Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

مشرق وسطیٰ، اسرائیل، فلسطین اورعالمی سیاست

قارئین کو اگر یاد ہو تو یکم اکتوبر2024 ء کو میں نے ’’گریٹر اسرائیل کامنصوبہ‘‘کے عنوان سے جو آرٹیکل لکھا تھا اور آج شام سے بشارالاسد کے فرار اورموجودہ جاری حالات کو اسی تناظر کو دیکھ لیں تو خاکسار نے اپنے دلائل اورخدشات میں جو کچھ عرض کیا تھا، اس منظر نامہ کا آغاز شروع ہو گیا ہے۔ تاہم حماس کے سات اکتوبر2023ء کے حملے کے بعد سے خطے میں جاری کشیدگی اور بدلتی صورت حال میں اسرائیل کے اس تصور کو پہلے سے کہیں زیادہ حقیقت کے قریب سمجھا جا رہا ہے۔ طاقت کے توازن میں تبدیلی اور علاقائی منظر نامے کی تشکیل نو اسرائیل کا کوئی نیا خواب نہیں ہے۔ وقت اور حالات نے میرے ناقدین کو ایک مرتبہ پھر کڑوے سچ کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
متعددبین الاقوامی فورمز پر اسرائیلی حکام اپنے ملک اسرائیل کے نقشے پکڑے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان تمام نقشوں میں کسی فلسطینی ریاست یا علاقےکاکوئی حوالہ نہیں ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیراعظم نیتین یاہو نےاپنی تقریر میں اسرائیل کے دو نقشے پیش کیے۔ ان میں سے ایک نقشے میں ان تمام ممالک کو سبزرنگ میں دکھایا گیا جو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کا حصہ ہیں یا اسرائیل کےساتھ اپنےتعلقات کو بحال رکھنے کے خواہاں ہیں۔ سبز رنگ والے ممالک میں مصر، سوڈان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور اردن شامل ہیں۔ دوسرے نقشے میں نیتن یاہو نے نہ صرف ایران اور خطے میں اس کے اتحادی ممالک شام، عراق، یمن اور لبنان کو سیاہ رنگ میں پیش کیا بلکہ ان علاقوں کو مکروہ کہہ کر مخاطب کیا۔
موجودہ حالات کافائدہ اٹھاتے ہوئےاسرائیل نےشام پراپنے فضائی حملوں کا آغاز کردیا ہے۔ عالمی میڈیا میں اسرائیل نے تصدیق کی ہےکہ وہ شام پر مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں اور میزائل بنانےوالے مبینہ اہداف پر فضائی حملےکررہاہے۔ اسرائیلی وزیرخارجہ گیڈون سار نے بڑی مکاری سے ان حملوں کاجواز یہ پیش کیاہےکہ انہیں خدشہ ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اور اسرائیل ایسا ہونے سے روکنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی وزیردفاع اسرائیل کاٹز کاکہنا ہے کہ اسرائیلی فوج شام کےبھاری سٹریٹجک ہتھیاروں کو تباہ کر دے گی جن میں میزائل اور فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہیں۔
میڈیارپورٹس بتاتی ہیں کہ پچھلے دو دنوں کے دوران اسرائیل نے شام میں درجنوں فضائی حملےکیے ہیں جن میں ایک حملہ دمشق میں مبینہ طور پر ایک ایسے مقام پر کیا گیا ہے جس کےبارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اسے ایرانی سائنسدان راکٹ بنانے کےلیے استعمال کرتے ہیں۔ دمشق کے قریب کیےگئے ایک اسرائیلی فضائی حملےکےبعدشام سےآنےوالی میڈیا رپورٹس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اس حملے میں کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے ایک تحقیقی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فضائی حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں پرنظر رکھنے والے ادارے نے شام میں حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کیمیائی ہتھیاروں کے مشتبہ ذخیرے محفوظ ہیں۔
برطانیہ میں قائم ایک مانیٹرنگ گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر)نے پیر کوکہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ساحلی اور جنوبی شام میں پھیلے متعدد مقامات پر راتوں رات حملے کیے ہیں۔ سابق حکومت کے خاتمے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل نے شدید فضائی حملے شروع کیے اور جان بوجھ کر ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ڈپوز کو تباہ کردیاجبکہ گذشتہ روز ہیئت تحریر الشام نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے متعلق اپنے ایک بیان میں ہتھیاروں اورحساس مقامات کی نگرانی میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کے لیےمکمل یقین دہانی کااعلان کرتےہوئےیہ کہاتھا کہ ہمارا کیمیائی ہتھیاروں یاکسی بھی نوعیت کی تباہی پھیلانےکے ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی ارادہ یا خواہش نہیں ہے۔ ہم کسی بھی صورت میں ان سائٹس یا ہتھیاروں کو غیر ذمہ دارانہ ہاتھوں میں نہیں جانے دیں گے۔ ہم انہیں محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
یہ اعلان اس خدشے کے بعد سامنے آیا تھا کہ مبینہ طور پرحلب کے جنوب میں کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ شامی باغی گروہوں کے ہاتھ آ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے کیمیکل واچ ڈاگ آرگنائزیشن فار دی پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز(او پی سی ڈبلیو)کے مطابق کیمیائی ہتھیار ایک ایسا ہتھیار ہے جو اپنی زہریلی خصوصیات کے ساتھ کسی کو مارنے یا نقصان پہنچانے کی نیت سے استعمال کیاجاتاہے۔ او پی سی ڈبلیو کےمطابق ایسےگولہ بارود، آلات اور دیگر سامان جو زہریلے کیمیکلز سے ہتھیار بنانےکےلیےخاص طورپرتیارکیےگئے ہوں وہ بھی کیمیائی ہتھیاروں کی تعریف میں شامل ہیں۔ یادرہےکیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع ہے، چاہے کوئی جائز فوجی ہدف موجود ہو یا نہ ہو۔
کیمیائی ہتھیار(سی ڈبلیو )کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ زہریلے کیمیکلز کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے جو کسی بم یا توپ کے گولے جیسے ڈلیوری سسٹم کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے یا داغا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ تعریف تکنیکی طور پر درست ہےلیکن اس صورت میں اس میں صرف محدود چیزیں شامل ہوں گی جنہیں کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن(سی ڈبلیو سی)کے تحت کیمیائی ہتھیارقرار دیا گیا ہے۔
سی ڈبلیو سی کے تحت کیمیائی ہتھیاروں کی تعریف میں تمام زہریلے کیمیکلز اور ان کے پیش رو شامل ہیں ماسوائے تب جب انھیں کنونشن کی اجازت کے تحت دیے گئے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے اور اس اجازت نامے میں مقدار کا تعین بھی شامل ہوتا ہے۔
کیمائی ہتھیار کتنی اقسام کے ہوتے ہیں؟
کیمیائی ہتھیاروں کی مختلف اقسام ہیں:
نرو ایجنٹس: اعصابی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں (جیسے: سارین، وی ایکس)
بلسٹرایجنٹس: جلد، آنکھوں اورانسانی جھلیوں میں شدیدجلن اوردردپیدا کرتے ہیں (جیسے: مسٹرڈ گیس)
چوکنگ ایجنٹس: سانس کے نظام کو متاثر کرتے ہیں(جیسے: فاسجین، کلورین)
بلڈایجنٹس: جسم کی آکسیجن استعمال کرنےکی صلاحیت کومتاثر کرتے ہیں(جیسے: سائنائیڈ مرکبات)۔
رائٹ کنٹرول ایجنٹس: عارضی جلن پیدا کرنےوالے غیر مہلک ایجنٹس (جیسے: آنسو گیس)
چوکنگ یا دم گھٹنے والے ایجنٹ جیسے فاسجین پھیپھڑوں اور نظام تنفس پر حملہ کرتے ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں