Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

کیا بشار الاسد کا اقتدار خطرے میں ہے؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
بشارالاسدکی حکومت اقتداربرقراررکھنے کیلئے تشدداورجبرپرانحصارکرتی آئی ہے جس سے نہ صرف تنازع طول پکڑتاچلاگیا بلکہ ان کے خلاف عوام میں غصہ بھی بڑھتاگیا۔2021 کی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، گنجان آبادآبادیوں پرفضائی حملوں سمیت ایسی حکمت عملی کے شواہدموجودہیں جن میں عام شہریوں کو خوراک سے محروم رکھنے کے مقصد سے باغیوں کے زیراثرعلاقوں کا گھیراؤ کیا گیا اورانسانی امدادکی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ یورپین کونسل آن فارن ریلیشنزکے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقاپروگرام کے مطابق’’آمرانہ طرزِ حکومت اس تنازع میں مرکزی کردارکاحامل ہے کیونکہ بشارالاسد حکومت نے تسلسل سے سمجھوتہ کرنے یاشراکت اقتدارسے انکار کیا ہے‘‘۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ شام میں جاری تنازع میں سیاسی اختلافات کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ تفریق بھی کارفرماہے۔جنگ کے ابتدائی دنوں سے کرداکثریتی علاقوں پرحکومت کا کنٹرول نہیں ہے جبکہ داعش کے بچ جانے والے جنگجوشام کے وسیع صحراؤں میں اب بھی موجودہیں اورلوگوں کیلئے خطرے کاباعث ہیں۔ترک حمایتی گروپ سمیت کئی گروہوں کی ایس ڈی ایف سے جھڑپیں ہوتی آئی ہیں۔ایس ڈی ایف میں کردش گروپ وائے پی جی کے جنگجو شامل ہیں جنہیں ترکی شدت پسند تنظیم کہتا آیا ہے۔ ہیئت تحریرکی حالیہ کارروائیوں کے شروع ہونے کے کچھ ہی روز بعدترک حمایت یافتہ فری شامی آرمی نے دعویٰ کیاکہ اس نے حلب کے مضافاتی علاقوں پرقبضہ کرلیا ہے تاہم یہ علاقے بشار الاسد کی فوج کے کنٹرول میں نہیں تھے بلکہ یہاں ایس ڈی ایف قابض تھی جس سے ان تنظیموں کے درمیان موجود اختلافات واضح ہوتے ہیں۔
ادھردوسری طرف شام میں باغی فورسزنے ملک کے دوسرے بڑے شہرحلب کے ’’اکثریتی‘‘علاقے پرقبضہ کرلیاہے۔2016کے بعد گزشتہ ہفتے کی شام روس نے پہلی مرتبہ حلب پرفضائی حملے بھی کیے ہیں۔شامی ادارے کاکہناتھاکہ ملک میں حالیہ شروع ہونے والی لڑائیوں میں اب تک20عام شہریوں سمیت 300سے زیادہ افرادہلاک ہوگئے ہیں۔ 2016 میں بشارالاسدکی افواج نے حلب سے باغیوں کو علاقہ بدرکردیاتھااوراس کے بعدسے یہاں پرکوئی بڑا حملہ نہیں ہواتھا۔اب شامی فوج نے تصدیق کی ہے کہ باغی شہرکے ’’بڑے حصے‘‘میں داخل ہوگئے ہیں اوراس دوران درجنوں فوجی ہلاک اورزخمی بھی ہوئے ہیں۔2011ء میں جمہوریت کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کے بعدشروع ہونے والی خانہ جنگی میں5لاکھ سے زیادہ افرادہلاک ہوئے تھے ۔ اس وقت بشارالاسدکے مخالفین نے اس خانہ جنگی کا فائدہ اٹھایاتھااورملک کے بڑے حصوں پر قبضہ کرلیاتھا تاہم بعدمیں شامی حکومت نے روس، ایران اور دیگر اتحادیوں کی مددسے تقریباً تمام علاقوں کاکنٹرول واپس لے لیاتھاصرف ادلب وہ واحد علاقہ تھاجس کاکنٹرول ہیئت تحریر کے پاس تھا۔اس صوبے میں کچھ علاقوں میں ترکی کے حمایت یافتہ جنگجوبھی موجودہیں۔جمعے کوحلب میں روس نے23 فضائی حملے کیے تھے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس نے شام میں ’’انتہا پسند قوتوں‘‘ پرحملہ کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان کے مطابق روس’’شام میں امن قائم رکھنے کیلئے حکومت‘‘کی حمایت جاری رکھے گا۔
حلب شہرپرتازہ حملے ہیئت تحریرکی قیادت میں ہوئے ہیں جس کاشامی تنازع میں ایک عرصے سے کرداررہاہے۔ہیئت تحریرکا وجود2011میں جبہ النصرہ کے نام سے سامنے آیا تھا ، جوکہ القاعدہ سے منسلک ایک گروہ تھا۔داعش کے سابق سربراہ ابوبکر البغدادی کابھی اس گروہ کوبنانے میں کردارتھا۔ اس گروہ کوشام میں بشارالاسدکاسب سے خطرناک ترین مخالف سمجھاجاتاتھا۔ 2016ء میں جبہ النصرہ کے سربراہ ابومحمد الجولانی نے القاعدہ سے قطع تعلق کرلیااوراس تنظیم کوتحلیل کرکے دیگرگروہوں سے اتحادکرکے ہیئت تحریرکی بنیاد رکھ دی ۔القاعدہ سے تعلق توڑنے کے بعدہیئت تحریرکامقصددنیامیں خلافت قائم کرنانہیں بلکہ شام میں مذہبی حکومت قائم کرناہے ۔گذشتہ4برسوں میں ایسالگ رہاتھاجیسے شام میں جنگ اب ختم ہوگئی ہے اوربشارالاسدکی حکومت ملک کے بڑے حصوں پر کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔بشارالاسدکی اس فتح کے پیچھے روسی فضائیہ اوراہم اتحادی ایران کی عسکری قوت کا بھی ہاتھ تھا۔دوسری جانب ایران یہ ماننے کوتیارنہیں کہ حلب کاکنٹرول شامی حکومت کے ہاتھ سے چلاگیاہے۔ ایرانی نیوزایجنسی کے مطابق لبنان میں ایرانی سفیرمجتبیٰ امانی کاکہناہے کہ حلب پردہشت گردوں کے قبضے ’’کی غلط افواہیں سائبرآرمی‘‘کی جانب سے پھیلائی جارہی ہیں ۔ اب شامی حکومت مضبوط ہے اورروسی حکومت بھی شام کادفاع کرنے کیلئے پرعزم ہے۔مزاحمتی محاذ اورایران شامی حکومت اوراس کے عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔ابھی یہ تحریرمکمل نہیں ہوئی تھی کہ خبرملی کہ مجاہدین دمشق میں داخل ہوگئے ہیں اور سرکاری ٹی وی اورریڈیو سے بشاالاسدکی حکومت کا تختہ الٹنے اورسیاسی قیدیوں کورہاکرنے کااعلان ہو گیاہے۔بظاہرتوایسالگتا ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت محض چنددنوں میں گرگئی لیکن یہ معاملہ اتناسادہ نہیں اوراس کے پیچھے کئی عوامل شامل ہیں ۔ سالوں سے اپنی ہی عوام کے خلاف جاری جنگ نے بشار الاسدکی فوج کوبہت کمزورکردیاتھا تاہم اس کے باوجود جتنی جلدی یہ ہوا،وہ بہت حیران کن ہے۔
شام کے تیسرے بڑے شہرحمص پرباغیوں کے قبضے کے کچھ ہی دیربعداطلاع آئی کہ مجاہدین دمشق میں داخل ہوگئے ہیں اوریہ خبرملتے ہی بشارالاسد ایک طیارے میں دمشق سے نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔ شامی انقلاب اوراپوزیشن فورسزکے قومی اتحاد کے سربراہ ہادی البحرا نے کہاہے کہ بشارالاسدکی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ’’شام کے تاریک دور‘‘ کا خاتمہ ہوگیاہے۔انہوں نے عوام کویقین دلایاکہ دمشق میں صورتحال محفوظ ہے اورتمام افراداپنے گھروں میں بناکسی فرقہ وارانہ یامذہبی تفریق کے محفوظ ہیں،کسی کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی نہیں ہوگی۔دمشق میں موجودتمام مجاہدین کوحکم دیاگیاہے کہ کوئی بھی عوامی اداروں میں داخل نہ ہواورہوائی فائرنگ پربھی پابندی عائد کردی ہے۔اقتدار کی باضابطہ منتقلی تک عوامی ادارے وزیرِاعظم محمدالجلالی کے ماتحت کام کرتے رہیں گے۔محمد الجلالی نے اعلان کیاہے کہ عوام جس کوبھی چنیں گے وہ اقتدارکی منتقلی کے کسی بھی طریقہ کار کیلئے تیارہیں۔
یادرہے کہ سب سے زیادہ منظم اور طاقتور ’’ہیئت تحریرالشام‘‘انقلاب کی قیادت کررہی ہے۔ دیگر گروہوں کے مقابلے میں اس پرغیرملکی طاقتوں کااثرورسوخ بہت کم ہے۔دیگر گروپس ترکی کے زیرِاثرچل رہے ہیں۔ابھی یہ دیکھناباقی ہے کہ یہ گروپس موجودکردگروہوں کے ساتھ کیسے ہم آہنگی برقراررکھتے ہیں۔اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے 2015ء میں منظور ہونے والی قراردار کے تحت امن کاایک منصوبہ پیش کیاگیاتھا۔اس کے مطابق یہ طے ہواتھاکہ شام کے لوگ ہی ملک کے مستقبل کافیصلہ کریں گے۔بشارالاسداقتدارکی قربانی کیلئے تیارنہیں ہورہا تھا لیکن آج وقت نے ثابت کردیاکہ بالآخرہزاروں بے گناہوں کی آہوں کوبھی منزل نے اپنی بانہوں میں لینے کافیصلہ کرلیاہے۔

یہ بھی پڑھیں