Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

صحابی رسول حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ

آج کا موضوع ایک ایسے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جن کا تعلق فلسطین کے ایک انتہائی معزز و مکرم قبیلے سے تھا۔مذہباً عیسائی تھے اور عیسائی حلقوں میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ان کا اسم گرامی تمیم بن اوس داری تھا۔ عیسائی مذہب کے علماء سے گہرے تعلقات تھے اور ان کی محافل میں زیادہ اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے تورات اور انجیل سے متعلق گہری معلومات کے حامل تھے۔
حضرت تمیم داری ہجرت کے نویں یا دسویں سال مدینہ منورہ تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت اسلام سےسرفراز ہوئے۔جب ایمان لائے کے بعددینی علوم میں بھی گہری دلچسپی لی اور جلد ہی دین اسلام سیکھنے کی بے پناہ خواہش کی وجہ سے نبی معظم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریبی ساتھیوں میں شرکت کا اعزازحاصل کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ اجمعین میں شامل ہوگئے۔یوں جلدآپ کا نام صاحب بصیرت صحابہ کرام رضی میں ہونے لگا۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اتنے قریب ہوگئے کہ متعدد اہم مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی معیت ہی میں ہوتے۔یہاں تک کہ آپ کا نام راویان حدیث میں لیا جانے لگا۔
دجال سے متعلق مشہور و معروف حدیث جو حدیث “جساسہ” کے نام سے یاد کی جاتی ہے اور صحیح مسلم میں موجود ہے ۔اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ “حضرت تمیم داری جو پہلے عیسائی تھے اور بعد میں اسلام قبول کیا ۔انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا جو نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہما کو سنایا” اس میں بتایا گیا کہ” وہ سمندری سفر کے دوران ایک جزیرے پر پہنچے ،جہاں ان کا سامنا ایک عجیب مخلوق(جساسہ) سے ہوا یہ مخلوق انہیں ایک شخص کے پاس لے گئی جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا ،اس شخص نے اپنے بارے میں کہا کہ وہ دجال ہے اور اس کے نکلنے کا وقت قریب ہے”۔
یہ حدیث دجال کی حقیقت، اس کے ظہور اور فتنے کے باریمیں اہم معلومات مہیا کرتی ہے۔اس کا تذکرہ صحیح مسلم، “کتب الفتن “میں موجود ہے۔حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ ایک عابد و زاہد انسان تھے،شب بیداری ان کا معمول تھا ،راتوں کو طویل قیام فرماتے اوراپنا زیادہ وقت کلام پاک کی تلاوت کرنے میں صرف کرتے۔آپ کی عبادات کے معمول کو دیکھتے ہوئے حضرات صحابہ رضی اللہ تعالی عنہما انہیں “عاشق قرآن” کے لقب سے پکارنے لگے۔
آپ کی زندگی کا ایک مشہور واقعہ یہ بھی ہے کہ دور نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں جمعہ کے خطبہ کے دوران مسجد نبوی میں چراغ روشن فرماتے۔ان کے اس غیر معمولی عمل کی روایت ڈالنے پر نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کی تعریف فرماتے۔حدیث جساسہ کے علاوہ حضرت تمیم داری سے 17 احادیث مروی ہیں۔ان احادیث میں سے بعض کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم نے بیان کیا ہے ۔
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے حدیث جساسہ کے علاوہ ایک اور اہم حدیث نماز میں روشنی کی فضیلت کے بارے میں روایت کی ہے ۔ انہوں نے نبی اطہر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روبرو قرآن کی تلاوت کے دوران روشنی کے ظہور کا ذکر کیا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ روشنی ان کی تلاوت کی وجہ سے ظاہر ہورہی ہے ” ۔ اس پر رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کے عمل کی تعریف کی اور قرآن کی روشنی کو دنیا اور آخرت میں ہدایت سے تعبیر فرمایا”حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث میں اصلاح، خیر خواہی اور عبادات کی اہمیت جیسے موضوعات اجاگر کئے گئے ہیں۔
خلیفہ ثانی حضرت عمر خطابرضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دور خلافت میں فلسطین میں حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کو ایک قطعہ زمیں عطا فرمایا جہاں حضرت تمیم داری نے اسلام کی تبلیغ کا ایک مرکز قائم کیا اور ارد گرد کے علائق میں عام لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتے تھے۔حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی آخری زندگی فلسطین ہی میں گزاری اور وہیں 40 ہجری میں ان کا انتقال ہوا اور فلسطین ہی میں سپرد خاک کئے گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون

یہ بھی پڑھیں