Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

مالیاتی عالمی نظام میں یوآن اور ڈالر کا مستقبل

(گزشتہ سے پیوستہ)
تیسرا،امریکابہت تیزی سے ان ممالک کوسبق سکھانے کے لئے ڈالرزکااستعمال کررہاہے جواس کے مطابق امریکایااس کے اتحادی ممالک کی سالمیت کے لئے خطرہ ہیں،یعنی سادہ الفاظ میں امریکابراہ راست جنگ میں ملوث ہونے یاکسی ملک پرحملہ کرنے کی بجائے اپنے مقاصدحاصل کرنے کے لئے بے دریغ پیسے کااستعمال کررہاہے مگرڈالرکی ساکھ میں مبینہ کمی کے پیچھے کارفرمایہ تینوں حقائق کچھ اتنے متاثرکن نہیں ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکاممکنہ ڈیفالٹ سے بچ گیااورایساکرنے سے اس نے ایک بارپھریہ ثابت کردیاکہ وہ دنیاکا بنیادی اورقابل بھروسہ قرض دہندہ ہے۔پھران شکوک کی کیاوجہ ہے کہ ڈالراپنی مقبولیت کھورہاہے؟
ڈالرکے دواہم افعال ہیں جواسے دنیاکی بنیادی کرنسی بناتے ہیں۔پہلاڈالرایک ریزروکرنسی ہے ،جس کے پاس اضافی پیسہ ہے وہ اسے ڈالرکی شکل میں محفوظ رکھنے کوترجیح دیتاہے۔دوسرا، ڈالرا کاؤنٹ کی کرنسی ہے اورنہ صرف امریکابلکہ بیشتر دنیاکے ممالک اشیااورخدمات کی ادائیگی ڈالرکے ذریعے کرتے ہیں۔ چین،روس،برازیل،انڈیا اور دیگر ترقی پذیر معیشتوں کی روپے اور یوآن کے ذریعے تجارت کرنے کی کوششوں کے باوجودڈالرکی بطور پوزیشن اب بھی مضبوط ہے۔اس سے پیشترکہ ان وجوہات پربحث کی جائے،پہلے ڈالر کے بطورریزرو کرنسی استعمال کے بارے میں مزید جانتے ہیں۔
گزشتہ سال کے آخرتک دنیامیں تقریباً 12 کھرب ڈالرمالیت کے کرنسی ذخائرجمع ہوچکے تھے۔ اس ریزروکاتقریبا60فیصدامریکی ڈالر کی شکل میں ہے،لگ بھگ20فیصدیورو ،3 فیصدیوآن جبکہ باقی دوسری کرنسیاں ہیں تاہم،آئی ایم ایف کے تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق ریزروزمیں ڈالرکاحصہ کم ہورہاہے اور 1995ء کے بعداس وقت یہ اپنی کم ترین سطح پرہے۔
ڈالرکے ذخائرمیں کمی کی حداور رفتارپرگرماگرم بحث جاری ہے اورماہرین کاکہناہے کہ روس کے خلاف غیرمعمولی مالی پابندیوں کی وجہ سے اس ضمن میں اب حالات بہت زیادہ کشیدہ ہیں۔مورگن سٹینلے اورآئی ایم ایف میں کام کرنے والے کرنسی ماہرین کے مطابق ڈالر ریزروکرنسی کے طورپراپنا مقام پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے کھو رہا ہے۔ان کے اندازے کے مطابق 2016ء سے ڈالرنے ریزرومارکیٹ میں اپناحصہ11 فیصد کھودیاہے اوریہ سلسلہ 2008ء کے بعدسے دگناہوا ہے۔ تاہم بہت سے دوسرے کرنسی ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے اوردعویٰ کرتے ہیں کہ روس کے یوکرین پرحملہ کرنے کے بعدسے ریزرو کرنسی کی دنیامیں کچھ بھی زیادہ نہیں بدلاہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنزمیں کرنسی کے ماہرین اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ان کے مطابق درحقیقت 2022ء سے ڈالرکے ذخائرمیں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔آئی ایم ایف کے اعدادوشمار میں ڈالرکے بطور ریزرو کمی کی وضاحت روس کے خلاف پابندیوں کے جواب میں امریکی کرنسی کوترک کرنے سے نہیں بلکہ اس اہم اثاثے کی دوبارہ تشخیص سے ہوئی ہے جس میں جمع شدہ ڈالرکے ذخائرمحفوظ ہیں،یعنی امریکی حکومت کے بانڈز۔ان بانڈزکی قیمت گررہی ہے کیونکہ امریکی قرضے پرشرح سودمیں اضافہ ہواہے۔2022ء میں،یہ دیگر ریزرو کرنسیوں کوجاری کرنے والے ممالک کے مقابلے میں تیزی سے ہوا،جس کی وجہ سے ذخائرمیں ڈالرکاحصہ کم ہواہے۔ اگرآپ امریکی حکومت کے بانڈزکی اس صورت حال کوآئی ایم ایف کے اعدادوشمارکوسامنے رکھتے ہوئے دیکھیں توآپ کوڈالرکہیں بھاگتاہوا نظر نہیں آئے گا۔علاوہ ازیں2022ء میں کسی اوربڑی کرنسی کی عالمی سطح پراتنی مانگ نہیں تھی جتنی ڈالرکی تھی۔
مالیاتی نظام کے مرخ نیل فرگوسن کاکہنا ہے کہ ڈالرکی بالادستی کے خاتمے کے بارے میں نصف صدی سے بھی زیادہ بات کی جا رہی ہے۔اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران برازیل کے صدرسے متعددمواقع پریہ سوال پوچھاگیاکہ ’’ہرکوئی ڈالرمیں تجارت کیوں کرتا ہے،یہ فیصلہ کس نے کیا؟‘‘ حقیقت یہ ہے کہ یوروکی گردش کے20سالوں کے دوران،ڈالر نے عالمی ذخائرمیں اپناحصہ صرف10فیصد کھویاہے۔
بینک فارانٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے مطابق پچھلی تین دہائیوں میں ڈالرکاحصہ80 فیصد سے90 فیصد ہوگیاہے۔گزشتہ ایک دہائی میں بھی یہ مقبول رہا اور 2010ء میں ڈالرکاتمام بین الاقوامی ادائیگیوں میں 85 فیصدحصہ تھاجو2022ء میں بڑھ کر88فیصد ہو گیا۔حقیقت یہ ہے کہ ڈالر اکانٹ کی مرکزی کرنسی ہے جس کے باعث اس کی مرکزی ریزروکرنسی کے طورپربھی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے،کیونکہ دنیا سمجھتی ہے کہ اس کرنسی کوبرے دنوں کے لئے بچانااچھاہے۔اس کے علاوہ، ڈالر میں تمام ادائیگیاں دنیاکے سب سے بڑے امریکی بینکوں کے ذریعے کی جاتی ہیں،اورامریکی حکام اس کرنسی کی نقل وحرکت پرنظررکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگرڈالرکے ختم ہونے کااندیشہ ہے تودنیااب تک ڈالرہی میں کیوں تجارت کررہی ہے؟ اسٹیفن لی جین دلیل دیتے ہیں کہ ڈالروقت کے ساتھ تصفیہ کی کرنسی(سیٹلمنٹ کرنسی)کے طورپراپنی جگہ کھو دے گا،تاہم ایسامستقبل قریب کامعاملہ نہیں ہے۔ وہ زوردیتے ہیں کہ کیونکہ دنیامیں امریکی مالیاتی منڈیوں کا سائز،استحکام یاکھلے پن کے لحاظ سے کوئی متبادل نہیں ہے اس لیے ڈالرکامقابلہ کرنامشکل ہے۔اس کی واضح مثال تیل ہے۔
انڈیاروسی خام تیل کی ادائیگی روپے میں کر سکتا ہے اورچین سعودی عرب کوتیل کے عوض یوآن میں ادائیگی کرسکتاہے،مگراس سب کے باوجود تیل کی عالمی منڈی کی اہم کرنسی اب بھی ڈالرہے کیونکہ چندگنے چنے ممالک کی آپسی براہ راست تجارت کی نسبت تیل کے مالی معاہدوں کاحجم کہیں زیادہ ہے۔ترقی پذیرممالک میں صرف چین ہی دنیاکے مالیاتی مرکز کے طورپر امریکا کوچیلنج کرسکتا ہے۔سابق امریکی وزیرخزانہ لیری سمرزکہتے ہیں کہ یہ یادرکھناضروری ہے کہ ڈالرنے بطورریزروکرنسی پانڈکی جگہ کیسے لی۔ ’’تاریخ واضح ہے،ڈالرریزرو کرنسی کے طورپراپنی حیثیت کھو سکتاہے لیکن جب ایساہوگا تو دنیا کو بہت سے دوسرے سنگین مسائل کا سامناکرناپڑے گا۔ ڈالر کااپنی عالمی حیثیت کھودنیا صرف اس صورت میں ممکن ہوگاجب امریکادنیا میں اپنااثرورسوخ کھوبیٹھے گا۔ یہ کافی نہیں ہے کہ امریکادنیامیں ڈالرکی بالادستی کی حمایت کرنا چاہتا ہے یانہیں۔ڈالرایک بین الاقوامی کرنسی کے طورپر زبردست فوائدحاصل کررہاہے، جس کی بڑی وجہ بڑی،لیکویڈاوراچھی طرح سے کام کرنے والی مالیاتی منڈیاں ہیں‘‘۔’’اگرامریکانئی غلطیاں کرتا رہتا ہے اورماضی کاتجزیہ کرناچھوڑدیتاہے تووہ وقت آئے گاجب دنیاڈالرسے دورہوجائے گی۔ بہت سے ممالک پہلے ہی اس سے دورہونے کی کوشش کررہے ہیں،اگرچہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوپا رہے۔چین یاسعودی عرب جیسے بڑے تجارتی سرپلس والے ممالک کے پاس اپنی بچت محفوظ رکھنے کیلئے اورکچھ نہیں ہے۔کھربوں ڈالر کے اثاثوں کوذخیرہ کرنے کا دنیامیں کوئی آسان اور لیکویڈمتبادل موجودہی نہیں ہے۔بعض معروف ماہرین تویہاں تک دلیل دیتے ہیں کہ ڈالرکی بالادستی خودامریکا کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ دنیاکی اہم ترین ریزرو کرنسی کااجراکنندہ ہوناکوئی استحقاق نہیں بلکہ ایک بوجھ ہے۔
ڈالرکے اثاثوں کی مانگ امریکاکوبڑے تجارتی اوربجٹ خسارے کوپوراکرنے کی اجازت دیتی ہے۔ بیجنگ میں کارنیگی سینٹرکے امریکی ماہرمعاشیات مائیکل پیٹس کے مطابق ’’یہ اچھانہیں ہے۔امریکامیں داخل ہونے والے غیرملکی سرمائے سے سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں ہوتا۔یہ صرف بچت کی شکل میں محفوظ ہوجاتاہے اورملکی قرض میں اضافہ کرتاہے۔مالی منڈیاں صرف ایک حدتک معیشت کی مددکرتی ہیں،جس کے بعدوہ ملک کے بجائے بینکوں کوفائدہ پہنچانے کاباعث بنتی ہیں‘‘ ۔ ان کے مطابق’’کمزورہوتاہواڈالر عالمی معیشت کوفائدہ دے گالیکن یہ ان ممالک کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہوگاجن کے پاس تجارتی سرپلس ہے‘‘۔ اب دیکھنایہ ہے کہ ان حالات میں کیا ڈالرکاکوئی متبادل ہے؟ذخائررکھنے کے لئے مغربی کرنسیوں کا واحد متبادل یوآن ہوسکتاہے لیکن اس کے لئے چین کوبہت کچھ بدلناہوگا۔اصلاحات اورشفافیت، بچت کی ترغیبا ت، سرمائے کی نقل وحرکت کے کنٹرول کے خاتمے کی ضرورت ہے۔لیکویڈیٹی ایک بڑامسئلہ ہے کیونکہ چین اپنی مالیاتی منڈیوں اورسرمائے کی برآمدات دونوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری پرپابندی لگاتاہے۔اگریہ پابندیاں ہٹادی جاتی ہیں،تونجی سرمایہ ان کے دائرہ اختیارمیں جائے گا۔تاہم ماہرین اقتصادیات تسلیم کرتے ہیں کہ یوآن آہستہ آہستہ ایک ریزروکرنسی بن سکتاہے۔ امریکی اور یورپی ماہرین اقتصادیات نے ایک حالیہ تحقیق کے مطابق چین اپنی کرنسی میں تجارتی تصفیوں کوفعال طور پر فروغ دے رہاہے،اس طرح اس کے تجارتی شراکت داروں کے مرکزی بینکوں میں یوآن جمع ہورہے ہیں۔
ماہرین کایہ بھی کہناہے کہ چین اپنی کرنسی کوبین الاقوامی بنانے کی کوشش میں یوآن کے غلبہ کویقینی نہیں بنائے گابلکہ ایک کثیر قطبی کرنسی کی دنیاجہاں ڈالر، یورو اوریوآن ایک ساتھ موجود ہوں گے۔یہ ٹھیک ہے مگر ایسا ہوناابھی بہت دورہے۔یوآن میں پیسے رکھنے کے قابل ہونا ایک چیزہے،اس کی خواہش کرنادوسری چیز۔ دنیابھرمیں ڈالرکی خریدوفروخت کی صلاحیت لامحدود ہے، جبکہ یوآن کی تجارت چین سے باہرصرف ہانگ کانگ اورچنددرجن چھوٹے مراکز میں ہوتی ہے۔تاہم ان وجوہات کی بنا پرمرخ فرگوسن کی بات قرین حقیقت ہے کہ ڈالر،یورواور یوآن کے درمیان غلبے کی دوڑکو ’’کچھوے کی دوڑ‘‘کہہ سکتے ہیں اورامریکاکے حریف ڈالرکامتبادل تلاش کررہے ہیں۔ترقی یافتہ جمہوریتوں اورامریکا کے اتحادیوں کوڈالرسے بالکل کوئی الرجی نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈالرکے زوال کے لئے دنیامیں امن قائم ہونااشدضروری ہے اورامریکی جنگی مافیایہ ہونے نہیں دے گا۔

یہ بھی پڑھیں