(گزشتہ سے پیوستہ)
سب سے زیادہ مہلک نرو ایجنٹ ہوتے ہیں جو دماغ کے پیغامات کو جسم کے پٹھوں تک پہنچانے میں مداخلت کرتے ہیں۔ ان کا ایک چھوٹا سا قطرہ بھی بہت مہلک ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر 0.5 ملی گرام سے بھی کم ایک ایجنٹ ایک بالغ شخص کو مارنے کے لیے کافی ہے۔یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ سارین کو سائینائیڈ سے 20 گنا زیادہ مہلک سمجھا جاتا ہے۔ اس کے کے چند منٹوں کے اندر ہی دم گھٹنے سے انسان کی موت ہو سکتی ہے۔ ان تمام کیمیکل ایجنٹوں کو توپ خانے کے گولوں، بموں اور میزائلوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کی مدد سے بشار الاسد نے کس طرح اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھی؟بشار الاسد کی حکومت اور ان کے روسی اتحادیوں پر الزام ہے کہ انھوں نے مارچ 2011 ء سے شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران مخالفین کے خلاف کئی مرتبہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ تاہم اسد حکومت اور روس نے ان رپورٹس کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ تاہم فی الحال یہ معلوم نہیں ہے کہ شام کے پاس کتنے کیمیائی ہتھیار موجود ہیں اور یہ کہاں ہیں۔ البتہ خیال کیا جاتا ہے کہ سابق صدر بشار الاسد نے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے رکھے ہوئے تھے اور 2013 ء میں انہوں نے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق جو اعلان کیا تھا وہ غلط تھا۔
یاد رہے اگست 2013ء میں دمشق کے قریب شامی حزب اختلاف کے زیر قبضہ علاقے غوطہ میں کیے گئے ایک مبینہ کیمیائی حملے میں (جس میں نرو ایجنٹ سارین شامل تھا)1400سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مغربی ممالک اور شامی حکومت کے مخالف گروہوں نے اس حملے کا ذمہ دار بشار الاسد حکومت کو ٹھہرایا تھا تاہم اسد نے اس حملے کا الزام حزب اختلاف پر عائد کیا تھا۔ دمشق نے اس وقت اس حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی تھی۔ اس وقت امریکہ نے شام کو فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی لیکن پھر اسد کے اہم اتحادی روس نے اسے ملک میں موجود کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے پر رضامند کر لیا۔بین الاقوامی دبا اور دھمکیوں کے تحت بشار الاسد کیمیائی ہتھیاروں کے ذخائر کو ختم کرنے پر رضامند ہوئے اور او پی سی ڈبلیو کے کیمیائی ہتھیاروں کے معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد شام میں 1300 ٹن کیمیکل کو تباہ کیے گئے تھے تاہم عالمی اداروں کے مطابق ملک میں مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے جاری رہے اور بعد میں ہتھیاروں کے معائنہ کاروں نے ایسے شواہد دریافت کیے جو او پی سی ڈبلیو کی نگرانی میں 1997 ء کے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے تھے۔
2014 ء سے او پی سی ڈبلیو کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے شام میں زہریلے کیمیکلز کے استعمال کے الزامات کی تحقیقات کی ہیں۔ انھوں نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ ستمبر 2013ء سے اپریل 2018 ء کے درمیان 37 واقعات میں کیمیکلز کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا یا ان حملوں میں ان کے کے استعمال کا امکان ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے بین الاقوامی کمیشن برائے انکوائری کے مطابق شام میں 18 دیگر واقعات میں بھی کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔
2018 ء میں عالمی میڈیا کے تجزیے میں 164 رپورٹوں کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ 2014 ء سے 2018ء کے درمیان شام کی خانہ جنگی میں کم از کم 106 بار کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ حملے شمال مغربی صوبے ادلب میں ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہمسایہ صوبوں حما اور حلب اور دمشق کے قریب مشرقی غوطہ کے علاقے میں بھی بہت سے واقعات میں کیمیائی حملے ہوئے۔ یاد رہے یہ تمام علاقے جنگ کے دوران مختلف اوقات میں اپوزیشن کے گڑھ رہے ہیں۔
جن مقامات پر مبینہ کیمیائی حملوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں وہ صوبہ حما میں کفر زیتا اور مشرقی غوطہ میں دوما تھے۔ دونوں قصبوں میں مخالف جنگجوں اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائیاں ہوتی رہی ہیں۔ سب سے مہلک واقعہ 4 اپریل 2017 ء کو صوبہ ادلب کے قصبے خان شیخون میں پیش آیا۔4اپریل 2017 ء کو شمالی شام کے خان شیخون میں گیس کے حملے میں تقریباً 100 افراد مارے گئے۔ او پی سی ڈبلیو اور اقوام ِ متحدہ کے مشترکہ تحقیقاتی مشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس دن رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد سارین سے متاثر ہوئی تھی لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا زہریلا کیمیکل کلورین تھا۔
اقوام متحدہ کے کیمیکل واچ ڈاگ آرگنائزیشن فار دی پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز کی تحقیقات کے مطابق خانہ جنگی کے دوران شام کی حکومتی فورسز نے سرین نرو ایجنٹ اور کلورین بیرل بموں کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ او پی سی ڈبلیو کے مطابق ان کیانویسٹیگیشن اور آئڈینٹیفکیشن ٹیم (آئی آئی ٹی) کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ 4 فروری 2018ء کی رات سراقب کے خلاف حملوں کے دوران ایلیٹ ٹائیگر فورسز یونٹ کے زیر کنٹرول شامی عرب فضائیہ کے فوجی ہیلی کاپٹر نے کم از کم ایک سلنڈر گرا کر قصبے کے مشرقی حصے کو نشانہ بنایا۔
یاد رہے کلورین کا دوہرا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے جائز پرامن مقاصد کے لیے بھی استعمال کی جاتا ہے لیکن سی ڈبلیو سی کے مطابق بطور ہتھیار اس کے استعمال پر پابندی ہے ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ سلنڈر پھٹنے سے زہریلی گیس کلورین خارج ہوئی جو ایک بڑے علاقے میں پھیل گئی جس سے 12 افراد متاثر ہوئے تھے لیکن یہ معمہ ابھی تک تحقیق طلب ہے کہ دیگر 105 حملوں کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ جے آئی ایم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بلسٹر ایجنٹ سلفر مسٹرڈ پر مشتمل دو حملے نم نہاد داعش نے کیے تھے اور اعداد و شمار کے مطابق ایسے شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ داعش نے تین دیگر مبینہ حملے بھی کیے تھے۔(جاری ہے)