شام میں ایک غیرمتوقع اورڈرامائی تبدیلی نے اہل فکر و علم کو الرٹ کردیا ۔ بشار الاسد کی جابر اور ظالم حکومت بغیر کسی مزاحمت کے اچانک اقتدار سے دستبردار بحق Hayat Tahrir al- Sham (HTS) جس نےملک کا کنٹرول بغیر کسی مزاحمت کے سنبھال لیا اور اسرائیل کے نتن یا ہو نے فوری گولان کے مزید علاقے پر قبضہ کرلیا۔ اس نے جغرافیائی سیاست کے ساتھ ساتھ اسلامی اور مسیحی eschatology کی پیشن گوئیوں کو پورا کردیا۔ شام میں گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایک تباہ کن خانہ جنگی جاری رہی۔ بشار الاسد کی حکومت نے غیر انسانی ظلم و ستم اور غیر انسانی تشدد اور قتل کے جرائم کا ارتکاب کیا۔ کوئی ملین شامی شہری بےگھر ہوگئے اور ملک مختلف عالمی قوتوں کے میدان جنگ میں تبدیل ہوا۔ جن میں روس، ایران، حزب اللہ، ترکی، امریکہ، اور اسرائیل شامل رہے۔ اسد کی حکومت کا بغیر کسی مزاحمت کے گرجانا اور بغیر لڑائی کے اقتدار سے اچانک دستبردار ہو جانا اور HTS کا بغیر ایک گولی چلائے اقتدار سنبھال لینا۔ واضح کرتا ہے۔ کہ یہ ایک خفیہ متفقہ پلان کے تحت ہوا ہے اور بڑے سوال اٹھاتا ہے ۔
کیا یہ بیرونی حمایتی قوتوں روس اور ایران کی مزید معاشی بوجھ سے بچنے اور شام پر عدم کنٹرول کی وجہ سے اور گیارہ سالہ بے نتیجہ طویل جنگ کے پیش نظر ایک طے شدہ خفیہ معاہدہ جس کے تحت مختلف طاقتیں ایک نئی اتھارٹی HTS کو منتقل کرنے پر تیار ہوگئیں۔ Hayat Tahrir al-Sham، اس کے قائد پہلے القاعدہ سے وابستہ تھے،چند سال قبل ایک نئی عملی تنظیم کے طور پر خود کو پیش کیا ہے۔ اگر HTS شام کا کنٹرول بغیر کسی لڑائی کے حاصل کرتی ہے تو یہ ممکنہ طور پرمذاکراتی معاہدوں کے ذریعے ہی ممکن ہے اور علاقائی اورعالمی حمایت کےذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے ۔ مختلف طاقتوں کے مشترکہ مفادات جیسے ترکی کا خطہ میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا، اسرائیل اور نیتن یاہو کی ممکنہ حکمت عملی کا سبب اور امریکہ کی حمایت۔ اسرائیل، خاص طور پر وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اسدحکومت کے خاتمے پر دوسرے ہی دن گولان کی پہاڑیوں پرقبضے کو مضبوط کرنے اور مزید زمین پر چپکے سے قبضہ کرلیا۔ ایران نے گیارہ سال شام اور حزب اللہ پر بے بہا مال اور وسائل بے نتیجہ اس جنگ میں جھونکےاورعالمی تنقید ، الزامات اور عرب ناراضگی کے سوا کچھ نہ حاصل کیااور اب علاقائی تبدیلیوں کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالنے کیلئے تعلقات بحال کی سوچ اور کوشش کے لئے، اسلامی اور مسیحی eschatology (آخرزمانہ کی پیشن گوئیوں کے حوالے سے اس منظرنامے کو مختلف طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔اسلامی eschatology اسلامی روایات میں امام مہدی کے ظہور اور قیامت کے قریب ہونے والے واقعات شامل ہیں:شام کے علاقہ غوطہ قریب دمشق بڑی جنگ کے متعلق صحیح مسلم، حدیث 2897)۔ امام مہدی کے ظہور کےفوراً بعدانکےخلاف مہلک ترین عالمی جنگ آرمگڈان۔ ملحم البر ا ہونا۔ امریکہ اور برطانیہ و یورپ اور دیگر حکومتوں ،کچھ مسلمان حکومتیں ایک مسلمان کمانڈر سفیانی، کی قیادت میں امام مہدی اور انکے ہمراہ مسلمانوں کیخلاف جنگ کے لئے شام کی طرف پیش قدمی کرینگی اور دمشق کے قریب مقام غوطہ پر امام مہدی اور انکے ہمراہ مجاہدین پر شدید حملہ کرینگےاور جنگ تین دن جاری رہےگی اوردونوں طرف سے بڑی تعداد میں لوگ مارے جائینگے۔ چوتھے دن اللہ کی نصرت امام مہدی پر نازل ہوگی اور انکے مخالف فوجیں 90% قتل ہوجائیں گی اور بچی فوجیں بھاگ جائیں گی اور اس طرح امام مہدی کا دور شروع ہو گا اور وہ مسلمانوں کوباہم متحد کرینگے اور امن و امان ، خوشحال اور سکون و محبت کا دور شروع ہوگا۔ HTS کا پرامن اقتدار سنبھالنا، ظہورامام مہدی کی علامت ہے۔کرسچن علم آخرزمان eschatology جیساکہ کتاب مکاشفہ (Book of Revelation) میں:مشرق وسطی میں ایک بڑی جنگ جو آرماگڈون کی جنگ کی طرف لےجائے گی۔
عالمی طاقتوں کی مداخلت، اورآخری جنگ کا آغاز ہونا۔بعض تشریحات HTS کےابھرنے کو مکاشفہ 16:16 کی پیشن گوئیوں سے جوڑتے ہیں۔یہ منظرنامہ کئی اشارے پیش کرتا ہے: امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اوریورپی اوردیگراتحادممالک کےالائنس ان واقعات کومذہبی پیشن گوئیوں کی تکمیل کےطور پردیکھاجاسکتا ہے،جو بہت سےاہل علم کےلیے قیامت کے قریب ہونے کے یقین کو تقویت دے گا۔
مذہبی بنیاد عوام کومتحرک کرنے اور مختلف گروہوں یا ریاستوں کے اقدامات کو جواز فراہم کرنےکے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔اسد حکومت کابغیرکسی مزاحمت کےخاتمہ اور HTS کا پرامن اقتدار سنبھالنا ایک غیرمعمولی تاریخی،جغرافیائی و سیاسی واقعہ ہےجس کےاثرات نہ صرف شام بلکہ پورے خطے پرمرتب ہوں گے۔ اگرچہ امریکہ، اسرائیل، اور دیگر طاقتوں کا کردار ایک مشترکہ منصوبے کی عکاسی کر سکتا ہے، لیکن eschatology کےحوالے سے اس کے گہرے مذہبی معنی بھی ہو سکتے ہیں۔ سیاسی حقیقتیں اسی طرح مذہبی عقائدایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں اور خطے میں عوامی رویوں اور اقدامات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ مختصرا شام کا اچانک اورحیران کن واقعہ ہماری آنکھیں کھولنے کےلئےسنبھلنے کی گھنٹی ہے۔ آئیے خواب غفلت سےجاگ کر اللہ کی طرف رجوع کرلیں اور آج موجود فتنہ دھیما سے بچ سکیں۔ حدیث کے مطابق فتنہ دھیما کے زمانہ میں اسلام نام کا رہ جائیگا اور صالح ترین مسلمان اس کی ہوااور ٹچ سےنہ بچ سکیں گے۔ حرام حلال کی تمیز ختم ہوجائیگی اور برائی کو برا نہیں سمجھاجائے گا۔ گناہ عام ہوگا۔ جاہل عالم نما بن کر ظاہر ہونگے۔ علما حق ناپید ہوجائیں گے اور علما سو کاظہور ہوگا جو علم سے خالی ہوں گے اور مال و جاہ کے طلب گار ہونگے۔ اس حالت میں اپنے ایمان کو بچانےکی فکر کریں اور حق تعالیٰ کے راستہ کو اپنا کر حضرت امام مہدی کے ظہور پر انکے جھنڈے تلے جمع ہوکر کامیاب ہوجائیں اور فتنہ دجال سے بچ سکیں۔ حالیہ ڈرامائی واقعہ جو شام میں ہوا۔ یہ صہیونی عیسائیوں اور یہودیوں کی طرف سے مسلمانوں کو آرماگاڈان نامی آنےوالی مہلک ترین جنگ میں دھوکہ دینے کا بہت گہرا منصوبہ ہے اور انہیں امام مہدی علیہ السلام اور عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام سے دور کرنے کی آخری زمانے کی سازش ہے۔ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے اور انہیں سفیانی کی طرف پھیرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ ہم اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تمام مسلمانوں کو صہیونی دجال کی سازش سے محفوظ رکھے، آخر وقت کے واقعات کے آغاز میں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمارے پاس تکبیر استغفاراور دعاکا ہتھیار ہے۔ استغفار اور دعاکو اپنا معمول بنالیں تاکہ اللہ کے وعدہ سورہ انفال کہ مطابق اخرزمانہ کے عذاب سے اور فتنوں سے بچ سکیں۔