(گزشتہ سےپیوستہ)
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں اسرائیل کے عزائم کو نفرت انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ’’وہ دجلہ اور فرات کے درمیان ہمارے وطن کی سرزمین ہتھیانے کا خواب دیکھتے ہیں اور کیونکہ وہ غزہ کو قبول نہیں کرنا چاہتے، وہ اس کا اظہار اپنے نقشوں سے کر رہے ہیں‘‘۔ کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے ایک سینئر فیلو کے مطابق اس وقت نیتن یاہو جو نئے مشرق وسطیٰ کی صورت میں مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا مقصد فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کی کالونی بنانا ہے۔ اسرائیل خاص طور پر مغربی کنارے میں اپنے آباد کاری کے منصوبے کو توسیع دینے کے ارادوں سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ وہ عرب اور بین الاقوامی تنقید کے باوجود بستیوں کی تعداد بڑھانے کے ارادے کا اعلان کر چکا ہے۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے مطابق “اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت میں متعدد وزرا دو ریاستی حل پر یقین نہیں رکھتے اور اب ہم 1993 ء میں اوسلو معاہدے کے بعد سے ایک فلسطینی ریاست سے دورنظر آتے ہیں۔لگتا یہ ہے امریکہ ان اسرائیلی نقشوں کو منظور نہیں کرے گا جن میں فلسطینی علاقے شامل نہ ہوں کیونکہ نئے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اسرائیلی نظریہ ایرانی خطرات سے پاک خطہ قائم کرنا مقصود ہے لیکن سکیورٹی امور کے ماہر اور ریٹائرڈ اسرائیلی انٹیلی جنس افسر میری آئزن نے اس مؤقف کی نفی کی اور کہا کہ اسرائیل ایک نیا مشرق وسطیٰ مسلط کرنا نہیں چاہتا تاہم اسرائیل یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کی سخت گیر حکومت مشرق وسطیٰ کی علاقائی ترتیب پر اثر انداز نہ ہو۔دراصل نیتن یاہو کے الفاظ کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اب وہ اپنی اس تاریخی حیثیت کو دوبارہ بحال کرنا چاہتا ہے جو سات اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملوں کے بعد متاثر ہوئی اور جس میں اسرائیل کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں کیے جانے والے ایک بڑے اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کی ہلاکت کو جنگ میں ایک اہم جغرافیائی اور سیاسی موڑ سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے اسرائیل پر متعدد بیلسٹک میزائلوں سے یکم اکتوبر کو حملہ کیا۔ اس حملے کو ایران اپنی سرزمین پر حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کا بدلہ قرار دے رہا ہے جبکہ اسرائیل نے اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ امریکہ اپنی سٹرٹیجک برتری کو یقینی بنانے کے لیے اسرائیل کی حمایت کرتا ہے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس نے خطے میں اپنی فوج کی تعیناتی میں بھی خاطر خوا اضافہ کیا ہے تاہم یہ حمایت اس بات پر مشروط ہے کہ اسرائیل ان حدوں (سرخ لکیروں)کو عبور نہ کرے جن کا اعادہ امریکہ سرکاری سطح پر کرتا رہا ہے۔ وہ حدیں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا اور دو ریاستی حل کی جانب جانا ہیں۔تاہم ٹرمپ نے اپنے گزشتہ اقتدار میں خطے میں حالات معمول پر لانے کے منصوبوں کے تناظر میں اقتصادی اور فوجی سپورٹ کی پیشکش کی اور اس دوران عرب ممالک پر زور دیا کہ اسرائیل ان کے لیے علاقائی خطرہ نہیں بلکہ اس کے برعکس، ایران کا مقابلہ کرنے میں ایک سٹریٹجک پارٹنر ہے۔ جس کے نتیجے میں مراکش، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ ابراہم معاہدے پر دستخط کئے۔ لیکن سات اکتوبر 2023ء کے حملے اور اس کے نتیجے میں اسرائیل غزہ جنگ کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں۔اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہا ہے جو خطے میں شیعہ اکثریتی ایران کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور اثر و رسوخ کی مخالفت کرتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں اس کی بالادستی سے خوفزدہ ہے۔
تاہم سعودی عرب نے فنانشل ٹائمز کے ایک مضمون میں باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک سفارتی تعلقات قائم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔ سات اکتوبر 2023ء سے ہونے والی جغرافیائی، سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں نے مصر، شام، لبنان اور اردن سمیت دیگر عرب ممالک کی سوچ کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان ممالک نے 1948 ء میں فلسطین کی تقسیم کے فیصلے میں احتجاجاً اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
تاہم اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نصف رواں مالی سال کے دوران اسرائیل اور پانچ عرب ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان ممالک میں متحدہ عرب امارات، مصر، بحرین اور مراکش شامل ہیں۔ اسرائیلی اخبار ماریو نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے پر رپورٹ کی ہے جس کے مطابق اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی راستہ سعودی عرب اور اردن سے گزر کر مصر تک پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل کی گیس کو مصر کے کچھ پاور گرڈز کے لیے سپلائی کا ایک بڑا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔
خطے کے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ایک نئے علاقائی نظام کی تشکیل کے لیے سفارت کاری، اقتصادی شراکت داری اور ایک مضبوط دفاعی اور فوجی کارروائی کو یکجا کرنا چاہیے۔مڈل ایسٹ سینٹر کارنیگ نے تیزی سے بڑھتی علاقائی اور عالمی تبدیلیوں کے بارے میں فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ صورتحال مزید عالمی تنازعات کو جنم دے رہی ہے۔ان کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تبدیلیوں کو بین الاقوامی صورتحال سے الگ تھلگ نہیں دیکھا جا سکتا، اس سے امریکہ، روس، چین اور یورپ کی مقامی سیاست میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔انہیں خدشہ ہے کہ علاقائی اور عالمی تبدیلیوں سے ہم جنگ کے رجحان کو ہوا دے رہے ہیں اور یہ خوف بھی لاحق ہے کہ کہیں ممکنہ جنگ دنیا کو تاریک کرنے کا سبب نہ بن جائے!