اسلام میں خواتین نے زہدو تقویٰ اور تصوف کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ابتدائی اسلامی ادوار سے لے کر بعد کے دور تک کئی خواتین نے عبادات تقویٰ اور روحانی تعلیمات کے ذریعے اسلامی تصوف کی روایت میں گہرے اثرات چھوڑے ہیں ۔ان خواتین نے نہ صرف اپنی حیات میں زہدو تقویٰ کی منفرد مثالیں چھوڑی جو دیگر لوگوں کے لئے رشد وہدایت اور روحانی بالیدگی کا وسیلہ بھی بنیں۔اس زمرے میں حضرت رابعہ بصریؒ کو پہلی مسلمان صوفیہ خاتون کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ آپ 95 ہجری میں بصرہ (موجودہ عراق) کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں اور بچپن ہی میں یتیم ہوگئیں۔ لہٰذا غربت و افلاس کی گود میں پلنے والی یتیم بچی کو انتہائی کٹھن اور مشکلات میں گندھی زندگی گزارنا پڑی ،یہاں تک کہ انہیں ایک متمول خاندان کے یہاں باندی کے طور پر بیچ دیا گیا ۔ ان کے زہد و تقویٰ اور شب و روز کے عبادات کے معمولات نے ان کے مالک کے دل میں ان کے لئے رحم پیدا کر دیا۔ لہٰذا اس نے انہیں آزاد کردیا۔
تقدیر نے اس حرماں نصیب بچی کو وقت کی معروف و مشہورہستی بنادیا ۔ جنہوں نے تاریخ اسلام میں منفرد مقام حاصل کیا۔ آزادی نصیب ہونے کے بعد آپ نے اپنی تمام تر زندگی دین اسلام کے لئے وقف فرما دی اور بصرہ کے ایک ویرانے کو اپنا مسکن بنا لیا اور دن رات یاد الٰہی میں مصروف رہنے لگیں۔ حضرت رابعہؒ بصری پہلی مسلمان خاتون تھیں جنہوں نے ذات ربانی سے مجرد محبت کے تصور کی بنیاد رکھی اور اسے ایک فلسفے میں ڈھال دیا۔آپ کی تعلیمات کا محورو مرکز خالص توحید ، تزکیہ نفس اور اللہ اور اس کے آخری نبی ﷺکے ساتھ عشق کو محبت تھی۔
ایک بار حالت جذب میں فرمایا ’’ اے اللہ! اگر میں تیری عبادت جنت کی طلب کے لئے کرتی ہوں تو مجھے جنت سے محروم کردے اور اگر میں جہنم کے خوف سے کرتی ہوں تو مجھے اس میں ڈال دے۔لیکن اگر میں عبادت تیری محبت کے لئے کرتی ہوں تو مجھے اپنے دیدار سے محروم نہ کر ‘‘ ان کے ہم عصر کئی زاہد و عابد،علماء و صوفیاء خصوصاً امام حسن بصری آپ کی روحانی کیفیات،کے معترف تھے۔
حضرت رابعہ بصریؒ کو طبقات صوفیاء میں اہم مقام حاصل ہے ۔اس حوالے سے کئی علماء اور مصنفین نے اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر سے تذکرے تحریر فرمائے ہیں ۔ان میں ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار ، عبدالرحمن بدوی ،خواجہ حسن نظامی،شیخ فریدالدین عطار اور دیگر کئی لوگ شامل ہیں مگر اس سلسلے میں سب سے وقیعکام مارگریٹ اسمتھ نے کیا ہے ۔مارگریٹ اسمتھ ایک معروف انگریز مستشرقہ ہیں ۔جنہوں نے اسلامی تصوف اور صوفی خواتین پر انتہائی محنت اور دیدہ ریزی سے کام کیا ہے ۔ انہوں نے حضرت رابعہ بصریؒ کی زندگی، تعلیمات اور صوفیانہ افکارو نظریات کا اپنی کتاب Rabia the Mystic and Her Fellow Saints in Islam میں عمیق مطالعہ پیش کیا ہے ۔یہ کتاب 1928ء میں منظر عام پر آئی جو مغربی دنیا میں اسلامی تصوف کے تعارف کی اہم سعی سمجھی جاتی ہے۔
مذکورہ کتاب میں محققہ نے حضرت رابعہ بصریؒ کی شخصیت کا اسلامی تصوف کے ابتدائی دور میں خواتین کی حیثیت کے تناظر میں مطالعہ کیا ہے اور حضرت رابعہ بصریؒ کی زندگی کے مختلف پہلوئوں ان کے اقوال اور ان کے فلسفہ عشق الٰہی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔محققہ نے اسلامی اورصوفی ماخذوں کو استعمال میں لاتے ہوئے ان کے افکار و نظریات کو مغرب کے قارئین کے لئے سہل اور آسان انداز میں پیش کیا ہے۔ مارگریٹ نے حضرت رابعہ بصریؒ کے معاصر صوفیاء کے ساتھ ان کے تعلقات پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔کمال یہ ہے کہ محققہ نے حضرت رابعہ بصریؒ کے بچپن سے لے کر ان کی غلامی ،آزادی اور دور غربت تک کی تفاصیل بیان کی ہیں۔ انہوں نے صوفیہ کی روحانی و نظریاتی اور فکری کیفیات کی بہت عمدہ منظرکشی کی ہے اور اسلام ،تصوف،اسلامی تاریخ اور خواتین کے روحانی کردار کا بھرپور احاطہ کیا ہے۔ اس لئے مارگریٹ اسمتھ کی تحقیق پر مشتمل مذکورہ کتاب کو بہت پذیرائی اور مشرق و مغرب میں ان کے کام کو سراہا گیا۔ حضرت رابعہ بصریؒ کا انتقال 1085ھ میں بصرہ ہی میں ہوا ۔آج بھی وہ امت مسلمہ میں عزت و احترام سے یاد کی جاتی ہیں ۔