیسی کے نزول پر مکمل ہوکر پوری دنیا پر بپا ہوگا اور امن محبت‘ مادیت سے پاک اور خوشحالی سے بھر پور ہوگا۔ ان شا ء اللہ

یہ بھی پڑھیں