کسی قوم کے پنپنے اور پھلنے پھولنے کے لئےچھہترسال بہت ہوتے ہیں کتنی ہی اقوام ہیں جو ہم سے بعد میں آزاد ہوئیں اور ترقی و خوشحالی کے سفر میں ہم سے بہت آگے نکل گئی ہیں ۔دراصل انہیں جب بھی ملے اچھے اور وفادار حکمران ملے جو اپنے عوام کی بہتری سوچنے والے تھے۔وہ جسے ہم اپنا سب سے بڑا دشمن گردانتے ہیں اورجس کے خوف سے قوم کو ڈراتے رہتے ہیں کہ وہ ہماری سالمیت کا دشمن ہے ،ہمارے وجود کو مٹانے کا آرزومند ہے ،ہم پر قبضہ کرنے کی خواہش رکھتا ہے ،اس دشمن نے چاند پر کمند ڈال لی اور ہم ہیں کہ اپنے عوام کے گلے میں آمریت کے طوق ڈالنے کے درپے رہتے ہیں ، ہم اپنے آپ میں دولخت ہوئے مگر سبق پھر بھی نہیں سیکھا ۔ ہمارے حکمران اپناگھر بھرنے کے دھندے میں رہتے ہیں عوام کے پیٹ بھلے خوراک کوترستے رہیں، نان جویں کے لئے تڑپتے رہیں ،انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے اہداف پورے ہونے ضروری ہیں قوم کے بچے تعلیم سے بھلے محروم رہیں، ہمارے خزانے کا بڑا مصرف مقتدرہ کو پالنا ہے، بھرے پیٹ والوں کے پیٹ بھرنے ہیں ۔
عالمی معیشت سے ہمیں کہیں کوئی مقام ملے یا سب سے پیچھے رہیں حکمرانوں کو کیا پرواہ۔ عالمی معیشت کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈاالیں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں امریکہ جسے ہم کوسنے دیتےنہیں تھکتے وہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت، جس کا جی ڈی پی26 ٹریلین ڈالر،اور توجہ کا مرکز ٹیکنالوجی،مالیاتی خدمات،اور صحت کے شعبوں پر خصوصی انحصار۔ دنیا کی پہلی بڑی معیشت۔دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین جو ہمارے بعدآزاد ہوا ،جی ڈی پی 19 ٹریلین ڈالر،ترقی کاتمام ترانحصارصارف مارکیٹ اور مینو فیکچرنگ،جاپان تیسرےنمبر پرجی ڈی پی پانچ ٹریلین ڈالر اورتوجہ کا محور ٹیکنالوجی اورآٹو موبائل انڈسٹری،جرمنی دنیاکی چوتھی بڑی معیشت، جی ڈی پی چاراعشاریہ نو ٹریلین ڈالر، مینو فیکچرنگ،مشینری اورکیمیکل انڈسٹری پردسترس اورپانچویں نمبر پرہمارابڑا دشمن انڈیا ،آبادی پونے دو کروڑکے لگ بھگ اور جی ڈی پی چاراعشاریہ دو ٹریلین ڈالر، ترقی کاانحصار آئی ٹی، زراعت،خدمات اور مینوفیکچرنگ۔اورہم جو مقابلے کا ہدف انڈیا کو بنائے ہوئے ہیں۔
عالمی معیشت میں ہمارا نمبر چھیاسٹھواں ہے۔ جی ڈی پی تین اعشاریہ پچھتر بلین ڈالر اور سارا انحصار سیاسی ریشہ دوانیاں ،افراتفری، سازشیں گھڑنا اور آئینی بحران پیدا کرنے پر۔ انہیں امور پر مکمل توجہ زراعت ،ٹیکسٹائل اور زندگی کے کسی اور شعبے پر مکمل دھیان نہیں، اقتدار کے سنگھاسن کے پائے مضبوط کرنا ہدف ہے ، عوام اور دھرتی ماں جائے بھاڑ میں ۔کوئی ملک میں سیاسی بدامنی کے لئے سرگرم عمل اور کوئی بیرون ملک بیٹھا سازشوں کے جال بن رہا ہے۔
اقتدار اقتدار کی جنگ جاری ہے کوئی اقتدار کے ایوانوں میں ہے مگر اس خوف میں مبتلا کہ باگ ڈور اس کے ہاتھ سے نکلنے نہ جائے۔کوئی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھا اس زعم میں گھائل کہ اقتدار پر اسی کا حق ہے اس کے سوا کسی امر پر مذاکرات ہو ہی نہیں سکتے کہ مینڈیٹ کا حساب پہلے چکایا جائے بعد میں کوئی اور بات، مقتدرہ اپنی ضد پر اور عدلیہ کے اپنے اہداف ہیں جیسے بھی پورے ہوں۔
عوام گولیوں سے مرے یا بھوک سے،کسی کو کوئی سروکار نہیں امن کا راستہ کیسے نکلے، ترقی اور خوشحالی کے خواب کی تعبیرکیسے ملے کہ یہ تو خواب دیکھنے والا ہی کوئی نہیں۔
اہل قلم پر اس سے برا وقت کبھی نہیں آیا تھا ،کسی آمر نے بھی ایسی ذلت و خواری میں اتنا نہیں ڈالا تھا جتنا جمہوری حکومت نے ڈالا ہے ۔کسی کو غیب کرنا ہو،کسی کو مار دینا ہوکسی کو چپ کروانا ہو ۔سب کے لئے ریمیڈیز موجود ہیں ۔کسی کے نقش مٹانے ہوں ،کسی کے خدوخال گھڑنے ہوں ایسے قلم کار حرف و صوت پر قدرت رکھنے والے وقت کے حکمرانوں کی جیب میں ان سکوں کی طرح موجود ہیں جو بانی پاکستان کی جیب میں کھنکتے تھے تو ان کا دل بیٹھنے لگتا تھا وہ بھی ان کا گلا ہی کرتے رہ گئے انہیں اپنی جیب سے نکال کر باہر نہ پھینک سکے ۔