Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

شام، اسدی اقتدار کا عبرتناک اختتام

شام مشرق وسطیٰ کا ایک اسلامی ملک ہے ۔اس کے شمال میں ترکیہ، مشرق میں عراق ، جنوب میں اردون، جنوب مغرب اسرائیل اور مغرب میں بحیرہ روم اور لبنان واقع ہیں ۔ آبادی تقریباً اڑھائی کروڑ ہے ۔ اس میں اسی فیصد سنی اور تیرہ فیصد علوی شیعہ ہیں ۔ شام کی تاریخ اور ثقافت بڑی قدیم ہے ۔ ہابیل اور قابیل کی لڑائی بھی یہاں ہی ہوئی تھی ۔ حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام بھی یہیں مدفون ہیں ۔ اصلاح الدین ایوبی بھی ادھر آسودہ خاک ہیں ۔تاریخی مسجد اموی بھی یہاں ہی واقع ہے۔سانحہ کربلا کے وقت دمشق اموی حکومت کا دارالخلافہ تھا۔ اموی مسجد کے صحن ہی میں حضرت امام حسینؓ کا سر مبارک لا کر رکھا گیا تھا ۔ دیگر شہدا کربلا کے سر مبارک بھی یہیں مدفون ہیں ۔اسیران اہل بیت کو بھی یہیں لایا گیا تھا۔حضرت زینب ؓنے دربار یزید میں اسی مقام پر دلیرانہ خطبہ دیا تھا۔ آپ کا مرقد اقدس بھی دمشق کے مضافات میں ہے ۔حضرت مسیح ؑ کا نزول بھی یہاں پر ہی ہونا ہے ۔ شام کی تاریخ بھی کافی دلچسپ ہے ۔ بنو امیہ اور سلطنت عثمانیہ کا زمانے میں یہ اہم تجارتی مرکز تھا۔ جنگ عظیم اول کے وقت یہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا ۔پھر فرانس نے اس پر 1918ء میں قبضہ کر لیا۔ تیس سال بعد 1948 ء میں شام فرانس سے آزاد ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا دو بلاکس میں تقسیم ۔ ایک روس اور دوسرا امریکہ ۔ شام نے روسی بلاک میں جانے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے ساتھ دفاعی اور تجارتی معاہدے کئے۔
ساحلی شہر طرطوس میں روس کو نیول بیس بنانے کی اجازت دی۔ یوں شام نے روس کے ساتھ دوستی کی بنیاد اپنے قیام کے ساتھ ہی رکھ دی۔ عین اسی دور میں فلسطینی سر زمین پر زبردستی اسرائیل کی ریاست قائم کی جا رہی تھی ۔جس کی پشت پر امریکہ برطانیہ اور اقوام متحدہ کی مکمل مدد تھی۔ فلسطین کے جدی باسیوں نے اس پر شدید رد عمل دیا جو آج تک جاری ہے ۔ اس خطے میں شام ، عراق اور مصر طاقتور اسلامی ممالک تھے ۔ سب نے متحد ہو کر اسرائیل سے جنگیں کیں۔ جنگ 1967ء میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کی مدد سے جوابی حملے میں اسرائیل نے شام اور مصر کے علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ جس میں مغربی کنارہ ، غزہ اور گولان کی پہاڑیاں شامل تھیں ۔ملک شام ابھی جنگ کے اثرات سے مکمل نکلا بھی نہ تھا کہ 1970ء میں ائیر فورس کے سربراہ حافظ الاسد نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ حافظ الاسد نے تیس سال شام پرحکومت کی ۔ اس کا دور بھی ظلم اور جبر کے سیاہ کرتوتوں پر محیط تھا ۔ انسانی اور شہری حقوق کی پامالی کے نئے باب رقم ہوئے ۔ طاقت اور بندوق کے زور پر عوام کو دبا کر رکھا ۔ آخر سال 2000 ء میں بادل نخواستہ اسے دنیا سے جانا پڑ گیا ۔ جس کے بعد اقتدار اس کے بیٹے بشار الاسد کے سپرد ہو گیا۔ بیٹا باپ کا بھی باپ نکلا ۔اس نے مخالفین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ اس کے جابرانہ سلوک سے عوام کے دل نفرت اور غصے کی آگ سے بھر گئے ۔جو نومبر 2024 ء کے آخر ہفتے میں آخرکار لاوہ بن کر پھٹ گئے ۔ جس نے اسدی اقتدار کو محض تیرہ روز میں پچھاڑ کے رکھ دیا ۔ بشار الاسد نے اہل خانہ سمیت فرار ہو کر جا روس میں پناہ لی ہے ۔ شام کی اس ڈرامائی صورتحال نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے ۔ آخر یہ سب کچھ اتنی برق رفتاری سے کیسے ہو گیا ۔ آئیں ہم اس کا تجزیہ کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اس خطے میں شام ، مصر اور عراق ایسے طاقتور ممالک تھے جو اسرائیل کو چیلنج کر سکتے تھے ۔ ان میں سے دو پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کی ملی بھگت سے برپا خانہ جنگی سے نحیف نژار ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کیلئے اب وہ خطرہ نہیں رہے تھے ۔ آجاکر شام ہی ایک ایسا ملک تھا جو اسرائیل کو آنکھیں دکھانے کے قابل تھا ۔ یہ روس کا مضبوط اتحادی بھی تھا ۔ اس کے ایران اور لبنان سے بھی گہرے تعلقات تھے ۔ خاص طور پر اسدی حکومت امریکہ اور اسرائیل کی نظروں میں کھٹکتی تھی ۔ اس پہ مستزاد اندرونی محاذ پر اکثریتی عوام اس سے تنگ اور راہ نجات کی تلاش میں تھی ۔
بشار الاسدکے زوال و ذلالت میں دونوں بیرونی اور اندرونی ہاتھ ہیں ۔ عرب بہار نامی انقلابی تحریک نے عرب دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔ 2010ء میں تنزانیہ سے اٹھنی والی اس لہر نے مصر ، لیبیا وغیرہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اس کی لہریں شام کی دہلیز پہ بھی ٹکرانے لگیں ۔ شام میں بھی حکومت مخالف تحریک چل پڑی ۔ خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا ۔ کچھ شہروں کا باغیوں نے کنٹرول بھی سنبھال لیا ۔ دارہ شہر میں مدرسے کے ایک طالب علم معاویہ نے دیوار پر بشار الاسد کے خلاف دیوار پر ایک جملہ لکھا ، اب ڈاکٹر آپ کی باری ہے ، نے پورے شام کو ہلا کر رکھ دیا۔ یاد رہے بشار الاسد کو ڈاکٹر کے نام سے بھی جانا تھا ۔ کیونکہ پیشے کے اعتبار سے وہ آنکھوں کا ماہر ڈاکٹر تھا۔ برطانیہ میں پڑھا اور اقتدار پر فائز ہونے سے قبل وہیں پریکٹس کرتا تھا ۔ حکومتی اداروں نے اس طالب علم کی اس جرات کو سنگین جرم بنا دیا۔ اس کو دیگر ساتھیوں سمیت حراست میں لے کر اذیت ناک تشدد سے دوچار کیا۔ جس کی دلخراش خبروں نے عوام کو رنجیدہ اور غصے سے جذباتی کر دیا ۔ جس نے احتجاجی تحریک میں شدت ڈال دی ۔ انقلاب کی یہ خونی لہر دوسال تک جاری رہی ۔ تاہم شامی حکومت روس ، ایران اور حزب اللہ کی مدد سے اس کو کچلنے کامیاب رہی ۔ اس میں بہت سارا جانی و مالی نقصان ہوا ۔ بہت سارے شہری ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ۔ آتش انقلاب وقتی طور پر تو ٹھنڈی ہو گئی لیکن بجھی نہ تھی ۔ چارسال بعد پھر 2016ء میں احتجاجی تحریک بھڑک اٹھی۔ جس کو کچلنے کے لئے اسدی حکومت نے زہریلے اور مہلک ہتھیار استعمال کئے ۔ لاکھوں لوگ ہلاک اور زخمی ہو ئے ۔ لاکھوں کی تعداد میں شامی شہری ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک خاص طور ترکیہ میں چلے گئے ۔ بشار الاسد کے اقتدار کو بچانے اور برقرار رکھنے میں روس ، ایران اور لبنان کا کلیدی کردار رہا ہے ۔خدا کا کرنا ایسا ہوا ، یہ تینوں ممالک اب اپنے ہی مسائل میں بری طرح الجھے گئے۔روس یوکرائن میں ، ایران اور حزب اللہ کے اسرائیل کے ساتھ سینگ پھنسے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی شام کی طرف خاص توجہ اور مدد دینے کے قابل نہیں۔ شامی باغیوں اور اسد مخالف بین الاقوامی قوتوں نے اس کمزوری کا خوب فائدہ اٹھایا ہے ۔ ابو محمد الجولانی کی قیادت میں نومبر کے آخری ہفتے میں اٹھنے والی طوفانی تحریک نے محض تیرہ روز میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا ہے ۔ پہلے سے موجود وزیراعظم کو کام جاری رکھنے کو کہا گیا ہے ۔ یاد رہے یہاں صدر شیعہ جب کہ وزیراعظم ہمیشہ سنی مکتبہ فکر سے ہوتا ہے ۔ عام معافی کا اعلان کر دیا ہے ۔ برسوں سے جیلوں میں گلتے سڑتے قیدیوں کی رہائی کا اعلان کر دیا ہے ۔
بشار الاسد سے امریکہ ، ترکی اور برطانیہ بھی ناراض تھا۔ اسرائیل تو ویسے ہی مخالف ہے ۔ شام اور ترکی کے سرحد کے دونوں اطراف کرد قبائل کی اکثریت ہے ۔ شام کی طرف کرد بہت حاوی ہیں ۔ جو نہ صرف شامی حکومت کے لئے پریشانی کا سبب تھے بلکہ ترکیہ کو بھی ان بارے خدشات اور تحفظات تھے ۔ اسطرح ترکی بشار الاسد حکومت کے ساتھ ناخوش تھی ۔ امریکہ شام پر روسی اور ایرانی اثر رسوخ اور قربت کی وجہ سے باغیوں کو اس کے خلاف سپورٹ کر رہا تھا ۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک بھی ایران اور حزب اللہ کے خلاف باغیوں کی حمایت اور مدد کر رہے تھے ۔ یورپین ممالک کو گیس فراہمی میں روس کی اجارہ داری ہے ۔ امریکہ اس کو ختم کرنا چاہتا تھا ۔اس سلسلے میں قطر سے یورپین ممالک تک گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا گیا ۔ مجوزہ پائپ لائن نے شام سے گزر کر جانا تھا مگر بشار الاسد نے اسکی اجازت نہیں دی ۔ اس لئے بھی امریکہ اور اس کے یورپین اتحادی کو بشار الاسد پر غصہ تھا اور وہ حساب برابر کرنا چاہتے تھے ۔ شام میں اگرچہ ظلم اور جبر کی طویل رات تمام ہوئی ہے ، مگر امن ، خوشحالی اور ملکی وحدت کے آفتاب کا ظہور ابھی باقی ہے ۔ ہئیت التحریر الشام چند انقلابی ، باغی گروپوں کا مجموعہ ہے ۔ جن کی قیادت ابو محمد الجولانی کے ہاتھ ہے ۔ خدشہ ہے کے ان گروپس کے مابین اتحاد ٹوٹ کر آپسی لڑائی میں نہ ڈھل جائے ۔ ایسا ہوا تو پھر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے عملی مداخلت کے خطرات بڑھ جائیں گے ۔ اسرائیل نے پہلے ہی شام میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے گولان کے بفرزون سے آگے تک پیش رفت کر کے مزید شامی علاقے پر قبضہ کر لیا ۔ جس میں ہرمن کا پہاڑ بھی شام ہے جہاں سے دمشق محض چالیس کلو میٹر ہے ۔ سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہوا ہے ۔ اسرائیل نے شام کے مختلف اسلحہ خانوں اور فوجی تنصیبات پر حملے کر کے تباہ کر دئیے ہیں اس کو اندیشہ تھا کہ ہو سکتا ہے یہی اسلحہ بارود باغی گروپس کل قلاں اس کے خلاف استعمال کریں ۔ شام سے لبنان میں حزب اللہ کی کمک بند ہو جائے گی ۔ روس کو سب سے بڑا دھچکا لگا ہے مشرق وسطیٰ میں اس کا واحد ملٹری بیس بھی بند ہو جائے گا ۔ ترکیہ شامی سرحد کے ساتھ بفر زون بنا کر اس کی دھرتی پہ موجود پینتیس لاکھ شامی مہاجرین کو آباد کرنے کی خواہش رکھتا ہے ، جس کی تکمیل کے لئے وہ کوشش کرے گا ۔ ہیت التحریر الشام کو چاہئے کہ وہ ملکی اتحاد ، جغرافیائی تحفظ ، سلامتی ، امن اور خوشحالی کی طرف توجہ دے ۔ عبوری سیٹ اپ بے شک قائم ہو چکا ہے ۔ جتنی جلد ہو عوامی نمائندہ حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ دوست ممالک کے ساتھ رابطے مضبوط کریں ۔ ملکی تعمیر نو کے لئے سعودی عرب ، ترکی اور خلیجی ممالک سے امداد لے ۔ دہشت گرد تنظیموں کو کنٹرول کرے ۔ مسلکی اور مذھبی اتفاق کو یقینی بنائے ۔ بصورت دیگر یہ فاتح پانی کا بلبلہ ہی نہ ثابت ہو ۔ اب شام اور اہل اقتدار کا اصل امتحان اب شروع ہوا ۔وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایکدم نہیں ہوتا ۔

یہ بھی پڑھیں