Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

کیا بشار الاسد کا اقتدار خطرے میں ہے؟

گزشتہ برس سے جاری انسانیت سوز خونریزی ابھی جاری ہے کہ ایک مرتبہ پھرشام میں اچانک چھڑجانے والی جنگ نے قیامت برپاکردی ہے۔حلب میں تازہ حملے کے پیچھے ایک خاص منصوبہ کارفرمانظرآتاہے کہ اس وقت ایران اوراس کے تمام پراکسی گروپ اپنی بقاکی جنگ میں مصروف ہیں اوران کی اس کمزوری کافائدہ اٹھانے کا یہی صحیح وقت ہے۔شام میں گزشتہ چند دنوں میں پیش آنے والے واقعات اس بات کاواضح ثبوت ہیں کہ مشرق وسطی میں جاری تنازع تھم نہیں رہابلکہ شدت اختیارکررہاہے۔
2011ء کے بعدتقریباً ایک دہائی کی جنگ کے باوجودشام کے حکمران بشارالاسد اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب رہے تھے اوراس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے والد سے ورثے میں ملنے والی حکومت کو بچانے کیلئے ملک کوتوڑنے کیلئے تیارتھے۔انہوں نے روس، ایران اورلبنان کی حزب اللہ جیسے طاقتور اتحادیوں پرانحصارکیاجنہوں نے داعش سمیت امریکی اورمشرق وسطی کے دیگرممالک کے حمایت یافتہ گروہوں سے نمٹنے میں شام کی مددکی لیکن پھر ایران کواسرائیلی حملوں کاسامناکرناپڑاجبکہ حزب اللہ، جواپنے بہترین جنگجو شام میں لڑائی کیلئے بھیجا کرتی تھی،کوبھی اسرائیلی حملوں کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھاناپڑا۔روس نے گزشتہ چنددنوں میں شام میں باغیوں کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں لیکن اس کی عسکری طاقت مکمل طورپر یوکرین سے نبردآزماہے۔ایسے میں شام میں جاری جنگ مکمل طورپرختم نہیں ہوئی تھی،ہاں یہ ضرورہواکہ خطے اوربین الاقوامی تنازعوں کے بیچ شام کی خانہ جنگی شہ سرخیوں میں اپنی جگہ برقرارنہیں رکھ سکی۔ چند مقامات پرجنگ معطل ہوئی لیکن یہ معاملہ ادھورارہا۔
بشارالاسدکی حکومت2011ء کی طرح سے مکمل طاقت پھرسے حاصل نہیں کرپائی اگرچہ اس کی جیلیں قیدیوں سے بھرچکی تھیں۔ لیکن چندروز قبل تک شام کے اہم شہراورمرکزی شاہراہیں بشارالاسدکے کنٹرول میں تھے لیکن ہیئت التحریر الشام نے27نومبرکے بعدترکی کی سرحد سے منسلک ادلب صوبے سے نکل کرچندہی دن میں شامی فوجیوں کوناقابلِ یقین شکست سے دوچار کرکے خطے کے دیگرممالک کوبھی حیران کردیا ہے۔اس برق رفتارحملے کے دودن بعدہی حلب کے قدیم شہرسے جنگجوؤں کی تصاویرسامنے آنے لگی تھیں جو 2012 ء سے2015ء تک شامی فوج کا ’’ناقابل تسخیر اڈہ‘‘سمجھاجاتاتھا۔اس وقت یہ شہرحکومتی فوج اورباغیوں کے درمیان لڑائی کا مرکز تھا۔حلب پرقبضے اورشامی فوج کی شکست کے بعد ماحول کافی پرسکون دکھائی دیا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک تصویرمیں یونیفارم میں ملبوس مسلح جنگجوایک فاسٹ فوڈریسٹورنٹ میں فرائیڈ چکن کیلئے قطاریں بناکر انتظار کرتے دکھائی دیئے۔
ہیئت التحریر الشام نے2016ء میں القاعدہ سے اپنی راہیں جداکرلی تھیں اورایساوقت بھی آیاجب ان دونوں کے بیچ لڑائی بھی ہوئی۔ ہیئت التحریرالشام کواقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سمیت امریکا،یورپی یونین،ترکی اوربرطانیہ نے ’’دہشت گرد‘‘قراردے رکھاہے۔ اس کے سربراہ ابومحمدالجولانی عراق اورشام میں طویل تاریخ رکھتے ہیں۔حالیہ برسوں میں انہوں نے جہادی نظریے سے ہٹ کر زیادہ بڑے پیمانے پراپنے گروہ کوحمایت دلوانے کی کوشش کی ہے۔اب یہ گروہ اپنی زبان اوراعلانات میں اسلامی یاجہادی نظریات کے استعمال سے پرہیزکرتاہے۔ان کی کوشش ہے کہ اپنے ماضی سے دوری اختیارکرے اوراپنے حملے کوشامی حکومت کیخلاف مزاحمت کے طورپرپیش کرے۔
واضح رہے کہ شام کے شہری شدت پسندانہ جہادی نظریات کوپسندنہیں کرتے ہیں۔ 2011ء میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعدجب جمہور پسنداحتجاج کی قیادت جہادی گروہوں کے ہاتھ آگئی توبہت سے شامی شہری اس سے دور ہوتے چلے گئے یاانہوں نے مجبوراً حکومت کاساتھ دیا کیوںکہ انہیں داعش جیسی انتہاپسندانہ سوچ سے خوف آتاتھا۔
حالیہ حملہ،جس کی قیادت ہیئت التحریر کر رہی ہے،شمالی شام کے سیاسی منظرنامے سے تعلق رکھتاہے۔شمال مغرب میںــشامی ڈیموکریٹک فورسز‘‘ کاغلبہ ہے جس کی سربراہی کردکر رہے ہیں اورانہیں امریکاکی حمایت حاصل ہے۔اس علاقے میں900امریکی فوجی بھی تعینات ہیں۔اس تنازع میں ترکی بھی ایک بڑاکھلاڑی ہے جس نے سرحدوں پراپنے فوجی تعینات کررکھے ہیں اورچند عسکری گروہوں کی حمایت بھی کرتاہے۔شام سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ہیئت التحریر نے سرکاری ہیلی کاپٹروں سمیت عسکری ساز و سامان کی وافرمقدارپربھی قبضہ کرلیاہے اور اب دمشق کے راستے پراگلے اہم شہرحماکی جانب رخ کررہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ شام کی حکومت اوراس کے اتحادی فضائی طاقت سے جوابی کارروائی کریں گے۔باغیوں کے پاس ایئر فورس نہیں ہے۔تاہم ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ باغیوں نے ڈرون کی مددسے شام کے ایک سینئر انٹیلی جنس افسرکوماردیا ہے،ایسے میں شام کی صورت حال بین الاقوامی سطح پرخطرے کی گھنٹیاں بجارہی ہے۔شام میں باغیوں نے کئی سال بعد حکومتی افواج کے خلاف ایک بڑاحملہ کیاہے جس سے یہ تاثرزائل ہواکہ ان کی عسکری طاقت ختم ہوچکی تھی۔
ہیئت تحریرالشام کے غیرمتوقع حملے نے شام کے دوسرے بڑے شہر،حلب پرقبضہ کرتے ہوئے سرکاری فوج کوبے دخل ہونے پر مجبور کردیا۔ اس حملے کاایک اورنتیجہ یہ نکلاکہ روس نے 2016ء کے بعدشام میں پہلی بارفضائی کارروائیاں کیں جن میں حلب میں باغیوں کونشانہ بنایاگیا۔شام کی خانہ جنگی کے آغازکے14برس بعدایک بارپھرسے چھڑ جانے والی جنگ نے ان خدشات کوجنم دیا ہے کہ یہ تنازع آسانی سے ختم ہونے والانہیں۔2018ء سے شام خانہ جنگی کی وجہ سے تین حصوں میں بٹ چکاہے۔ایک جانب بشار الاسدکی حکومت کے زیرکنٹرول علاقے ہیں تودوسری جانب ہیئت تحریرجبکہ تیسرا علاقہ کردوں کے زیراثرہے لیکن وہ کیاوجوہات ہیں جن کے باعث شام میں خانہ جنگی کاخاتمہ مشکل ہے؟
شام ایک عالمی شطرنج بن چکاہے جہاں مخالف طاقتیں اپنے سٹریٹیجک مقاصدکے حصول میں مقامی اتحادیوں کی مددکررہی ہیں۔ ایک جانب بشارالاسدکی حکومت ہے جسے ایران اورروس کی حمایت حاصل ہے تودوسری طرف وہ مسلح حزب مخالف گروہ ہیں جن کی پشت پناہی ترکی،سعودی عرب اورامریکاکررہے ہیں۔جیسے جیسے تنازع بڑھتاگیا،داعش اور القاعدہ بھی میدان میں داخل ہو گئے اورعالمی خدشات بھی بڑھتے چلے گئے۔
شام کے کردشہری امریکی حمایت کی مدد سے اپنی حکومت قائم کرنے کے خواہش مندہیں جس سے اس بحران کی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ روس اورایران نے بشارالاسدکی حکومت کو برقراررکھنے میں کلیدی کرداراداکیاہے جبکہ ترکی شمال میں اپنی سرحد سے ملحقہ علاقوں کے نزدیک مسلح گروہوں کی مدد کرتا آیا ہے۔ 2020ء میں روس اورترکی نے ادلب میں جنگ بندی کامعاہدہ کروایااورمشترکہ پیٹرولنگ کیلئے ایک سکیورٹی راہداری قائم کی۔اگرچہ اس معاہدے کے بعدبڑے پیمانے پرجھڑپیں ختم ہوگئی تھیں لیکن شام کی حکومت مکمل کنٹرول حاصل نہیں کرپائی۔ایسے میں موجودہ صورتحال میں کمزورحکومت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیئت تحریرپھر متحرک ہوئی کیوںکہ بشارالاسدکے اہم حامی، روس اورایران، دیگر تنازعوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
بشارالاسدکی حکومت کئی سال سے بیرونی سہاروں پربھاری انحصارکررہی تھی لیکن اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں حزب اللہ کوپہنچنے والے نقصان اوریوکرین میں روس کی توجہ کی وجہ سے شام کی حکومت تنہارہ گئی تھی اوریہی موقع تھاجب ہیئت تحریرنے اچانک حملہ کیااورعلاقوں پرقبضہ کرناشروع کیا۔تاہم جنگ دوبارہ شروع ہونے کی وجہ شمال میں مقامی عدم استحکام ہے جوحل نہیں ہوسکااورساتھ ہی بیرونی امدادکی کمی ہے جس پر بشارالاسدکاانحصارتھا۔
کئی سال کی خانہ جنگی نے شام کوتباہ حال کردیاہے،معیشت کابراحال ہے اورلاکھوں لوگ متاثرہوئے ہیں۔ایسے میں بحالی کا راستہ بھی واضح نہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق جنگ سے قبل شام کی آبادی دوکروڑ20لاکھ تھی جس کا نصف بے گھرہوچکاہے۔ تقریباً 20لاکھ لوگ اب بھی بنیادی سہولیات سے محروم کیمپوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔60لاکھ ملک چھوڑکرلبنان،اردن اور ترکی جاچکے ہیں۔صرف ترکی میں50لاکھ سے زیادہ شامی شہری بطورپناہ گزین موجودہیں۔ان حالات میں جبکہ صورتحال بھی غیرواضح ہے اور بہت سے مقامات پرلڑائی جاری ہے،اس لئے یہ خدشہ بڑھ گیاہے کہ جنگ سے متاثرہ افرادبھی ان کیمپوں کارخ کریں گے جہاں پہلے ہی20لاکھ افرادموجودہیں،وہاں اب مزید لوگوں کی گنجائش نہیں ہے۔موجودہ لڑائی سے قبل شام میں تقریباً ایک کروڑ50لاکھ سے زیادہ لوگوں کوانسانی امدادکی ضرورت تھی جوکہ ایک بڑی تعدادہے۔ ایک کروڑ20لاکھ افرادکوغذائی قلت کا سامنا تھا ۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں