پہلی نظر میں یوں لگتا ہے کہ جیسے مظہر سلیم مجوکہ سے ملاقات کا سامان ہو گیا ۔دراصل ان کی ذات کی لطافت یاد آجاتی ہے ،ایک انتہائی لطیف مزاج ،مرنجاں مرنج دھیمے مزاج کا کم گو آدمی جس سے جتنی بار ملیں اتنی بار کوئی نہ کوئی خوبصورت کتاب دے کر ہی رخصت کرتا ہے ۔ماہ اکتوبر کا شمارہ ملا تو عجیب طمانیت کا احساس بھی ساتھ ہی رگ جاں میں اتر کہ اس قدر گرانی کے دور میں باقاعدگی کے ساتھ مجلہ نکالنا اور کنگلے ادیبوں شاعروں کو اعزازا اپنے ڈاک خرچ پر ارسال کرنا ایک مجذوبانہ عمل نہیں تو کیاہے۔ادب لطیف کا آغاز سخن ہمیشہ وطن کے ناگفتہ بہ حالات کے مرثیہ سے ہوتا ہے اور کس درد سے ہر بار ان حالات میں اہل قلم کی ذمہ داریوں کو اجاگر کیا جاتا ہے ۔اب کی بار تو انہوں نے مقتدرہ، انتظامیہ اور عدلیہ کو بھی موضوع سخن بنایا ہے کہ جن کی بے رحم منصوبہ سازیوں سے فقط سیاسی بے چینی اور اضطراب ہی نہیں مختلف کی فروتر ہونے والی مشکلات کا بھی ذکر کیا ہے ۔
’’معاشی اور سیاسی عدم استحکام سے دو چار اس ملک کے خیر خواہ بھی‘‘ انہیں بے بس دکھائی دیتے ہیں اسی لئے کہتے ہیں کہ ’’روشن ضمیر اور انسان دوست شخص کو اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض بھی یاد رہنے چاہئیں ’’مجلے کا آغاز ساجد جلال پوری کی حمد در‘‘ صنعت منقوص (’اگر کلام کے ہر مصرع سے آخر دو لفظوں کو فرا دیں توشعر کی موزونیت میں فرق نہ آئے ۔البتہ دوسری بحر کا وزن پیدا ہوجائے تو اسے صنعت منقوص کہتے ہیں( الٰہی محشر میں جب بھی حساب کرنا)حساب کرنا(گناہ میرا مٹا مٹا کے ثواب کرنا،ثواب کرنا)تنویر پھول کی خوبصورت ’’نعت رسول ﷺ ‘‘ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
مختار احمد عزمی،انعام الحق معصوم پوری اور حسنین مظہری اور سبین یونس کی نعتیں اور اقتدار جاوید کا مرثیہ بھی کمال ہے۔اکیس خوبصورت نظمیں مجلے کی زینت ہیں ۔ علی زیوف کی نظم “Anyone Ese” اور ڈاکٹر جواز جعفری کی طویل نظم ’’کہانی شہر کی‘‘اپنے موضوع کے اعتبار سے بھرپور ہے ۔معروف کہانی کاروں کی چھ کہانیاں اور ڈاکٹر عدیل احمد کاایک مختصر افسانہ ’’ایفائے عہد‘‘ ایک نیا تجربہ ہے ۔اردو غزل کے مرتے ہوئے وجود اور مٹتی ہوئی شناخت کو پھرسے اجاگرکرنے کے لئے مجلے میں اٹھاون غزلیں شامل کی گئی ہیں خصوصاً شاعرات میں کچھ نئے نام دکھائی دیئے ہیں ۔
معروف انشائیہ نگار صلاح الدین حیدر نے ایک مطلق بھلائے گئے نظم کے خوبصورت شاعر معروف ترقی پسند صحافی رحمان کی ان کے مرنے کے عرصہ دراز بعد یاد دلائی ہے ،اسی طرح گزشتہ دنوں وفات پانے والے ناصر کاظمی کے شاگرد خاص ،توانا غزل گو اور مثنوی کی صنف میں نئی روح پھونکنے والے اردو کے قابل استاذ اسلم انصاری کا ’’اک شعلہ جہاں تاب‘‘کے حوالے سے ذکر کیا ہے ۔
موجودہ دور میں جن نثری اصناف پر سب سے کم کام کیا جا رہاہے ان ہی میں ایک تذکرہ نگاری بھی ہے ، حالانکہ تذکرہ نگاری کے حوالے سے اردو زبان وادب کا ماضی بہت شاندار رہا ہے لیکن آج کل کے لوگوں کی سہل پسندی اس مشکل اور عرق ریزی سے عبارت تذکرہ نگاری کوقابل اعتنا نہیں سمجھتی،یا پھرموجودہ دور کی نمائشی روش اور خودنمائی کا عام چلن محققین ادب کو تذکرہ نگاری سے دور رکھتا ہے ۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے نام اور کارناموں، بالخصوص ادبی کارناموں کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنے والے خود بھی زندہ جاوید ہوجاتے ہیں۔ ’’اس شکوے کے ساتھ فوزیہ اختر ردا نے ‘‘ عصری ادب کی دستاویز ’’ تذکرہ سخنوراں‘‘چھ صفحات پر مشتمل مضمون تحریر کیا ہے جس میں قرطاس و قلم سے وابستہ احباب کے لئے چشم کشائی کا سامان ہے ۔
آکاش مغل نے نور الہدی شاہ کے سندھی ادب پاروں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے ۔مظہر سلیم مجوکہ کا یہ وصف ہے کہ وہ ’’ادب لطیف ‘‘کے ہر شمارے کو اردو ادب کی تاریخی دستاویز کا روپ دے دیتے ہیں ۔اکتوبر 2024ء کا شمارہ اس کا بے مثال ثبوت ہے ۔