Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

شام میں ممکنہ تقسیم کاخطرہ اوراسرائیلی کردار

جونہی بشارالاسد خاندان کا53سال سے زائدجبراوراستبدادکادورختم ہوا،اسرائیل نے فوری طور پر ان حالات کافائدہ اٹھاتے ہوئے گولان کی پہاڑیوں پرقائم ایک غیرفوجی بفرزون سمیت شام کی سرحدی حدودمیں موجودچنداہم پوزیشنزپرقبضہ کرلیاہے۔ اسرائیل شام میں ’’عسکری اہداف‘‘پراب تک سینکڑوں حملے کر چکا ہے۔اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے اسرائیل اورشام کے درمیان واقع گولان کی پہاڑیوں میں اقوام متحدہ کے زیرِنگرانی قائم غیرفوجی زون یابفرزون پربھی قبضہ کر لیاہے۔
اسرائیل کاکہناہے کہ فوجی کارروائیوں کا مقصد اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کویقینی بناناہے تاہم کچھ ماہرین کادعویٰ ہے کہ اسرائیل اپنے ایک دیرینہ دشمن (شام) کو کمزورکرنے کے لئے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہاہے اسرائیل کی جانب سے شام کے بحری بیڑے پربھی ایک بڑے حملے کی تصدیق کی گئی ہے۔اسرائیلی دفاعی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے پیرکی رات البیضااوراللاذقیہ کی بندرگاہوں کونشانہ بنایاجہاں شامی بحریہ کے15 بحری جہازلنگر اندازتھے توایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ اسرائیل شام پرمسلسل حملے کیوں کررہاہے؟
نیتن یاہوکے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورسزکو گولان کے پہاڑیوں میں واقع بفرزون اور دیگرنزدیکی کمانڈنگ پوزیشنزمیں داخل ہونے کاحکم دیاہے۔ اسرائیل کوباغیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے یہ اسرائیل کی جانب سے اٹھایا گیا ایک عارضی اقدام ہے تاہم سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک نے اس نوعیت کے اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی ہے۔
ہیئت التحریرکی جانب سے دمشق کاکنٹرول سنبھالنے کے بعدسے اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے دمشق میں موجودشامی فوج کی تنصیبات اورہیئت التحریرکے اہداف حلب،حماہ، دمشق،لتاکیا،طرطوس اور دیگرمقامات پر350 فضائی حملے کیے ہیں۔دراصل اسرائیلی حملوں کامقصدشام کی فوج کی لڑنے کی صلاحیت کوختم کرناہے۔شام کی سرحدی اورفضائی حدودکی مسلسل پامالی کی جارہی ہے جبکہ اسرائیل نے دنیاکودھوکہ دینے کے لئے دعوی کیاہے کہ اس کے حملوں کامقصداس بات کویقینی بناناہے کہ شام میں موجودکیمیائی ہتھیارشدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگیں۔
اسرائیل کے مطابق سابق بشارالاسدکے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کاذخیرہ اب کس کے پاس جائے گا، اس کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں کہ شام میں کہاں اورکتنے کیمیائی ہتھیارموجودہیں لیکن سوال یہ ہے کہ خوداسرائیل کے پاس جومہلک ہتھیار ہیں، کیا ان کوتباہ کرنے کے لئے بھی اسرائیل پر حملہ کرناجائز تصور کیا جائے گا؟چنددن پہلے اقوامِ متحدہ کے ہتھیاروں کے ادارے نے شامی حکام کومتنبہ کیاتھاکہ اگران کے پاس کیمیائی ہتھیارموجودہیں توانہیں محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔
شام کی فوج پرالزام ہے کہ انہوں نے ملک کے دیگرعلاقوں میں بھی سیرین گیس اورکلورین گیس سے بنے کیمیائی ہتھیاراستعمال کیے تھے۔ بشارالاسد کی فوج نے2013ء میں دمشق کے مضافاتی علاقے غوطہ میں ایک حملے میں سیرین گیس استعمال کی تھی اور اس حملے میں ایک ہزارسے زائدافرادکے مارے جانے کی اطلاعا ت تھیں۔ ان کاکہناہے کہ بشار الاسدنے یہ ہتھیاراس لیے رکھے تھے تاکہ اسرائیل کے ساتھ تنازع میں کسی حدتک طاقت کاتوازن پیداہوسکے لیکن وہ ان ہتھیاروں کو (اسرائیل کے خلاف)استعمال کرنے میں کبھی پہل نہیں کرنے کے خواہاں تھے لیکن اب شام میں ایک بالکل ہی مختلف حکومت ہے۔ اسرائیلی مؤقف یہ بھی ہے کہ ہیئت التحریر کے پاس بھی کیمیائی ہتھیارموجود ہیں کیونکہ انہوں نے بھی اپنے مخالفین پرکیمیائی ہتھیاراستعمال کیے تھے لیکن سوال یہ ہے کہ گولان کی پہاڑیوں میں توکہیں بھی کیمیائی ہتھیاروں کاذخیرہ موجودنہیں توپھراقوام متحدہ کی طرف سے قائم کردہ بفرزون پرقبضہ کرنے کاکیامقصدہے؟
گولان کی پہاڑیاں شام کاوہ علاقہ ہے جس پراسرائیل نے1967ء سے قبضہ کررکھاہے۔ گولان کی پہاڑیاں 1200مربع کلومیٹرپرپھیلی ہوئی ہیں۔یہ شامی دارالحکومت دمشق سے تقریباً 60کلومیٹرجنوب مغرب میں واقع ہیں۔ 1967ء کی جنگ کے دوران شام نے گولان کی پہاڑیوں سے اسرائیل پرحملہ کیاتاہم اسرائیل یہ حملہ پسپاکرنے میں کامیاب رہااوراس حملے کے ردعمل میں اسرائیل نے1200لومیٹرکے علاقے پرقبضہ کرلیا۔شام نے1973ء کی مشرق وسطیٰ جنگ (وم کپور)کے دوران گولان کی پہاڑیوں کاقبضہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ اپنی اس کوشش میں ناکام رہاتھا۔بعدازاں 1974ء میں شام اوراسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے پردستخط کئے اورتب سے اقوامِ متحدہ کی نگران فوج وہاں تعینات ہے۔
بعدازاں1974ء میں شام اوراسرائیل نے ایک جنگ بندی کے معاہدے پردستخط کیے جس کے تحت دونوں ممالک کی افواج کوگولان کی80کلومیٹرطویل سرحدی پٹی کے دونوں اطراف سے انخلاکی ضرورت تھی اوراس علاقے کو ’’ایریاآف سپریشن‘‘قراردیاگیااور اس کے بعدسے اقوام متحدہ کا’’ڈس انگیجمنٹ آبزرور فورسُز‘‘ نامی یونٹ اس معاہدے کی تعمیل کی نگرانی کے سلسلے میں وہاں موجودہے۔تاہم معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے1981ء میں اس علاقے کو اسرائیل نے یکطرفہ طورپراپناعلاقہ قراردے دیاتھا تاہم اسرائیل کے اس اقدام کوعالمی سطح پرتسلیم نہیں کیاگیااوراسے سخت تنقیدکانشانہ بنایاگیاتاہم 2019ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس ضمن میں سابقہ امریکی پالیسی کوترک کرتے ہوئے اس علاقے پراسرائیل کاحق تسلیم کرلیا۔شام کے مطابق وہ آئندہ اسرائیل سے اس وقت تک کوئی امن معاہدہ نہیں کرے گاجب تک وہ گولان کے پورے خطے سے انخلانہیں کرتا۔ نومبر2024ء میں شام نے اقوام متحدہ سے شکایات کی تھیں کہ اسرائیل بفرزون کے قریب اوربعض مقامات پراس کے اند ر خندقیں کھودرہاہے۔
جب گولان کی پہاڑیوں پرشام کاکنٹرول تھاتو 1948ء سے1967ء تک وہ پورے شمالی اسرائیل پرگولہ باری کرنے کے لئے باقاعدگی سے توپ خانے کا استعمال کرتاتھا۔دمشق ان پہاڑیوں سے تقریباً 60 کلومیٹرشمال میں واقع ہے اوران پہاڑیوں کی بلندی سے دمشق سمیت جنوبی شام کے زیادہ ترحصے واضح دکھائی دیتے ہیں۔اس جغرافیے کی وجہ سے اسرائیل کویہ مقام شامی فوج کی نقل وحرکت پر نظررکھنے کے لئے ایک بہترین مقام فراہم کرتاہے۔ان پہاڑیوں پرکنٹرول اسرائیل کوشام کی جانب سے کسی بھی ممکنہ فوجی حملے کے خلاف قدرتی بفرفراہم کرتاہے(جیساکہ1973ء کی جنگ کے دوران ہواتھا)۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں