فیصلے انسانی سوچ اور صلاحیت کے غماز ہوتے ہیں ۔ کامیابی اور ناکامی کا سبب بنتے ہیں ۔ کچھ فیصلے گھبراہٹ اور جلدی میں سرزد ہوتے ہیں ۔ کچھ فیصلوں کے پیچھے گہری سوچ بچار اور ریاضت ہوتی ہے ۔ کچھ فیصلے تو تاخیر کی کھونٹی پہ ہی لٹک جاتے ہیں ۔ اس طرح کے فیصلے کمزوری اور نالائقی کا مظہر ہوتے ہیں ۔ ذہنی مشق اور ہر طرح کے پہلوئوں کے جائزے کے بعد کئے گئے فیصلے درست اور دیرپا ہوتے ہیں ۔ جذبات کی رو میں بہہ کر کئے گئے فیصلے نقصان دہ ہوتے ہیں ۔ اس پہ مستزاد، ناکام فیصلوں کو بار بار دہرانا اور آزمانا بڑا تباہ کن ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ ریت آج کل عروج پر ہے ۔ کبھی یہ احتجاج اور کبھی وہ احتجاج ۔ صورتحال اس نہج پہ آن پہنچی کہ آرمی ویلفیئر کے اداروں کی مصنوعات کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چل پڑی ہے ۔ سوشل میڈیا پر اک طوفان برپا ہے ۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی فوٹیجز اور گرافکس تیار کر کے عوامی جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں ۔ جھوٹ اور فرضی واقعات کو حقیقت کا رنگ دے کر وائرل کیا جا رہا ہے ۔ پاکستان کی سلامتی کے ضامن ادارے کے خلاف نفرت کا زہر پھیلایا جارہا ہے ۔ مصنوعات کی تصویروں کو خون آلودہ کر کے آرمی کا امیج خراب کرنے کوشش کی جارہی ۔ اس میں ملک دشمنوں کی چال کا واضح عکس دکھائی دے رہا ہے ۔ فوج کے خلاف اس غلیظ پروپیگنڈہ کو محب وطن عوام نے یکسر مسترد کر دیا ہے ۔ اس سیل اور نہ فروخت پر کوئی منفی فرق پڑ ا ہے ۔ تاہم ایک خاص طبقہ کی منفی ذہنیت کی گہرائی اور حد کا ضرور اندازہ ہوا ہے ۔
فیس بک پر ایسی منفی پوسٹوں پر کئے تبصروں سے بائیکاٹ مہم کی ناپسندیدگی کا خوب اندازہ ہو جاتا ہے ۔ ہزاروں اکایونٹ اس بے ہودہ مہم میں سرگرم ہیں ۔ میں نے کافی چھان بین کی ،بہت سارے ایسے اکائونٹ پر دئیے گئے تبصروں کا جائزہ لیا ہے ۔ اکثریت لوگوں نے ایسی حرکت کی مخالفت اور مذمت کی ہے ۔عوام میں شعور آتا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی نفرت انگیز پوسٹیں لگانے والے زیادہ طرح بیرون ملک مقیم پاکستان کے دشمن عناصر ہیں جو عوام کو اپنی فوج سے بدظن کر نا چاہتے ہیں ۔ عوام اور فوج میں دوریاں اور بدگمانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ جو نفرت کی آگ بھڑکا کر سب کچھ راکھ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں عرب بہار کی لہر کے اثرات پہ نظر ڈالو ۔کیسے تاش کے پتوں کی طرح وہ ملک بکھر گئے ۔وہاں بھی بڑے مکارانہ انداز سے دشمنوں نے فوج اور عوام کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا تھا، جس سے ان کی حفاظتی فصیل کمزور ہو گئی ۔ پھر غیر ملکی فوجوں کے لئے اسے پھلانگنا آسان ہو گیا ۔ وہ کہتے ہیں نا ، جہاں اپنی فوج نہیں ہوتی وہاں کسی اور کی ضرور ہوتی ہے ۔ عراق ، لیبیا اور مصر جیسے ممالک اس تلخ تجربے سے گزر رہے ہیں ۔ حال ہی میں جو شام میں ہوا وہ اک عبرتناک مثال ہے۔ شام کی فوج کو اپنے ہی باغی گروپوں نے پسپا کر کے اس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے ۔ ان گروپوں کی پشت پر امریکہ ، اسرائیل ، ترکی ،ایران ، روس اور سعودی عرب جیسے ممالک تھے ۔ سب اپنے اپنے تزویراتی مقاصد کے حصول کے لئے ہم خیال مکتب کے گروپ کو دانہ ڈال رہے تھے ۔فوج اور حکومت کی کمزوری اور بے چارگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں پر پیش قدمی کر دی ہے ۔ ترکی نے کرد اکثریتی علاقے میں دبائو بڑھا دیا ہے جب کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی زیر اثر بڑے گروپ نے مغرب کی طرف حلب اور حمہ جیسے شہروں پر مشتمل وسیع علاقے پر قبضہ جما لیا ہے۔شام جو کبھی اسرائیل کو اس خطے میں چیلنج کرنے کی طاقت اور جرات رکھتا تھا اب نمونہ کسمپرسی بن گیا ہے ۔ اس کے جغرافیائی وجود اور سلامتی کو شدید خطرات سے لاحق ہیں ۔ کئی برس پہلے امریکہ کی ایک اصطلاح کا بڑا چرچا ہوتا تھا ۔’’ایکسز آف ایول‘‘ امریکہ کی نظر میں تین ملکوں عراق ، شام اور ایران سے اس کے قومی مفادات کو خطرہ تھا ۔ تجزیہ نگار کی رائے ہوتی تھی کہ امریکہ باری باری ان ملکوں کو کمزور کر کے وہاں اپنی مرضی کا نظام مسلط کرے گا ۔آخر میں پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنا آسان ہو جائے گا ۔ شام کے بعد ایران کے ساتھ تصادم کے تمام اشارے مل رہے ہیں ۔
اسرائیل گزشتہ چند ماہ میں کئی بار ایران کے مختلف علاقوں پر ڈرون اور میزائل حملے کر چکا ہے ۔ اقتصادی پابندیوں نے پہلے ہی اس کی حالت کافی پتلی کر رکھی ہے ۔ خدا نہ کرے ، اگر ایران بھی عراق اور شام کی طرح لرز جاتا ہے ، تو اس کا اثراتی ملبہ لامحالہ ہماری طرف بھی گرے گا ۔ اس طرح صیہونی اور طاغوتی طاقتوں کا اگلا ہدف ہمارا ملک ہوگا ۔ اس کو بھی قابو کرنے کے لئے وہ پہلے ہمارے اندر سے انتشاری گروپس قابو کرے گا ۔ ان کو مالی سپورٹ دے گا۔ اندرون و بیرون ملک بیٹھے بیٹھے ان کے کارندوں کے ذریعے زہریلا پروپیگنڈہ کروائے گا ۔ نفرت اور باہمی عناد کی آگ کو ہوا دے گا ۔اس کی مذموم سازش کا محور ہماری فوج ہوگی ۔ فوج ہی واحد کشش ثقل کا مرکز ہے جس پر سلامتی کے سارے نظام کا انحصار ہے ۔ اس کو کمزور کرنے کے لئے عوام کو اس کے خلاف کیا جائے گا۔ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے فوج پر الزام تراشیاں کروائی جائیں گی ۔ اس کی حیثیت اور ذات کو داغ دار کر کے عوام کی نظروں سے گرایا جائے گا ۔ مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر منفی مہم چلا کر نہ صرف اس کے شہدا کے خون کی بے توقیری کی جائے گی بلکہ فوج کے مورال پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کی جائے گی ۔ بیرونی قوتوں کے ہاتھوں کھیلنے والے ہر برائی کا الزام فوج پر لگا کر خطرناک کھیل کا آغاز کریں گے ۔ عوام کو اکسا کر ان کے خلاف پر تشدد احتجاج کی راہ ہموار کریں گے ۔ دشمن کی چال اور خواہش کے مطابق جب عوام اور فوج ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہوگئے ، تو پھر آپ کی سرحدوں کی حفاظتی فصیل بکھر جائے گی ۔ پھر بقول شاعر دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی ،لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لئے ،لیکن جب ہم جیسے حساس اور محب وطن افراد ان گمراہ لوگوں کو اپنے ہی ہاتھوں لگائی گانٹھوں کو دانتوں سے کھولتا دیکھیں گے ، تو دکھ اور طنز میں بجھا یہ جملہ برجستہ لبوں سے پھسل جائے گا ، ’’ہور کرلو بائیکاٹ۔‘‘