Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

دجالی فتنوں سے نمٹنے کےلئےعلماء کرام سےاتحاد اورقرآن سے رہنمائی

حالیہ ڈرامائی انداز میں سیریا حلب میں جو واقعات اور تبدیلی آئی، یہ آرمگڈان یا ملحمۃ الکبری کی طرف اشارہ ہے۔ دورِ حاضر میں امت مسلمہ کو جن فتنوں کا سامنا ہے، وہ کئی پہلوئوں سے دجالی پلان کا حصہ ہیں ۔ یہ فتنہ الحاد، فرقہ پرستی، مادیت پرستی، اور اسلام کی حقیقی روح کو کمزور کرنےکی کوششوں پرمبنی ہے۔ ایسے حالات میں امت مسلمہ، بالخصوص علماء کرام پر لازم ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں باہم متحد ہوں۔ پہلے خود فرقوں کو چھوڑ کر ایک ہو جائیں اور پھر مسلمانوں کو فرقہ واریت اور باہمی اختلافات سے نکال کر ایک امت بنائیں۔قرآن مجید نے واضح طور پر امت مسلمہ کو اتحاد اور اتفاق کی تلقین کی ہے اور فرقہ واریت سے سختی سے منع کیا ہے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، سب مل کر، اور تفرقہ نہ ڈالو۔(سورہ آل عمران: 103)
قرآن مجید نےفرقہ واریت کی سخت مذمت کی ’’ے شک جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہ گروہ ہو گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ (سورہ الانعام: 159) اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک میانہ رو امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔(سورہ البقرہ: 143)
امت مسلمہ کا مقصد ہے کہ وہ ایک معتدل اور متوازن امت بنے، جو دنیا کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہو۔آخرزمان کے دجالی فتنے تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ دجالی فتنے دورِ آخر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں، جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نےخبردار فرمایا:دجال کے فتنے سے بچو، اس سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہوگا۔(صحیح مسلم)
آج طرح طرح کے دجالی فتنے ظاہر ہو رہے ہیں اور ہم سوے ہوئے ہیں۔ آج الحاد دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے، امت مسلمہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہو کر اپنی اصل طاقت کھو چکی ہے۔ مادیت پرستی اوردنیا کی محبت اور آخرت سےغفلت دینی اقدار کو تباہ کر رہی ہے۔اسلاموفوبیا ، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ عروج پر ہے۔ دجالی فتنوں کا مقابلہ صرف قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے پر ہے اور کوئی راستہ نہیں۔باہمی اتحاد ہی امت کو بچانےکا راستہ ہے۔ علماء کا فرض ہےکہ وہ عوامۃ الناس کی علمی اور روحانی راہنمائی کریں اور دین کی دعوت کو حکمت اور دانشمندی کے ساتھ عام کریں۔ علماء کرام کی یہ ذمہ داری ہے۔ علماء کرام کو اپنے ذاتی ،مسلکی اورسیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اپنی انا کو اللہ اور امت کی بہتری اور اتحاد کے لیے چھوڑنا ہو گا تاکہ مسلمان یکجان ہو کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اللہ کی رضا اورخوشنودی کے لئے جمع ہوں۔ عوام کو یہ سمجھانا ضروری ہےکہ فرقہ واریت اسلام کی روح کے خلاف ہے اور صرف اللہ کی بندگی ہی کامیابی کا راستہ ہے۔علماء کو امت کے لیےایک ایسا لائحہ عمل تیارکرنا چاہیےجو قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی ہو اور دورِحاضر کےچیلنجز کا مقابلہ کرسکے۔ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی اصل ہے قرآن مجید کا پیغام واضح ہے کہ کامیابی صرف اللہ کے احکامات کی پیروی میں ہےاور اپنےرب کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار ہو جائو، اس سے پہلےکہ تم پرعذاب آجائے، پھرتمہاری مددنہ کی جائے۔(سورہ الزمر: 54) اللہ تعالیٰ ہمیں دجالی فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
-1 دین اسلام کی بنیاددین اسلام کی بنیاد اللہ کی توحید، اس کے احکامات کی پیروی، اور انبیا پر ایمان پر قائم ہے۔ تمام انبیا نےاپنی اقوام کو یہی پیغام دیا کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے بچیں۔آیت:ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔(سورہ النحل: 362 ) انبیاء کی دعوت ہر نبی نے اپنی امت کو دین اسلام کی دعوت دی، اگرچہ شریعت کےاحکام مختلف ہو سکتے تھےلیکن بنیادی اصول ایک ہی رہے: حضرت نوح علیہ السلام:اورمیں تمہیں اللہ کے عذاب سےبچانے والا ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں، کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو۔(سورہ نوح: 2-3)۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام:جب ان کے رب نے ان سے کہا کہ مسلمان ہو جا، تو انہوں نے کہا: میں رب العالمین کا مسلمان ہوں۔(سورہ البقرہ: 131)۔ حضرت موسی علیہ السلام: اور موسی نے کہا: اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم مسلمان ہو۔(سور ہ یونس: 84)۔ حضرت عیسی علیہ السلام: اور جب عیسیٰؑ نے بنی اسرائیل سے کہا: اے بنی اسرائیل!میں تمہارے لیے اللہ کا رسول ہوں۔(سورہ الصف: 63 )۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت اور دین کا تکملہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں جن کے ذریعے دین کو مکمل کر دیا گیا:
آیت:آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کیا۔(سورہ المائدہ: 3)۔
یہ آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ دین اسلام اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور اب قیامت تک یہی دین باقی رہے گا۔کیا دین اسلام نبی ﷺ تک محدود ہے؟یہ کہنا کہ دین اسلام صرف نبی کریم ﷺ کے زمانے سے ہے، درست نہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق دین اسلام تمام انبیا کا دین ہے۔ آیت:اورہم نے نوح، ابراہیم، موسی، اور عیسی کو حکم دیا کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔(سورہ الشوری: 13)۔ اسلام کا عمومی مفہوم اسلام کا مطلب ہے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا۔ یہ ہر اس دین اور شریعت کا جوہر ہے جو انبیا نے پیش کی۔خلاصہ: آدم علیہ السلام سے محمد ﷺ تک دین اسلام-
-1 دین اسلام تمام انبیا کی دعوت کا بنیادی پیغام تھا، جس میں اللہ کی توحید اور اطاعت شامل ہے۔
-2شریعت کے احکام مختلف زمانوں اور اقوام کے حالات کے مطابق بدل سکتے تھے، لیکن دین اسلام (یعنی اللہ کی بندگی اور توحید)ہمیشہ ایک جیسا رہا۔
-3نبی کریم ﷺ کے ذریعے دین اسلام مکمل ہوا اور اب قیامت تک یہی دین باقی رہے گا۔لہٰذا، اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کا پسندیدہ دین ہمیشہ سے اسلام رہا ہے، جو تمام انبیا کا مشترکہ دین ہے، اور نبی کریم ﷺ کے ذریعے اسے مکمل صورت میں پیش کیا گیا۔دین اسلام کی بنیاد اللہ کی توحید، اس کے احکامات کی پیروی، اور انبیا پر ایمان پر قائم ہے۔ تمام انبیا نے اپنی اقوام کو یہی پیغام دیا کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے بچیں۔

یہ بھی پڑھیں