میں اپنے گزشتہ کئی کالمزمیں نومنتخب ٹرمپ کی نئی کابینہ کی نامزدگیوں کے بعدان خدشات کا اظہار کرچکاہوں کہ دنیامیں سردجنگ کے امکانات میں اس قدراضافہ ہوجائے گاکہ امریکا کا ’’واحدسپر پاور‘‘ کا دعویٰ ختم ہوتانظرآئے گا۔یہ بھی مکافاتِ عمل ہے کہ جس افغانستان میں روس کو بدترین شکست کے بعدٹوٹنے کا صدمہ برداشت کرناپڑااورامریکادنیاکی واحدسپرپاور بن گیا،اسی افغانستان سے رسوائی کے ساتھ نکلنے کے بعد اب یوکرین میں اپنے عالمی ٹائیٹل کے دفاع کی آخری جنگ لڑرہاہے۔
ٹرمپ نے20جنوری کوحلف اٹھانے سے قبل اس حوالے سے سوشل میڈیاپربرکس کے9ممالک کودھمکی دی ہے۔’’اگرانہوں نے امریکی ڈالرکے مقابلے میں لین دین کے لئے کسی نئی کرنسی کاانتخاب کیاتوان پر100فیصدتک ٹیرف عائدکردیاجائے گا۔یہ خیال کہ برکس ممالک ڈالرسے دورہونے کی کوشش کریں گیاورہم دیکھتے رہیں گے،اب نہیں چلے گا۔ عالمی طاقتیں چین اورروس برکس کا حصہ ہیں جس میں برازیل،انڈیا،جنوبی افریقا،ایران، مصر،ایتھیوپیا اورمتحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔صدارتی انتخابات سے قبل مہم کے دوران ٹرمپ نے وسیع پیمانے پرٹیرف لگانے کاعندیہ دیاتھالیکن حالیہ دنوں میں اس بارے میں دھمکی آمیزبیانات میں اضافہ ہوگیا ہے۔یادرہے کہ برازیل اور روس کے سرکردہ سیاستدان تنظیم کی اپنی کرنسی بنانے کامشورہ دے چکے ہیں جس کامقصد عالمی تجارت میں امریکی ڈالرپرانحصارکم کرناہے لیکن تنظیم کے اندر اختلافات کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔
تاہم ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیاپلیٹ فارم پرلکھاہے کہ ہم ان ممالک سے یہ ضمانت چاہیں گے کہ وہ نہ تونئی برکس کرنسی بنائیں گے اورنہ ہی امریکی ڈالرکی جگہ لینے کے لئے کسی دوسری کرنسی کی حمایت کریں گے ورنہ ان کوسوفیصدٹیرف کاسامناکرناہو گااوروہ امریکی معیشت میں تجارت کوخیربادکہنے کی توقع رکھیں اورکسی اورکوڈھونڈسکتے ہیں۔ٹرمپ کے چند حامیوں کامانناہے کہ یہ اعلانات مذاکرات کی حکمت عملی ہیں جن کا مقصد اعلان سے زیادہ بات چیت کے لئے ماحول پیدا کرنا ہے۔ٹرمپ کے حالیہ اعلان کے بعد رپبلکن سینیٹرٹیڈکروز نے کہاکہ میکسیکواورکینیڈاکے خلاف ٹیرف کی دھمکی نے فوری نتائج دئیے تھے۔
آخریہ ٹیرف کیاہوتاہے اوراس دہمکی کے کیااثرات ہوسکتے ہیں؟ٹیرف کسی بھی ملک کاوہ اندرونی ٹیکس ہوتاہے جوملک میں آنے والی مصنوعات پر عائد کیاجاتاہے یعنی امریکامیں اگر 50 ہزارڈالر قیمت کی گاڑی درآمدکی جاتی ہے جس پر25فیصدٹیرف عائد ہے تو 12500ڈالراضافی خرچ ہوگا۔ٹیرف ٹرمپ کی معاشی سوچ کامرکزی حصہ ہیں اوروہ انہیں امریکی معیشت کوترقی دینے، مقامی طور پرنوکریوں کوتحفظ دینے اورٹیکس آمدن بڑھانے کیلئیکارآمدسمجھتے ہیں۔وہ ماضی میں یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ یہ ٹیکس ایک دوسرے ملک کی جیب پربھاری پڑیں گے،مقامی سطح پرنہیں۔
تاہم ماہرین معیشت اس دعوے کوگمراہ کن سمجھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اضافی قیمت اس مقامی کمپنی کواداکرناہوتی ہے جو مصنوعات درآمدکرتی ہے نہ کہ غیرملکی کمپنی کو۔اس اعتبار سے دیکھاجائے تو یہ ایک ٹیکس ہے جومقامی کمپنیوں امریکی حکومت کوادا کرتی ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورصدارت میں متعدد ٹیرف لگائے تھے جنہیں بعدمیں جوبائیڈن انتظامیہ نے بھی برقراررکھاتھا۔تو کیاامریکی ڈالرکا متبادل ممکن ہے؟ لیکن اس سے قبل یہ جانتے ہیں کہ ڈالر دنیاکی طاقتور کرنسی کیسے بنا۔
دوسری جنگ عظیم اختتام پذیرہورہی تھی کہ اتحادیوں کویہ نظرآناشروع ہواکہ ان کی اپنی معیشت تباہ ہوچکی تھی۔انہوں نے سوچناشروع کیاکہ جب بحالی کاعمل شروع ہوگاتوبین الاقوامی تجارت کس کرنسی میں ہوگی۔اس وقت44ممالک کے نمائندے 22دن کے لئے امریکا میں بریٹن وڈزقصبے کے ماوئنٹ واشنگٹن ہوٹل میں اکھٹے ہوئے۔یہاں جنگ کے بعدعالمی معیشت اور تجارت کے مستقبل پرمذاکرات ہوئے۔ یورپی ممالک جنگ کے نتیجے میں تباہ حال تھے جبکہ امریکاکے پاس دنیا میں سونے کے سب سے بڑے ذخائرتھے۔
ایڈ کونوے اپنی کتاب’’دی سمٹ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ22دن تک شدیدسیاسی لڑائی اوربحث ہوئی۔ اس دوران دوشخصیات میں دوبدولڑائی بھی ہوئی جس میں برطانوی جان کینزایک عالمی کرنسی کاتصورلئے ہوئے تھے جبکہ دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ کے ہیری ڈیکسٹرتھے۔اس کانفرنس کے بعدطے ہواکہ امریکی ڈالربین الاقوامی تجارت کے لئے استعمال کیاجائے گا اوراسی ملاقات میں بنائے جانے والے ادارے،آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک،جنگ کے بعدمعاشی مشکل کاسامناکرتے ممالک کوامریکی ڈالرمیں ہی قرض دیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ ’’کیاڈالرکاکوئی متبادل ہے؟‘‘
ذخائررکھنے کے لئے مغربی کرنسیوں کا واحد متبادل یوآن ہوسکتاہے لیکن اس کے لئے چین کوبہت کچھ بدلناہوگا۔اصلاحات اورشفافیت، بچت کی ترغیبات ، سرمائے کی نقل وحرکت کے کنٹرول کے خاتمے کی ضرورت ہے۔لیکویڈیٹی ایک بڑامسئلہ ہے کیونکہ چین اپنی مالیاتی منڈیوں اورسرمائے کی برآمدات دونوں میں غیرملکی سرمایہ کاری پرپابندی لگاتاہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ پابندیاں ہٹادی جاتی ہیں، تونجی سرمایہ ان کے دائرہ اختیار میں جائے گاتاہم ماہرین اقتصادیات تسلیم کرتے ہیں کہ یوآن آہستہ آہستہ ایک ریزروکرنسی بن سکتا ہے۔امریکی اوریورپی ماہرین اقتصادیات نے ایک حالیہ تحقیق کے مطابق چین اپنی کرنسی میں تجارتی تصفیوں کوفعال طورپرفروغ دے رہاہے،اس طرح اس کے تجارتی شراکت داروں کے مرکزی بینکوں میں یوآن جمع ہورہے ہیں۔
انہی ماہرین کے مطابق چین کی اپنی کرنسی کوبین الاقوامی بنانے کی کوشش یوآن کے غلبہ کویقینی نہیں بنائے گی،بلکہ ایک کثیر قطبی کرنسی کی دنیاجہاں ڈالر،یورو اوریوآن ایک ساتھ موجود ہوں گے۔یہ ٹھیک ہے مگر ایسا ہوناابھی بہت دورہے۔یوآن میں پیسے رکھنے کے قابل ہوناایک چیزہے،اس کی خواہش کرنادوسری چیز۔دوسری طرف دنیابھرمیں ڈالرکی خرید وفروخت کی صلاحیت لامحدودہے جبکہ یوآن کی تجارت چین سے باہر صرف ہانگ کانگ اورچند درجن چھوٹے مراکز میں ہوتی ہے۔
20 ویں صدی کے وسط سے دنیاپرامریکی کرنسی یعنی ڈالرکاغلبہ ہے اورگذشتہ کئی دہائیوں کے دوران متعدد مواقع پراس غلبے کے ٹوٹنے،ختم ہونے یاکمزورپڑنے کی پیش گوئیاں کی جاتی رہی ہیں۔یکم جنوری 1999ء میں یورپی کرنسی یوروکے متعارف ہونے کے بعداور2008ء میں امریکاسے شروع ہونے والے عالمی مالیاتی بحران کے بعدبھی امریکی ڈالرکے حوالے سے خدشات کااظہارکیاگیا۔ گذشتہ سال روس کے یوکرین پرحملے کے بعدبھی ڈالرکے خاتمے کی بات کی گئی مگریہ کرنسی بدستوربڑی کرنسی کی صورت میں دنیامیں موجودہے۔
مگرآئیے دیکھتے ہیں کہ پچھلی دہائی میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں اورڈالرکی تنزلی کے حوالے موجودہ پیشین گوئیاں کیاتوجہ دینے کے قابل ہیں؟ڈالرکے مقابلے میں تین حقائق کاحوالہ دیاگیاہے۔سب سے پہلے، امریکاکے بڑے حریف چین نے اقتصادی اور کاروباری حجم کے لحاظ سے یورپی یونین کوپیچھے چھوڑ دیا ہے اوراب چین امریکی مارکیٹ پرنظریں رکھے ہوئے ہے۔دوسرا، امریکامیں موجودسیاسی تنازعات امریکاکی انتہائی قابل بھروسہ قرض لینے والے اورقرض دینے والے کے طورپرساکھ کونقصان پہنچاتے ہیں جس کی ایک مثال گذشتہ ماہ ڈیفالٹ کے خطرے کی صورت میں سامنے آئی۔
(جاری ہے)