(گزشتہ سے پیوستہ)
اسرائیل نے غزہ جنگ کوغزہ سے لے کر مقبوضہ مغربی کنارے اورلبنان سے لے کرگولان کی پہاڑیوں تک اورحتی کہ اردن کے ساتھ سرحدتک کودوبارہ کھینچنے کے لئے ایک سیکورٹی بہانے کے طورپر استعمال کیاہے۔اسرائیل کوسیکورٹی کے نظریے کے مطابق دوبارہ ترتیب دینے کی خواہش ہے،اوراس طرح سے فلسطینی ریاست کے وجودیادوریاستوں کے درمیان بقائے باہمی کاتصوراورخیال کم ہوجائے گااوراسرائیل ٹرمپ انتظامیہ پرزمینی مسائل کے لئے ایک عملی حل نکالنے کے لئے دباؤڈالے گا۔
اس سلسلے میں قوی امکان ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے میں اسرائیل کے زیرقبضہ مغربی کنارے کے بڑے علاقوں کاالحاق شامل کرنے کے بعد،اسرائیل سرحدوں کودوبارہ بنانے، زمینوں کوملحق کرنے،اپنی سرحدوں کووسیع کرنے،اورنئے بفرزونزبنانے کے لئے سکیورٹی جغرافیہ کودوبارہ ترتیب دینے کے عمل سے فائدہ اٹھائے گا۔جس کے لئے ٹرمپ نے آرکنساس کے سابق گورنرمائیک ہکابی کواسرائیل میں اگلے امریکی سفیرکے طورپرمنتخب کیاہے،جنہوں نے2017ء میں کہاتھاکہ ’’مغربی کنارے جیسی کوئی چیزنہیں ہے،یہ یہودیہ اورسماریہ ہے۔اسرائیلی بستیوں کے نام جیسی کوئی چیزنہیں ہے،یہ برادریاں ہیں،یہ محلے ہیں،یہ شہرہیں۔ قبضے جیسی کوئی چیزنہیں ہے‘‘۔
یہ بھی ممکن ہے کہ مغربی کنارے پرفلسطینی آبادی پرمشتمل علاقوں کے علاوہ جہاں پرخودمختاری کامکمل اعلان نہیں کیاجا سکتا،اسرائیل ایساکچھ کرنے پربھی زورڈال سکتاہے کہ مغربی کنارے کااسرائیل کے ساتھ الحاق جاری رہے جہاں تمام اختیارات اسرائیل کے پاس ہوں۔جس کاثبوت یہ ہے کہ اس ماہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے ذمہ دار اسرائیلی وزیربیزلیل سموٹریچ نے اپنی وزارت کومغربی کنارے میں بستیوں پرمکمل اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کی تیاری شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھردوسری طرف سعودی عرب یہ سمجھتاہے کہ اسرائیل اورسعودی عرب کے درمیان سفارتی وسیاسی تعلقات کی بحالی صرف ان دوممالک کے درمیان ہی نہیں بلکہ یہ اسلامی دنیااور یہودیت کے درمیان تعلقات کی بحالی ہے،لہٰذایہ صرف سیاسی نہیں بلکہ مذہبی اہمیت کے حامل بھی ہے اوریہ ہی وجہ ہے کہ سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے لئے دوریاستی حل پرمضبوط مؤقف اپنائے ہوئے ہے اورریاض میں ہونے والی اسلامی کانفرنس میں ولی عہدمحمدبن سلمان کے خطاب نے امریکااوراس کے اتحادیوں مغربی ممالک کو واضح پیغام دیاہے ۔
ولی عہدکواس بات کامکمل ادراک ہوچکاہے کہ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی وسیاسی تعلقات بحال ہونے کافائدہ ریاض سے زیادہ امریکا اور اسرائیل کوپہنچتاہے کیونکہ یہ اسرائیل کوصرف عرب دنیاہی میں نہیں بلکہ اسلامی دنیامیں ایک قابل قبول ملک بنا دے گا اور سعودی عرب کے لئے یہ ایک بہت بڑی اوربھاری قیمت ہے جبکہ اسرائیل کوایک فلسطینی ریاست جس کادارالحکومت مشرقی یروشلم ہو،کوتسلیم کرکے خطے میں امن کی یہ ذمہ داری اداکرنی چاہیے۔
اس امکان کے باوجود کہ فلسطینی کسی بھی عرب ملک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرآنے کوقبول نہیں کریں گے،موجودہ وقت میں اس مسئلے کانقطہ نظرمختلف ہوناچاہیے۔وہ ممالک جن کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں وہ آزادریاستیں ہیں جن کے اپنے مفادات ہیں،اورفلسطینیوں کوان میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،اگروہ(مالک)سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں ان کامفادہے تویہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔اگرفلسطینیوں کولگتاہے کہ یہ تعلقات ان کے قومی حقوق پراثراندازہوسکتے ہیں تووہ دوستانہ طریقے سے ان ممالک کی اس طرف توجہ مبذول کروائیں۔
اہم سفارتی ذرائع کے مطابق ان سفارتی تعلقات کی بحالی کواستعمال کرتے ہوئے اسلامی ممالک’’اسرائیلی قبضے سے فلسطین کی آزادی اورایک فلسطینی ریاست کے قیام اورفلسطینی نظریات پیش کرکے ان کی مددکرسکتے ہیں اورجس منصوبے کے بارے میں بات کی جارہی ہے اس میں اسرائیل اورعرب ممالک کے درمیان ایک جامع امن پلان شامل ہے،جس کے بدلے میں اسرائیل کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، اور ہمیں اسی پر توجہ مرکوزکرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ اس ماہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لئے فلسطینی ریاست کے قیام کی شرط رکھی تھی۔ سعودی عرب نے امریکی انتخابات سے پہلے یہ کہاتھاکہ دوریاستی حل کی شرط تعلقات میں بحالی کانقطہ آغازہے،نہ کہ فلسطینی ریاست کے قیام کوسفارتی تعلقات کے ساتھ مشروط کرنا۔سعودی عرب کواحساس ہے کہ طاقت کاتوازن اس کے حق میں نہیں ہے،اوراس لیے وہ دوسرے عرب اوراسلامی ممالک کی طرح اصولی مؤقف اختیارکیاہے لیکن حقیقت میں وہ اس وقت غزہ میں جنگ کے دوران ان پتوں کواستعمال کرنے کے لئے تیارنہیں ہے۔
ٹرمپ کے ممکنہ اگلے امن منصوبے سے متعلق اردن اورمصرکی جانب سے کسی بھی نتائج یاکردارسے متعلق خدشات،خصوصا ًفلسطینیوں کوان ممالک میں بھیجنے کے امکان پرسرکاری امریکی مؤقف اب بھی قاہرہ اورعمان کے اصرارکومدنظررکھتاہے۔مسئلہ فلسطین کوختم کرنے اورکسی بھی تصفیے کومستردکرنے کابوجھ ’’فلسطینیوں کوان ممالک کی طرف جانے کے لئے دھکیلنے‘‘کاباعث بن سکتاہے۔اس وقت’’سٹیٹس کو‘‘کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے اورسب نے غزہ جنگ،رفح بارڈرکی بندش اورمغربی کنارے کے شمالی علاقوں پراسرائیلی کنٹرول کی مخالفت کی ہے۔
آنے والے برسوں میں تمام رہنمااس مسئلہ کے عملی حل کے بارے میں سوچیں گے جوزمینی حقائق اورجغرافیائی تبدیلیوں کومدنظر رکھ کرنکالاجائے گااورجسے اسرائیل پیش کرے گا ۔ جب ’’صدی کے معاہدے‘‘کی تجویزپیش کی گئی تھی تواس وقت اردن نے اپنے وزیرخارجہ ایمن صفادی نے’’کسی بھی یکطرفہ اسرائیلی اقدامات کے خطرناک نتائج سے خبردارکیاتھا اور1967ء کی سرحدوں پرمبنی دو ریاستی حل کی پاسداری پرزوردیاتھا۔مصری وزارت خارجہ نے کہاتھاکہ’’قاہرہ مسئلہ فلسطین کوبین الاقوامی قانونی جوازاوراس کے فیصلوں کے مطابق حل کرنے کے حوالے سے امریکی اقدام کی اہمیت کوسمجھتاہے۔تاہم امریکی اسرائیل نواز تھنک ٹینک کے حلقوں میں بڑھتے ہوئے نقطہ نظر کی بات کی جائے تو وہ عرب ممالک کو فلسطینیوں کے تئیں اپنی انسانی ذمہ داریاں ادا کرنے پر زور دے رہے ہیں لیکن خطے کے ممالک کو اس بات کا بخوبی ادراک ہو گیا ہے کہ ایسے مرحلے میں ان کو کیسے دبا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسلامی کانفرنس ریاض میں ولی عہد محمد بن سلمان نے اسی دبا کے جواب میں امریکا اور اس کے تمام اتحادیوں سمیت اسرائیل کو جو واضح پیغام دیا ہے وہ دراصل ایران کی حمائت سے کہیں زیادہ خطے کے ممالک کو اسرائیل کے خطرہ سے آگاہ کرنا مقصود ہے اور سعودی عرب نے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان ہے۔ امریکا اور مغربی یورپ سعودی عرب کی طرف سے غیر متوقع اعلان کے پیچھے چین کی اس خاموش سفارتکاری کی کامیابی بھی سمجھتا ہے جس کو خطے کے تمام ممالک سے امریکی اثر و رسوخ کے دفن اور کفن کی علامات سے بھی تعبیر کیا جا رہاہے۔کیا امریکا اسرائیل کو مزید قربانی کا بکرا بنا کر اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں کی پالیسی پر عملدرآمد کرنے کی کوشش کرے گا یا پھر اسرائیل امریکا میں اپنے دوستوں کو مدد کے لئے پکارے گا۔اگرایسا ہوگیا توٹرمپ کاوائٹ ہائوس میں قیام مختصربھی ہوسکتاہے۔