(گزشتہ سے پیوستہ)
دوسری جانب گولان کی پہاڑیاں اس خطے میں،جوزیادہ تربنجرزمین پرمشتمل ہے،پانی کی فراہمی کاایک اہم ذریعہ بھی ہیں۔ان پہاڑیوں کی بلندیوں سے بہہ کرنیچے آنے والابارش کاپانی دریائے اردن میں داخل ہوتاہے،جس کی بدولت اس دریاکے اِردگردکی زمین اتنی زرخیزہے کہ یہاں انگوراوردیگرپھلوں کے باغات پنپتے ہیں جبکہ یہ زمین مویشیوں کے لئے چراگاہیں بھی فراہم کرتی ہے۔ ماضی میں شام اوراسرائیل کے درمیان کسی بھی امن معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ شام کایہ مطالبہ رہاہے کہ اسرائیل 1967ء سے پہلے کی پوزیشن پرواپس جائے اورقبضہ کیے گئے علاقے کومکمل خالی کرے۔
تاہم اگرایساہوتاہے توشام کو بحیرہ طبریا کے مشرقی ساحل کا کنٹرول مل جائے گا اور اسرائیل تازہ پانی کے ایک اہم ذریعے سے محروم ہو جائے گا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد مزید جانب مشرق ہونی چاہیے تاکہ خطے کے اہم ذرائع اور وسائل سے محروم نہ ہو سکے۔ اسرائیل میں رائے عامہ یہی ہے کہ اسرائیل کو گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ حکمت عملی کے لحاظ سے یہ بہت اہم ہے کہ اسے واپس نہ کیا جائے۔گولان کی پہاڑیوں پر ماضی میں آباد زیادہ تر شامی عرب باشندے 1967 ء کی جنگ کے دوران اس علاقے سے نقل مکانی کر گئے تھے۔ گولان کے علاقے میں اب 30 سے زائد اسرائیلی بستیاں موجود ہیں جن میں ایک اندازے کے مطابق 20 ہزارافراد رہائش پذیر ہیں۔ اسرائیلیوں نے 1967ء کے تنازعے کے اختتام کے فورا بعد اس علاقے میں آبادیاں بنانی شروع کر دیں تھیں تاہم یہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں۔یہ یہودی 20ہزاردرز شامیوں کے ساتھ رہتے ہیںجو گولان پر اسرائیلی قبضے کے دوران یہاں سے نکلے نہیں تھے۔ شام کا کہنا ہے کہ یہ سرزمین (گولان کی پہاڑیاں)ہمیشہ سے اس کی ملکیت ہیں اور جبکہ اسرائیل کے مطابق گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کے دفاع کے لئے بہت اہم ہیں اور ان کا کنٹرول ہمیشہ اس کے ہاتھ میں رہے گا۔۔
اس علاقے سے شامی فوج اس وقت نکل گئی تھی جب باغی گروہوں کے دستے دمشق کی جانب بڑھ رہے تھے اور بشار الاسد کا اقتدار ختم ہو رہا تھا اور اسی موقع پر اسرائیلی کی دفاعی افواج نے گولان کی پہاڑیوں پر غیر فوجی بفر زون کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ نیتن یاہو ایک مرتبہ پھراقوام عالم کو گمراہ کرنے کے لئے کہہ رہاہے کہ اس کی خواہش ہے کہ شام میں آنے والی حکومت کے ساتھ پرامن اور ہمسایوں والے تعلقات قائم کر سکیں۔ تاہم اگر ایسا نہیں ہوتا تو اسرائیلی ریاست اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔
اسرائیل میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ شام کی جانب سے فورسز گولان میں داخل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہے کہ مستقبل میں ہیئت التحریر گولان پہاڑیوں سے اسرائیل کے اند داخل نہ ہو سکے ، اس لئے اسرائیلی فوج سرحد میں مزید اندر تک داخل ہو گئی ہے لیکن اس بیانئے پر یقین کرنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں۔اسرائیلی فوج یہ بھی تسلیم کر رہی ہے کہ وہ گولان کی پہاڑیوں میں غیر فوجی بفر زون سے باہر کے علاقے میں بھی موجود ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت آگے نہیں گئے ہیں۔ ان کی افواج عارضی دفاعی پوزیشن اختیار کر رہی ہیں اور یہ عارضی بندوبست اس وقت تک کے لئے ہے جب تک کوئی مناسب انتظام نہیں ہو جاتا۔ اسرائیل کی خواہش ہے کہ وہ شام میں ابھرنے والی نئی قوتوں کے ساتھ پرامن اور ہمسائیگی پر مبنی تعلقات رکھیں لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہم اسرائیل کی ریاست اور اسرائیل کی سرحد کے دفاع کے لئے جو کچھ بھی کرنا پڑے وہ کریں گے۔
شام سے سامنے آنے والی رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ اسرائیل گولان کی پہاڑیوں سے آگے پیش قدمی کرتے ہوئے دمشق سے 25کلومیٹر کی دوری تک پہنچ گیا ہے لیکن اسرائیلی فوجی ذرائع نے اس بات کی تردید کی اور کہا ہے کہ فوج بفر زون سے آگے بڑھی ہے مگر اس حد تک نہیں۔ کئی عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کے شام میں حالیہ اقدامات کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ مصر کی وزارت خارجہ نے اسے شام کی سرزمین پر قبضہ اور 1974ء کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔نیتن یاہو نے کہا کہ ’’اس نے یہ اقدامات اسرا ئیل کی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے اٹھائے ہیں کیونکہ شام پر باغی گروہوں کے قبضے کے بعد 1974ء کا معاہدہ فعال نہیں رہا‘‘ بہت سے تجزیہ کار اسرائیل کے اس اقدام کے حوالے سے دئیے گئے جواز کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور نیتن یاہو کے مقف کو کوئی بھی تسلیم کرنے کا تیار نہیں کہ وہ شام کی جانب سے حماس کے 7اکتوبر کو ہونے والے حملے جیسے کسی بھی حملے کو روکنا چاہتا ہے۔
شام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا، اور اسرائیل کی جانب سے ان اقدامات کواپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کیا گیا پیشگی اقدام قرار دیکر غیر فوجی بفر زون میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا کوئی جواز نہیں بلکہ کھلی جارحیت ہے۔شام کے باغی گروپوں کی جانب سے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل سے قبضہ چھڑانے کے امکانات مستقبل قریب میں انتہائی کم ہیں۔ ہیئت التحریر ملک کے اندرونی معاملات میں اس حد تک مصروف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ایک نیا تنازع پیدا کرنے کے بارے میں سوچنے کا وقت بھی نہیں ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے شام کے علاقوں میں موجودگی شام میں آنے والی مستقبل کی حکومتوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو خراب کرے گی۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا ہے کہ ان کی فوج شام کے فوجی اڈوں پر فضائی حملے صرف اور صرف اپنے شہریوں کے دفاع کے لیے کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل سٹریٹجک ہتھیاروں کے نظام پر حملہ کرتا ہے جیسے باقی ماندہ کیمیائی ہتھیار یا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور راکٹ تاکہ وہ شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ پر گہری نگاہ رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ شام میں بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیار موجود نہیں ہیں۔ ان کے مطابق وہ صرف دو یا تین مقامات پر ہیں لیکن 250 سے زائد فضائی حملے کر کے آپ ملک(شام)کو بہت زیادہ کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایسا ہی لغو الزام عراقی صدر صدام حسین پر لگا کر عراق کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کے ساتھ کئی ملین عراقیوں کو شہید کردیا گیا تھا اور اب تک اس کے پٹرول پر قبضہ کر رکھا ہے۔
اسرائیل احتیاطی تدابیر کے طور پر بدترین حالات سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن یہ سب بے سود ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نئی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلق استور کرنے کا طریقہ نہیں ۔ہیئت تحریر الشام کی قیادت میں اسد خاندان کی سفاکانہ کہلائی جانے والی اور دہائیوں پر محیط حکمرانی کے خاتمے کے بعد اب شام کے مستقبل کے بارے میں کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ہیئت تحریر الشام کے رہنما ابو محمد الجولانی نے اہنے بیانات میں شام کو متحد کرنے کا عہد کیا ہے تاہم یہ بات غیر یقینی ہے کہ آیا وہ اس مقصد کو حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔ اقوام متحدہ نے شام میں تمام گروہوں کے درمیان تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر شام کے مستقبل کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ تاہم ماہرین نے ملک کے مستقبل کے تین ممکنہ منظرناموں پر روشنی ڈالی ہے۔ شام کے حق میں سب سے بہتر تو یہ ہو گا کہ ہیئت تحریر الشام ملک میں موجود دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرے اور ذمہ داری کے ساتھ حکومت کرے۔ جنگ کے بعد شام میں اب قومی مفاہمت کے ماحول کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہ بدلہ لینے اور لوٹ مار کی اس روایت کو توڑنے کا موقع ہے جس کی مثال پڑوسی ریاستوں میں ملتی ہے۔ ایسا نہ کیا گیا تو نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
اپنے ابتدائی بیانات میں جولانی نے شام کے مختلف فرقوں کے درمیان اتحاد اور باہمی احترام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ شام میں موجود متعدد گروہوں کے ایجنڈے ایک دوسرے سے مماثلت نہیں رکھتے۔ تاہم اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ لیبیا کی طرح شام بھی مختلف متحارب دھڑوں میں تقسیم کردیا جائے اور کوئی ایسا دھڑا برسرِاقتدار نہ آ جائے جو اسرائیل سے دشمنی رکھتا ہو۔ اسرائیل اور اس کے اتحادی یقینا شام میں موجود دھڑوں میں نفاق پیدا کرکے خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ اس خانہ جنگی کی آڑ میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو مزید آگے بڑھایا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کے دیگر ممالک جن کو فی الحال نیتن یاہو نے اقوام متحدہ مین اپنی تقریر کے دوران سبز رنگ میں دکھا یا ہے، ان کو کب اس خوش گمانی سے نجات ملے گی۔