Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ٹرمپ کا امن منصوبہ اور سعودی ردعمل

ڈونلڈٹرمپ20جنوری2025ء کو اپنے دوسرے صدارتی دورکاآغازکرنے دوبارہ وائٹ ہائوس واپس آرہے ہیں اور ان کی متوقع کابینہ کی نامزدگیوں سےاب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کس قدر اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کرسکیں گے اوربالخصوص ایران کے اسرائیل پر جوابی حملوں کےوقت ٹرمپ کے بیانات نے بھی واضح کردیاتھاکہ وہ آئندہ کن پالیسیوں پر کام کرنے جارہے ہیں۔ان میں سے سب سے زیادہ قابلِ ذکرمشرق وسطیٰ میں امن کے لئے ان کی وہ تجویزتھی جس پران کے پہلےصدارتی دورکے دوران عمل نہیں کیاگیا تھا۔کیااب ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی پراسرائیل کوسعودی عرب اوراسلامی دنیاکے لئےقابلِ قبول ریاست بنانے کامنصوبہ دوبارہ شروع ہوگا؟
ٹرمپ کےدوسرے صدارتی دورکاآغازایک ایسے وقت میں ہورہاہےجب غزہ کی پٹی میں ایک سال سے زائدعرصے سےجنگ جاری ہے اورچارسال پہلے کے مقابلے میں امریکاسمیت دنیاکوایک مختلف حقیقت کاسامناہے۔اس صورتحال میں یہ خدشات یقین کی حدکوچھونے لگے ہیں کہ ٹرمپ کے مشرق وسطی کے لئے منصوبہ،جسے میڈیامیں’’صدی کی ڈیل ‘‘ کے نام سےجانا جاتا ہے،اس کے نفاذکے لئے اسرائیل کی نہ صرف مکمل حمائت کریں گے بلکہ طاقت کے استعمال سے بھی گریزنہیں کریں گے اوراسے ہرحال میں مستقبل میں نافذ کرنے کی کوشش کریں گے اوراس منصوبہ کوانہوں نے فلسطینیوں کیلئے’’شایدایک آخری موقع‘‘قراردیا تھا۔ فلسطینیوں کی بےچینی مزیدبڑھ گئی ہےکیونکہ وہ اس منصوبہ کواس بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر فلسطینیوں کےحقوق سےمتصادم سمجھتےتھے،خاص طورپرسرحدوں، پناہ گزینوں اور یروشلم کےمسائل کےحوالے سے روئے زمین سے بیت المقدس کے وجودکومکمل ختم کرکے وہاں ہیکل سلیمانی کی تعمیرہےجوتمام عالم اسلام کے لئے ایک چیلنج ہوگا۔
جہاں تک نتن یاہوکاتعلق ہے انہوں نے اس منصوبے کااعلان کرتے ہوئے کہاتھاکہ’’صدی کا معاہدہ،اس صدی کاایک اہم موقع ہے،اور ہم اسےضائع نہیں کریں گے‘‘۔یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاسی امورکے تجزیہ کاروں کوتوقع ہے کہ ٹرمپ اپنی اگلی مدت میں مشرق وسطی کے اپنے امن منصوبے کودوبارہ شروع کریں گے لیکن اسے ایک نئی شکل میں دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کے بارے میں بہت سے مباحثے جاری ہیں۔ 28جنوری2020ء کوٹرمپ نے مشرق وسطی امن منصوبے کااعلان کیاتھاجس میں سخت شرائط کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست کےقیام،مغربی کنارے کی بستیوں اوروادی اردن کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کرنے، اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کےحق کا اطلاق نہ کرنے کامطالبہ کیا گیاتھا۔
اس منصوبے میں فلسطینیوں کوایک ریاست قائم کرنےکاحق دیاگیاہےلیکن اس منصوبے میں اسرائیل کوایک’’یہودی ریاست‘‘کےطورپرتسلیم کرنےسمیت’’تمام قسم کی دہشت گردی کو واضح طورپرمستردکرنے‘‘کی شرائط شامل تھیں۔اس منصوبے کےمطابق مجوزہ فلسطینی ریاست کو’’غیرعسکری‘‘کردیاجائے گااور اسرائیل کے پاس وادی اردن کے مغربی علاقے میں سکیورٹی اورفضائی حدود کےکنٹرول کی ذمہ داری ہوگی جبکہ حماس،جوغزہ کی پٹی کاانتظام سنبھالتی ہے کو ’’غیرمسلح‘‘ کیاجائے گا۔
ٹرمپ کے پہلےدورِصدارت میں مجوزہ فلسطینی ریاست کاجونقشہ تجویزکیاگیاتھااس کے مطابق 1967ء سےاسرائیل کےزیرقبضہ تمام فلسطینی علاقوں پرفلسطینی ریاست قائم نہیں ہو گی اورنہ ہی اس سے متصل ہوگی۔اس منصوبے میں اس بات پربھی زوردیاگیا کہ یروشلم’’اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت رہے گا‘‘جبکہ فلسطینی دارالحکومت مشرقی یروشلم کےحصے میں ہوگا۔اس منصوبے میں کہاگیاکہ’’فلسطینی دارالحکومت کفر عقب ، شوافات کے مشرقی حصے اورابودیس میں ہوسکتاہے اوراسے یروشلم یاریاست فلسطین کی طرف سے کوئی دوسر ا نام دیاجاسکتا ہے ۔
اس منصوبے میں فلسطینی پناہ گزینوں کے ’’اپنے گھروں کوواپسی‘‘کے حق کی شرط نہیں رکھی گئی تھی اورتین تجاویزدی گئی تھیں جن میں:نئی فلسطینی ریاست میں واپسی،ان کامیزبان ممالک میں انضمام،یااسلامی تعاون تنظیم میں شرکت کے خواہشمند ممالک میں تقسیم شامل تھی۔اس منصوبے میں یروشلم میں مسجداقصیٰ کے کنٹرول کے بارے میں کہا گیاکہ صورتحال جوں کی توں رہے گی، اوراسرائیل یروشلم میں مقدس مقامات کی حفاظت جاری رکھے گااورمسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں اوردیگرمذاہب کے لئے عبادت کی آزادی کی ضمانت دے گا‘‘۔منصوبے کے تحت،اردن یروشلم میں مسجد اقصیٰ کےحوالےسےاپنی ذمہ داریاں برقراررکھے گا۔
اسرائیلی امورکے مصنف اورنذیرمجالی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے نئے دور میں اس امن منصوبے کی واپسی کے امکانات بہت زیادہ ہیں لیکن ضروری نہیں کہ یہ اسی شکل اورشرائط میں دوبارہ پیش کیاجائے۔مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ واشنگٹن کے مطابق دنیا ’’صدی کے معاہدہ’’نامی امن منصوبے کوایک ترمیم شدہ،تبدیل شدہ شکل میں دیکھیں گے اورٹرمپ اسے ’’ڈیل آف دی سنچری 2‘‘کے طورپر پیش کرسکتے ہیں۔برطانوی تجزیہ نگارکے مطابق اس ممکنہ نئے مسودے میں’’فلسطینیوں کے سیاسی حقوق کےمعاملےکوبالآخر حتمی طورپرختم کرنے اور انہیں کچھ اقتصادی حقوق دے کرمطمئن کرنے کی کوشش کی جائے گی‘‘۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ امن منصوبہ اپنی پرانی شکل میں’’اب درست نہیں رہا‘‘۔ اورفی الحال نئے زمینی حقائق نئی تجاویزکی بنیادہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ صرف معاہدوں کے حوالے سے سوچتے ہیں اوریہ فرض کرتے ہیں کہ انہیں معاملات کابہترعلم ہے اور اس سوچ کے تحت وہ مذاکرات کاحصہ بنیں گے اورایسے معاونین کے گروہ سے متاثرہوں گےجن کی اکثریت صہیونی نظرئیے کی حامی ہے۔اس امن معاہدے میں اثر انداز ہونےوالے دیگرفریقین جن میں فلسطینی،عرب اوراسلامی ممالک ہیں کہ وہ اسے کسی حالت میں قبول نہیں کریں گے اورزمینی حالات اوربگاڑسے علاقائی اورعالمی امن کودرپیش عالمی امن کے لئے ناقابل برداشت ہوگا۔تاہم گذشتہ سال کے واقعات اس کی بنیادہوں گے اگرٹرمپ انتظامیہ ایک نئی ڈیل تجویزکرناچاہتی ہےاوروہ اپنے سابقہ امن منصوبے کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں،بلکہ ایک اورنئے معاہدے کے بارے میں بات کررہے ہیں،جس میں زمینی حقائق کومدنظررکھتے ہوئے دوریاستی حل کی طرف فریقین کوحقیقی اندازمیں مجبور کیا جائے گالیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے اب تک کے عمل میں امریکااوراس کے اتحادیوں کی پشت پناہی شامل ہے جس سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔
اسرائیلی امورکے ماہرتجزیہ کارمجالی کے مطابق مسئلہ فلسطین کا ’’دوریاستی حل‘‘ ہی مثالی حل ہے۔ دو ریاستی حل کامعاملہ اب بھی حقیقت پسندانہ اورمناسب حل ہے،حالانکہ موجودہ اسرائیلی حکومت امن پسند حکومت نہیں ہے۔دوریاستی حل کودنیانے قبول کیاہے، اوراسےترک نہیں کیاجاناچاہیےکیونکہ ’’اسے ترک کرناان لوگوں کی خدمت ہےجومکمل اسرائیلی سرزمین کے نظریے کےحامی ہیں،جوفلسطینی عوام کےکسی حق کوتسلیم نہیں کرتے‘‘۔
یقیناً سعودی عرب اورخطے کے دیگرممالک بھی اس تجویزکی حمایت کرتے ہیں کہ دو ریاستی حل وہ آپشن ہےجوابھی بھی میزپر ہے کیونکہ یہ سب کے مفادات کو مدنظر رکھتا ہے، اور واضح طورپرفلسطینی ریاست کے قیام کے اصول کومتعین کرتاہے اورجوعرب فریقین کے لئےسب سے اہم نکتہ ہے۔یہ وہ بنیادہوگی جس سے اسرائیل کے تعلقات معمول پرلانے اور اسے تسلیم کرنے کےمعاملے پر نئے سعودی امریکی مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں۔خطے کے موجودہ حالات کے پیشِ نظردوریاستی حل کاآپشن ہی بچاہےجسے عرب ممالک،خاص طورپرسعودی عرب خطے کے دیگر ممالک قبول کرسکتے ہیں۔
دوریاستی حل ایک ایساحل ہےجس سےخطے کےعلاوہ بیشتراسلامی ممالک سیاسی طور پرچمٹے ہوئےہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زمینی حقائق میں اس کاکوئی وجودنہیں نظر آ رہا اورنہ ہی مستقبل میں یہ ہوگا،اوراس طرح یہ اپنی مجوزہ شکل میں ہی ختم ہونے کی طرف بڑھ رہاہے۔ٹرمپ اپنے دور حکومت میں اقوام عالم کی طرف سےمنظوردوریاستی حل کے آپشن کوختم کرنےکےلئے کوئی نیامنصوبہ بھی پیش کرسکتے ہیں جوخطے کے جغرافیہ سے جڑاہوانظرآئےجس میں اسرائیل کوطاقتورملک بناکرخطے میں امریکی حاکمیت کومضبوط کیاجائے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں