اسلامی ابتدائی سنہری دور سائنسی، طبی، ریاضی اور فنون کے میدان میں غیر معمولی کامیابیوں کا زمانہ تھا۔ مسلمان علماء نے نہ صرف قدیم تہذیبوں کے علم کو محفوظ کیا بلکہ اسے مزید بہتر، جدید اور دنیا کے لیے انقلابی بنایا۔ مختلف شعبوں میں مسلمان سکالرز کی مثالی ،نمایاں اور تاریخی کامیابیوں کا تفصیلی جائزہ پیش جارہا ہے۔ -1اعداد کا نظام اور اعشاری نظام بانی: الخوارزمی (نویں صدی) مقام‘ بغداد، عراق الخوارزمی نے اس وقت کے اعدادی نظام کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور اس میں تاریخی اعشاری نظام، اور صفر کے استعمال کا ا ضافہ کرکے ،اس کو بہتر بنایا اور جدید ریاضیات اور کمپیوٹیشن کی بنیاد رکھی۔ -2 ریاضیات بانی: الخوارزمی مقام، بغداد، عراق الخوارزمی الجبرے کی بنیاد رکھی جو آج تک انہی سے منسوب اصل عربی نام کے ساتھ دنیا بھر میں مستعمل اور مشہور ہے۔ ان کی کتاب کتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ نے منظم، علم ریاضیات اور جیرمیٹری کی بنیاد رکھی۔ جو آج تک اسی طرح موجود ہے۔ ان کی کتاب اور علم اور اصول لاطینی زبان میں ترجمہ کیے گئے اور پھریورپی ریاضیات کی ترقی میں بنیاد بنے۔ -3 دنیا کی پہلی یونیورسٹی‘ بانی: فاطمہ الفہری مقام فاس، مراکش مسلمان خاتوں فاطمہ الفہری نے 859 عیسوی میں القروین یونیورسٹی قائم کی، جو دنیا کی سب سے پرانی اور پہلی یونیورسٹی کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ یہ علم کے مختلف شعبوں، جیسے الہیات، طب، اور فلکیات، کا مرکز بنی۔ -4قاہرہ میں پہلا ہسپتال بانی: احمد بن طولون مقام: قاہرہ، مصراحمد بن طولون ہسپتال، جو نویں صدی میں قائم کیا گیا، ابتدائی منظم ہسپتالوں میں سے سب سے پہلے تھا۔ اس نے سب کو مفت طبی سہولیات فراہم کیں اور مخصوص وارڈز اور منظم مریضوں کی دیکھ بھال متعارف کرائی اور مریض کا طبی ریکارڈ ڈر رکھنے کا نظام مرتب کیا -5 سرجری اور طبی انسائیکلوپیڈیا بانی، الزہراوی (ابوالقاسم) مقام، قرطبہ، ہسپین الزہراوی کو جدید سرجری کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کی کتاب التصریف لمن عجز عن التالیف ایک 30جلدوں پر مشتمل طبی انسائیکلوپیڈیا تھی، جس میں سرجیکل تکنیک، اوزار، اور کیس اسٹڈیز شامل تھے۔ یہ کتاب صدیوں تک یورپ میں ایک کلیدی حوالہ بنی رہی۔اس طرح بو علی سینا معروف عالم طب کی پہلی کتاب قانون الطب ماضی قریب تک یورپ و امریکہ کی طبی تعلیم کا حصہ رہی -6 فوٹوگرافی اور عینک اور بصریات،بانی ابن الہیثم (الحسن) مقام، بصرہ(موجودہ عراق) ابن الہیثم کی کتاب کتاب المناظر (1021عیسوی) نے روشنی اور بصارت کی سمجھ کو انقلاب بخشا۔ انہوں نے پن ہول کیمرے اور کیمرہ اوبسیورا کے اصولوں کی وضاحت کی، جو جدید فوٹوگرافی کی بنیاد بنے۔-7سوشل سائنس اور سوشیالوجی بانی، ابن خلدون مقام: تیونس، تیونس ابن خلدون کو سوشیالوجی اور تاریخ نویسی کا بانی کہا جاتا ہے۔ ان کی مشہور کتاب مقدمہ نے تاریخ، سماج، اور معیشت کا منظم مطالعہ متعارف کرایا۔-8 پہلا کتب خانہ بانی، خلیفہ ہارون الرشید مقام، بغداد، عراق نویں صدی میں خلیفہ ہارون الرشید کے زیر انتظام بیت الحکمت قائم کیا گیا، جو دنیا کا پہلا بڑا کتب خانہ تھا ‘ام، بغداد، عراق نویں صدی میں خلیفہ ہارون الرشید کے زیر انتظام بیت الحکمت قائم کیا گیا، جو دنیا کا پہلا بڑا کتب خانہ اور علمی مرکز تھا۔ یہاں یونانی، فارسی، اور ہندوستانی متون کے تراجم کے ساتھ ساتھ مسلمان علما کے اصل کام بھی موجود تھے۔
-9 کیمیائی عمل اور کشید کاری بانی: جابر بن حیان(گیبر)مقام،کوفہ، عراق جابر بن حیان کو کیمسٹری کا بانی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کشید کاری اور کیمیاوی عمل کی تکنیک متعارف کروائیں، جو جدید کیمسٹری کی ترقی کے لئے اہم تھیں۔ انہوں نے کیمیائی عناصر کو صاف کرنے کے عمل کی بنیاد رکھی۔-10پوسٹل سروس بانی: خلیفہ عمر بن خطاب مقام، مدینہ منورہ۔ خلیفہ عمر کے دور میں ڈاک کا نظام(برید)منظم کیا گیا۔ اس میں پیغام رسانی کے لئے ریلے اسٹیشنز اور قاصدوں کا نیٹ ورک شامل تھا، جس نے اسلامی سلطنت کے وسیع علاقے میں رابطہ آسان بنایا۔اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ نے مدینہ منورہ میں گھروں کی نمبرنگ کا نظام متعارف کرایااور پھر سوشل سیکورٹی کے مالی امداد کا نظام کا تعارف اور آغازکرایا‘ -11 صابن کی تیاری موجد، مسلمان کیمیا دان(مثلاً الرازی) مقام، بغداد، عراق مسلمانوں نے نویں صدی میں زیتون کے تیل اور الکلی سے صابن تیار کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ الرازی کی تحریریں صابن بنانے کے طریقوں کو بیان کرتی ہیں، جو اسلامی دنیا اور اس سے آگے صفائی کا لازمی حصہ بن گیا۔-12جغرافیہ اور نقشہ سازی نمایاں شخصیات: ابن بطوطہ اور الادریسی مقامات، مراکش اور سسلی ابن بطوطہ، تاریخ کے عظیم مسافروں میں سے ایک، نے افریقہ، مشرق وسطیٰ، ایشیاء، اور یورپ کے 75,000میل سے زیادہ سفر کیا اور اپنے مشاہدات کو رحلہ (سفرنامہ)میں قلمبند کیا۔ ان کی تفصیلی تحریروں نے نقشہ سازوں کو دنیا کے درست نقشے بنانے میں مدد دی۔الادریسی نے سسلی میں کام کرتے ہوئے تبہہ الروجرینہ تیار کی، جو ایک اعلیٰ درجے کا عالمی نقشہ اور جغرافیائی انسائیکلوپیڈیا تھا، -13الحمرا محل اسلامی شاہکار تعمیر مقام، غرناطہ، اسپین الحمرا محل، اسلامی فن تعمیر کا شاہکار، 13ویں اور 14ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔
اس کی پیچیدہ ڈیزائن، پانی کے چشمے، اور جیومیٹرک نمونے مسلمان انجینئرز اور کاریگروں کی مہارت کو ظاہر کرتے ہیں اور دنیا کے بڑے سات عجوبوں میں اہم ترین ہے۔ اسی طرح بعد کے دور میں تاج محل اور قطب مینار ہندوستان میں اسلامی فن تعمیر کے عجائب میں سے ہیں۔ مسلمان علماء اور موجدوں نے تاریخ کے دھارے کو بدلنے والے انقلابی کارنامے انجام دئیے۔ ریاضیات سے سوشیالوجی، طب سے تعمیرات تک، ان کی کامیابیاں علم کی جستجو اور تحقیقی جذبے کی عکاسی کرتی ہیں، جو اسلامی سنہری دور کا خاصہ تھا۔ ان عظیم شخصیات نے نہ صرف قدیم علم کو محفوظ کیا بلکہ آج کی ترقی کی بنیاد بھی رکھی۔ لیکن آج کے مسلمان اور علماء علم و دانش اور حمت و شجاعت سے دور باہمی نفاق اور مال و کرسی کی دوڑ میں جہالت اور ذلت کا نمونہ بن گئے۔ کاش ہم جاگ جائیں اور عظمت رفتہ سے وابستہ ہوکر دین اسلام کی اصل روح اور اپنے اسلاف کی پیروی کے لئے ایک باہم متحد قوم و ملت بننے کی فکر کریں اور عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے اخوت کی عظیم مثال قائم کریں۔