Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

امام ابوبکر بن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ

تاریخ اسلام اپنے دامن میں چاندستاروں کا ایک وسیع و عریض جھرمٹ لئے ہوئے ہے، اسی جھرمٹ میں سے کبھی کبھی کوئی ستارہ الگ کر کے آپ کی نذر کرتا رہتا ہوں کہ اپنے اکابرکی یادیں تازہ رہیں ۔آج آسمان رفعت کا جو ستارہ منتخب کیا ہے ان کا نام امام ابوبکر بن ابی شیبہ رحمت اللہ علیہ ہے ۔
159ھ میں سرزمین کوفہ پر جنم لیا ۔پورا نام عبداللہ بن محمد بن ابراہیم عثمان العبدی الکوفی۔ماہر علم الرجال،اپنے دور کے محدث اور فقیہہ۔جن کا پورا خانوادہ علم و فضل کے شغل عظیم میں عزیمت کا مقام رکھتا تھا، بھائی عثمان بن ابی شیبہ اور قاسم بن ابی شیبہ کا شمار بھی کوفہ کے محدثین میں ہوتا تھا۔
سفیان بن عیینہ،وکیع بن جراح،عبداللہ بن مبارک اور یحییٰ بن سعید القطان جیسیاساتذہ کے حضور زانوئے تلمذ طے کیا ۔امام مسلم ،امام ترمذی اور امام نسائی جیسے عظیم المرتبت اشخاص ان کے شاگرد تھے۔
امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے تدوین احادیث میں بہت نمایاں کردار اداکیا اور ان کی کتاب ’’المصنف‘‘کا شمار علوم حدیث کی بڑی کتب میں ہوتا ہے جس میں فقہی موضوعات کو ترتیب وار مرتب کیا گیا ہے۔اس کتاب میں آثار صحابہ رضی اور تابعین کرامؒ کے اقوال مبارکہ بھی شامل کئے گئے ہیں ۔
امام ابوبکر نہ صرف محدث تھے بلکہ فقہ میں بھی گہری بصیرت سے سرفراز تھے اور اہل کوفہ کے فقہی مکتب فکر سے وابستہ تھے جس کا فقہی میلان حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امام ابو حنیفہؒ کی فقہ کی جانب جھکائو تھا۔آپ نے درس و تدریس اور کتب کے ذریعے اہل سنت والجماعت کے عقائد کے فروغ اور بدعات سے اجتناب کی طرف امت کو راغب فرمایا۔آپ کی معروف ترین کتاب ’’المصنف‘‘ تھی جس میں 37ہزار سے زیادہ احادیث اور آثار کا خزانہ جمع کیا۔ اپنی کتاب’’کتاب الایمان ‘‘ میں انہوں نے ایمان کے اہم و اصل تقاضوں پر روشنی ڈالی ۔
اس کے علاوہ کتاب الزہد میں امام نے زہد و تقوی سے متعلق احادیث جمع کیں ۔آپ کی کتب اور علمی خدمات نے آپ کے معاصر علما و فقہا کو بہت متاثر کیا ۔امام ابوبکر کی کتاب’’مصنف‘‘ کو مسند ابی شیبہ بھی کہاجاتا ہے۔جو حدیث و فقہ کا خوبصورت امتزاج ہے جس میں مختلف مکاتب فکر کے درمیان پائے جانے والے فقہی اختلافات اور اس بارے ان کے نظریات و و دلائل پر بحث کی ہے۔
کتاب ہذا میں صحیح، حسن اور ضعیف احادیث بھی موجود ہیں جن کے سندی پہلوئوں کو اجاگر کرنے کا تردد اس لئے نہیں کیا کہ فقہی استدلال کی راہ ہموار ہو۔کتاب ’’مصنف ابن ابی شیبہ‘‘ بعد کے محدثین اور فقہا، امام بخاری،امام مسلم اور امام ترمذی نے سے استفادہ کیاکتاب ہذا کو اسلامی فقہ کے ابتدائی مکاتب کے اختلافات کو سمجھنے کا ایک اہم ماخذ تصورکیاجاتا ہے۔کیونکہ یہ کتاب حدیث اور فقہ کے عملی مسائل سے متعلق ایک مجموعے کی حیث رکھتی ہے اس لئے اسے حدیث اور فقہ کا انسائیکلوپیڈیا بھی کہا جاتا ہے۔
امام ابوبکر بن ابی شیبہ کی ایک اور اہم کتاب ’’اقضیہ الرسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم:ہے‘‘۔جس میں نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فیصلوں اور قضایا یعنی عدالتی معاملات کو یکجا کیا گیا ہے ۔یہ کتاب اسلامی قانون شریعت کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کا انتہائی اہم وسیلہ ہے۔جس سے علمائے امت نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ کے فیصلوں سے استفادے کی روشنی میں امت کی رہنمائی کرتے ہیں۔
اس کتاب میں سماجی حقوق و فرائض،معاملات اور حدود وتعزیرات سے متعلق رہنمائی ملتی ہے۔کتاب میں ایسے واقعات بیان کئے گئے ہیں جو رسول اطہر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بطور قاضی سے متعلق ہیں کہ مختلف تنازعات، مقدمات اور معاشرتی مسائل بارے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کیا فیصلے صادر فرمائے۔
ان فیصلوں میں اسلامی اصولوں، عدل وقسط اور شریعت کے عملی نفاذ کی وضاحت ملتی ہے اور اسلامی نظام اخلاقیات کی روح سمائی ہوئی ہے اور زندگی کے مختلف امور یعنی نکاح و طلاق،قتل و قصاص،چوری ،زنا اور حدود بارے فیصلوں کا تفصیلی بیان ہے کہ جس کی روشنی میں کسی بھی مملکت اسلامیہ کی عدلیہ عملی استفادہ کر سکتی ہے۔ امام ابوبکر بن ابی شیبہ کا انتقال 235ھ میں ہوا اور کوفہ میں آسودہ خاک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں