مولانا جلال الدین رومی ؒنے ایک بار اپنے دوست شمس الدین تبریزی سے سوال کیا،نفس کی آگ کو کیسے ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے؟شمس نے مسکرا کر جواب دیا،استغنا کے ذریعے۔ استغنا اختیار کرو، میرے دوست، کیونکہ جو مال دنیا کو ترک کر دیتا ہے، وہ حقیقی بادشاہ بن جاتا ہے اور اللہ کے سوا ہر چیز سے بے نیاز ہو کر مستغنی ہو جاتا ہے۔پھر مولانا رومی نے پوچھا اور انسانوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟شمس نے کہا: لوگ دو طرح کے ہیں:
1 -جو تمہیں چھوڑنا چاہے، وہ دروازے کی درز میں بھی راستہ ڈھونڈ لے گا۔ -2جو تم سے محبت کرتا ہے، وہ پتھر میں بھی سوراخ کر کے تمہارے قریب آنے کا راستہ بنا لے گا۔یہ گہرے الفاظ صرف تعلقات کو سمجھنے کا درس نہیں دیتے بلکہ انسان کے نفس کی پاکیزگی، سکون، اور اللہ سے وابستگی کا راستہ بھی دکھاتے ہیں۔رومی کے اشعار میں استغنا کی حکمت مولانا رومی نے استغنا کی عظمت کو اپنے فارسی اشعار میں بے مثال انداز میں بیان کیا ہے۔وہ فرماتے ہیں:
ہر کہ دل در بند دنیا میکند
درد و رنجی بیکران پیدا کند
ہر کہ بر درگاہ حق جان می سپارد
در دل او سکون و آرامی باشد
ترجمہ:جو شخص دنیا کی محبت میں دل لگا لیتا ہے،وہ بے پایاں دکھوں کا شکار ہو جاتا ہے۔جو اپنے دل کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے،اس کے دل میں سکون اور راحت بسیرا کر لیتی ہے۔
مزید فرماتے ہیں:
این جہان جز خانہ فانی نبود
قلب خود در عشق او فانی نمود
ہر کہ دل آزاد از دنیا کند
پادشاہی بر دلہا پیدا کند
ترجمہ: یہ دنیا محض ایک فانی گھر ہے،جو اپنے دل کو اللہ کی محبت میں فنا کر دیتا ہے،وہ دل کو دنیا کی وابستگی سے آزاد کر لیتا ہے اور دلوں کا بادشاہ بن جاتا ہے۔قرآن و حدیث کی روشنی میں استغنا قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ومن یتقِ اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ مِن حیث لا یحتسِب ومن یتوکل علیٰ للہِ فہو حسبہ (سورہ الطلاق: 2-3 )
ترجمہ: اور جو اللہ کا تقویٰ کر لیتا ہے، اللہ اس کے لئے راستہ نکال دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتا اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اس کے لئے کافی ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ استغنا، اللہ پر توکل اور مادیت سے بے نیازی ،سکون اور کامیابی کے راز ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
لیس الغِنی عن کثرۃِ العرضِ، ولِکن الغِنی غِنی النفس (صحیح بخاری: 6446)
ترجمہ: مالداری مال و دولت کی کثرت سے نہیں بلکہ نفس کی بے نیازی سے ہے۔
استغنا کی عملی تطبیق استغنا کی روحانی کیفیت کو اپنانے کے لئے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
-1 اللہ پر مکمل بھروسہ:اللہ کے سوا کسی پر انحصار نہ کریں۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں اور اسی سے اپنی حاجت طلب کریں۔ -2مادیت سے دوری:دنیاوی اشیاء اور خواہشات کی لالچ سے بچیں۔ قناعت اور زہد کو اپنا شعار بنائیں۔ -3تعلقات میں توازن`جو لوگ آپ کی زندگی سے جانا چاہتے ہیں، انہیں خوش دلی سے جانے دیں۔جو لوگ آپ سے محبت کرتے ہیں، ان کی قدر کریں اور ان کے ساتھ محبت اور احترام کا معاملہ کریں۔ -4ذکر اور دعا، اللہ کا ذکر اور دعا روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں یہ دل کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے اور سکون عطا کرتا ہے۔ -5صبر اور قناعت،ہر حال میں صبر سے کام لیں اور جو کچھ اللہ نے عطا کیا ہے، اس پر قناعت کریں۔مولانا رومی کے اشعار کا خلاصہ مولانا رومی کے الفاظ ہمیں ایک عظیم سبق دیتے ہیں،دل کو اللہ کے سوا کسی شے سے نہ باندھو،کیونکہ دل کی وابستگی انسان کی اصلیت کو ظاہرکرتی ہے۔جو دل کو آزاد کر لیتا ہے،وہی حقیقی بادشاہ بن جاتا ہے۔استغنا نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنے اور انسان کو حقیقی سکون عطا کرنے کا ایک عظیم درس ہے۔جلال الدین رومی اور شمس الدین تبریزی کی حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ پر توکل، قناعت، اور زہد ہی وہ راستے ہیں جو ہمیں مادیت کی آگ سے بچا کر روحانی بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔مولانا رومی کے الفاظ میںمحبت حق میں اپنے آپ کو فنا کر دو،پھر دنیا کے دکھ تمہیں چھو بھی نہیں سکیں گے۔اللہ کی یاد میں دل کو مشغول رکھو،پھر سکون تمہارے دل کا ہمسفر بن جائے گا۔