اس دوران چین اورروس کی فوج کےمابین ہونےوالی متعددسرگرمیوں میں سےتقریباً نصف اعلیٰ سطحی ملاقاتوں پرمشتمل تھیں۔اس کےساتھ ساتھ ان میں6 مشترکہ مشقیں اورچھ پورٹ کالزبھی شامل تھی۔یہ اضافہ دونوں ممالک کی 2022ء کی’’نولمٹس‘‘شراکت داری کے بعددیکھنےکوملاہےجوامریکی اثرورسوخ کامقابلہ کرنےاورعلاقائی اورعالمی سلامتی کو برقراررکھنے کیلئے دونوں ممالک کےمشترکہ مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔اس سب کوخاص طورپر روس یوکرین جنگ کے تناظرمیں دیکھناضروری ہے۔ویتنام اور کمبوڈیا کے ساتھ بھی چین کی فوجی سفارت کاری میں اضافہ دیکھنے کوملا ہے۔عسکری سرگرمیوں کی بات کی جائے توروس کے بعدیہ دونوں ممالک دوسرے اورتیسرے نمبرپرہیں۔
ویتنام کے ساتھ عسکری سفارت کاری کے حوالےسےسرگرمیوں میں 9ملاقاتیں، 9عسکری سطح کےتبادلے اور3خیرسگالی کےدورےشامل ہیں جبکہ کمبوڈیاکےساتھ3خیرسگالی کے دوروں کے علاوہ2تربیتی سیشن کیےگئے۔چین کے قریبی دوست ملک پاکستان کے ساتھ ایک عسکری تقریب کےعلاوہ ملاقاتوں پرزوردیاگیا۔اسی طرح باوجود اس کے امریکا چین کے گرد حصارقائم کرنے کیلئے ’’کواڈ‘‘ کاقیام عمل میں لاچکاہے اور اس کیلئے وہ انڈیاکواستعمال کرنے کیلئے پوری طرح سرگرم بھی ہےلیکن انڈیا اورامریکاکےساتھ بھی چین کےاعلی سطحی اہلکاروں کی ملاقاتیں ہوتی رہیں ہیں۔
جنوبی افریقاچین کےساتھ ملاقاتوں اور خیرسگالی کےدوروں میں مصروف رہاجبکہ انڈونیشیا نےبنیادی طورپرخیرسگالی کےدورے کیے۔ کووڈ 2019ء سےپہلےچین نےشمالی کوریا کے ساتھ تین اعلی سطحی عسکری اجلاس کیےجس میں مرکزی فوجی کمیشن کےوائس چیئرمین ژانگ یوشیانے شرکت کی۔اپنی کووڈپابندیاں اٹھانےکےبعد سےچین نےشمالی کوریا کے ساتھ عوامی طورپرتوفوجی سفارت کاری دوبارہ شروع نہیں کی ہےجودونوں ممالک کے تعلقات میں جمودکی عکاسی کرتاہے۔ تاہم ماہرین کایہ بھی کہناہےکہ چین ایساشمالی کوریا کےذریعے روس کی بالواسطہ حمایت کرنے پرمغربی پابندیوں سےبچنےکیلئےکررہاہے۔
چین اورشمالی کوریاکے تعلقات کی 75ویں سالگرہ کےموقع پر6اکتوبر 2024ء کو چین نے چینی کمیونسٹ پارٹی کےسرکردہ رہنماژالیجی کوپیانگ یانگ بھیجالیکن دونوں طرف سے کسی فوجی رہنمانےاس تقریب میں شرکت نہیں کی۔شمالی کوریا کی2024ء کے شیانگ شان میں عدم موجودگی نمایاں تھی۔یہ فورم ایک سالانہ سیکورٹی سمٹ ہے جس میں شمالی کوریاعام طورپر شرکت کرتاہے۔اسی طرح، ایران کے ساتھ چین کی آخری عسکری سرگرمی اپریل 2022 ء میں ہوئی تھی، جب اس وقت کے چینی وزیردفاع وی فینگے نے اس وقت کے صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک کوئی عوامی دو طرفہ فوجی سفارت کاری نہیں ہوئی ہے، حالانکہ ایران مارچ 2023 ء اور مارچ 2024 ء میں چین اور روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں کا حصہ تھا۔بحیرہ جنوبی چین میں اپنے تسلط کو مزید مضبوط کرنے کیلئے اہم ترین آسیان ممالک کے ساتھ فوجی تعلقات استوار کر رہا ہے۔ ویتنام اور انڈونیشیا کے ساتھ تنازعات کے باوجود بیجنگ دونوں ممالک کے ساتھ فوجی سفارت کاری کو برقرار رکھتا ہے، جو اس کے اہم ایشیائی تجارتی شراکت داروں میں سے ہیں۔ چین کے سب سے قریبی سیاسی اتحادی سمجھے جانے والے لاؤس اور کمبوڈیا ان پانچ آسیان ممالک میں شامل ہیں جن میں ویتنام، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں۔
2024ء میں سب سےزیادہ فوجی سفارت کاری کی سرگرمیاں ایشیااوراوشیانامیں مرکوز کی گئی ہیں۔یورپ میں چین کی تقریبانصف عسکری سرگرمیاں روس کی وجہ سے ہیں۔ تاہم اس دوران برطانیہ،بیلاروس،سربیااورفرانس کے ساتھ بھی قابل ذکرملاقاتیں ہوئیں۔ اپریل 2023ء میں روس کی فیڈرل سکیورٹی سروس کے ساتھ طے پانے والے سمندری قانون نافذکرنے والے معاہدے کے بعد،2024 ء میں چینی ساحلی محافظوں کے گشت میں بھی اضافہ ہوا۔2024ء میں چین اورروس کی فضائی افواج،ساحلی محافظوں اوربحریہ کے درمیان مشترکہ گشت بحیرہ بیرنگ، شمالی بحرالکاہل،آرکٹک،پیسیفک اورشمال مغربی بحرالکاحل میں پھیل گیا۔پیپلزلبریشن آرمی نیوی نے چینی عسکری سفارت کاری میں تیزی سے اپنی جگہ بنائی ہے اوراب یہ اس حوالے سے پیپلزلبریشن آرمی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
گشت اورتربیت کے علاوہ،چینی بحریہ نے پورٹ کالزاورمیڈیکل مشنزکے ذریعے خیرسگالی کی کوششوں کووسعت دی ہے۔اپنے میڈیکل سہولیات فراہم کرنے والے جہازوں کے ذریعے مفت صحت کی دیکھ بھال کی پیشکش کی ہے۔ اکتوبر2024ء تک،اس نے22 پورٹ کالز اور 12میڈیکل وزٹ مکمل کیے، 2023ء میں17پورٹ کالزاورآٹھ میڈیکل وزٹس کیے گئے۔ خلیج عدن میں نیوی کے مشنز نے اپنی خیرسگالی کی سرگرمیوں کومزیدبڑھایاہے،اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیاہےاورچین کے ترقیاتی مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ عام طورپرچینی بحریہ اپنے سمندری راستوں کو قزاقی سےبچانےاوربین الاقوامی جہازرانی کی حفاظت کویقینی بنانے کیلئے حفاظتی مشن کے تین بیڑے بھیجتی ہےلیکن 2024ء میں خلیج عدن میں صرف ایک مشن تعینات کیا گیاتھاجسے تجزیہ کارچینی بحریہ کے آپریشنل تبدیلی کے طورپردیکھتے ہیں۔
یہ حکمت عملی کسی بحری بیڑے کوطویل عرصے تک خطے میں رہنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہےاور اسےملک جبوتی میں موجوداس کے اڈے سے لاجسٹک مددبھی ملتی ہے۔چین عالمی طورپراپنی سافٹ پاوربڑھانےکیلئےملک میں کانفرنسز، فورمز، کھیلوں کی سرگرمیاں، ایئرشوز، پریڈزاور دفاعی نمائشوں سمیت متعدد فوجی تقریبات کی میزبانی کرتارہاہے اور 2023ء کے مقابلےمیں 2024ء میں ان میں اضافہ دیکھنےکومل رہاہے۔ ان میں سےچین نے2023ء میں 7 اور اکتوبر 2024ء میں9 تقریبات کی میزبانی کی۔ چین نے 18بین الاقوامی ایونٹس میں فوجی نمائندے بھیجے۔ان میں3دفاعی نمائشیں اور5فضائی شوشامل تھے،جوبنیادی طورپر ایشیا ،اوشیانا ،مشرق وسطی اور افریقامیں منعقدکیے گئے تھے۔
اگرچہ چین کایہ دعویٰ ہےکہ اس نےغربت کا خاتمہ کردیاہےمگرملک بھرمیں لاکھوں مزدوراور فیکٹری ورکرز،جنہوں نے چین کے عروج میں حصہ ڈالا،پریشان ہیں کہ اب آگے کیا ہونےوالاہے۔ اس کامستقبل اورچین کی معیشت کامستقبل جزوی طورپراس بات پر منحصر ہو سکتاہےکہ ٹرمپ چینی اشیاپراپنےٹیرف کے بارے میں کتنےسنجیدہ ہیں۔ عالمی ماہرین کے مطابق اس باربیجنگ(ہر طرح کی صورتحال کیلئے)تیارہے۔
ان کے مطابق چین نے پہلے ہی اپنے زرعی درآمدات کے ذرائع کو متنوع بنانا شروع کر دیا ہے (خاص طور پر برازیل، ارجنٹائن اور روس سے) اور غیرامریکی اتحادی ممالک میں اپنی برآمدات کےحجم میں اضافہ کیا ہے۔ مقامی طور پرحالیہ مقامی حکومت کے قرضوں کی دوبارہ سرمایہ کاری بھی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی جنگ پر منفی اثرات کو دور کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
اس وقت امریکا نےچین میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔2020ء میں 117بلین ڈالر،2021ء میں پھر براہ راست116بلین ڈالراور 2022 ء میں امریکا کی چین میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 123 بلین ڈالرجو 2021 ء کے مقابلےمیں 9فیصد زیادہ تھی۔2023 ء میں براہ راست سرمایہ کاری 127 بلین ڈالرکی گئی۔ یادرہےکہ چین میں امریکا کی براہ راست سرمایہ کاری مینوفیکچرنگ، تھوک تجارت، اورمالیات اورانشورنس کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ نئی نامزدگیوں میں ارب پتی ایلون مسک کانام بھی شامل ہےجو ٹرمپ کے انتہائی قریبی ساتھی ہیں۔ ان کی کمپنی ٹیسلاچین پر انحصار کرتی ہے۔ اس کی تمام الیکٹرانک گاڑیاں ’’ای ویز‘‘ کا تقریباً نصف حصہ چین میں تیار ہوتا ہے۔ چینی رہنما اس پر غور کر سکتے ہیں کہ کیا امریکی سرمایہ کار اور ایلون مسک ٹرمپ کے تجارتی عزم میں فرق ڈال سکتے ہیں، لیکن 21ویں صدی کی عظیم طاقت کی جدوجہد صرف تجارت پر نہیں ہے۔ صدر شی کے خواب میں چین کو دنیا کی غالب طاقت بنانا بھی شامل ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ٹرمپ کا ایک اور دورِ صدارت بیجنگ کو ایک ایسا موقع فراہم کر سکتا ہے جس سے صدر شی کے خوابوں کو حقیقی تعبیر مل سکتی ہے۔