(گزشتہ سے پیوستہ)
یادرہےاس سے قبل رواں سال ستمبرمیں امریکا نے ایک چینی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اورکئی کمپنیوں پرپابندیاں عائدکی تھیں جن کے بارے میں ان کادعوی تھاکہ وہ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کےلئے آلات اورٹیکنالوجی کی فراہمی میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ اسی برس اپریل میں چین کی تین اوربیلاروس کی ایک کمپنی جبکہ اکتوبر 2023ء میں پاکستان کو بیلسٹک میزائل پروگرام کے پرزہ جات اورسامان فراہم کرنے کے الزام میں چین کی تین مزیدکمپنیوں پراسی طرح کی پابندیاں عائدکی تھیں۔اس کے علاوہ دسمبر 2021 ء میں امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اورمیزائل پروگرام میں مبینہ طورپرمددفراہم کرنے کے الزام میں 13پاکستانی کمپنیوں پرپابندیاں عائدکی تھیں۔تاہم پاکستان نے اس امریکی اقدام کو ’’مایوس کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ حالیہ امریکی پابندیوں کا مقصد خطے میں عسکری عدم توازن کوبڑھاوا دینا ہے۔ اس سلسلے میں میرا6 اکتوبر24 کاکالم ’’امریکی پابندیوں کا اثر:چین اورپاکستان کاجوابی ردعمل‘‘اور14نومبر24کو ’’ایٹمی پاکستان:امریکی اوراسرائیلی مفادات کااصل چیلنج‘‘بھی شائع ہو چکے ہیں۔
تاہم حالیہ امریکی پابندیاں کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ70کی دہائی سے جاری ہے جب انڈیاکے میزائل پروگرام(جس کے لئے وہ روسی اورکئی دوسرے ذرائع سے مددحاصل کررہاتھا)کے جواب میں پاکستان نے اپنامیزائل پروگرام شروع کیااورہمیشہ سے چین کے ساتھ قریبی تعلقات بھی رہے۔چین اورپاکستان کی کمپنیوں اورافرادپرلگائی گئی ان پابندیوں کادونوں ملکوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گاکیونکہ پاکستانی ادارے اورنیشنل ڈویلپمنٹ کامپلیکس میزائل ٹیکنالوجیزکے لئے مغرب پر انحصارنہیں کرتے لہٰذاکسی پربھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
شمالی کوریاپرکتنی پابندیاں لگیں مگران پرکوئی اثرنہیں ہوا۔پاکستان کامیزائل پروگرام مکمل طورپرمقامی ہے،اس کاانحصارمقامی وسائل اورمہارت پرہے اوریہ امریکی پابندیوں سے متاثرنہیں ہوگاتاہم اس طرح کے اقدامات افسوسناک ہیں اورسب سے اہم بات یہ کہ یہ علاقائی تزویراتی حقائق سے جداہیں جیسے کہ ملک کی حفاظت وسکیورٹی اورانڈین میزائلوں کی بڑھتی ہوئی بین البراعظمی حدودجوعلاقائی اورعالمی امن،سلامتی اور استحکام کے لئے بڑھتے ہوئے خطرات ہیں لیکن امریکا کی گودمیں پناہ لینے والے یہودو ہنودان پابندیوں سے ماورا ہیں۔دراصل امریکاکے یکطرفہ اقدام عالمی امن کے لئے بدقسمتی اورتعصب پرمبنی ہیں۔ پاکستان کی سٹریٹیجک صلاحیتوں کامقصدملک کی خودمختاری کادفاع اورجنوبی ایشیاء میں امن قائم رکھناہے۔حالیہ امریکی پابندیوں کا مقصدخطے میں فوجی عدم تعاون کوبڑھاوا دیناہے جس سے امن اورسلامتی کی کوششوں کونقصان پہنچے گا پھرنجی کاروباری اداروں پراس طرح کی پابندیاں مایوس کن ہیں۔ ماضی میں ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤکے دعوئوں کے باوجوددوسرے ممالک کے لئے جدیدفوجی ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے درکار لائسنس کی شرط ختم کی گئی اورایسے دوہرے معیاراورامتیازی سلوک سے نہ صرف عدم پھیلائو کے مقصدکوٹھیس پہنچے گی بلکہ خطے اورعالمی امن وسلامتی کوبھی نقصان پہنچنے کاخطرہ ہے۔
اس سے قبل رواں برس ستمبرمیں امریکانے آرمزایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ اورایکسپورٹ کنٹرول ریفارم ایکٹ کے تحت چین کے تین اداروں،ایک چینی شخصیت اورایک پاکستانی ادارے پربیلسٹک میزائل کے پھیلائو کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پابندیاں عائدکی تھیں۔امریکاکاالزام تھاکہ بیجنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آٹومیشن فارمشین بلڈنگ انڈسٹری بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اوران کی ترسیل میں ملوث ہے اوراس نے شاہین تھری اورابابیل میزائل سسٹمزاورممکنہ طورپراس سے بھی بڑے سسٹمزکے لئے راکٹ موٹرزکی جانچ کے لئے آلات کی خریداری کے سلسلے میں پاکستانی ادارے نیشنل ڈویلپمنٹ کامپلیکس کے ساتھ مل کرکام کیاہے۔
امریکی بیان میں یہ الزام بھی عائدکیاگیاکہ یہ ادارہ بڑے سسٹمز کے لئے آلات خریدنے میں بھی ملوث ہے۔اس وقت جن دیگرکمپنیوں پرپابندی عائدکی گئیں ان میں چین کی ہوبئی ہواچانگدا انٹیلیجنٹ ایکوپمنٹ، یونیورسل انٹرپرائز،ژیان لونگدے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ اور پاکستانی کمپنی انوویٹیو ایکوئپمنٹ بھی شامل ہیں جبکہ امریکی پابندیوں کی زدمیں آنے والے چینی شخص کانام لووڈونگمی تھا۔
اس وقت امریکی محکمہ خارجہ نے یہ بھی کہاتھاکہ پاکستان کے طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کے بارے میں امریکاکے خدشات کئی سالوں سے’’واضح اور مستقل‘‘ہیں اورپاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی مخالفت امریکی پالیسی کاحصہ رہی ہے۔ یہاں یہ بھی یادرہے کہ امریکانے رواں برس اپریل میں چین کی تین اوربیلاروس کی ایک کمپنی جبکہ اکتوبر2023ء میں پاکستان کوبیلسٹک میزائل پروگرام کے پرزہ جات اورسامان فراہم کرنے کے الزام میں چین کی تین مزیدکمپنیوں پر اسی طرح کی پابندیاں عائدکی تھیں۔اس کے علاوہ دسمبر2021ء میں امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اورمیزائل پروگرام میں مبینہ طورپرمددفراہم کرنے کے الزام میں13پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں عائدکی تھیں۔
دراصل یہ جانناضروری ہے کہ پاکستان کا وہ میزائل پروگرام جوحالیہ امریکی پابندیوں کانشانہ بن رہاہے،وہ کیاہے؟اس میں کون کون سے میزائل شامل ہیں اور امریکاکوان سے کیاخدشات ہیں؟اورامریکی پابندیاں پاکستان کے میزائل پروگرام کوکیسے متاثرکرسکتی ہیں؟
پاکستان کاوہ میزائل پروگرام جس کا تذکرہ ستمبر2024ء میں امریکی خارجہ کے اعلامیے میں کیا گیا تھااس میں میڈیم رینج یادرمیانی فاصلے تک مارکرنے والے بلیسٹک میزائل شاہین تھری اورابابیل شامل ہیں جوملٹیپل ری انٹروہیکل یاایم آروی میزائل کہلاتے ہیں۔ ماہرین کامانناہے کہ پاکستان کے میزائل ہتھیاروں میں یہ سب سے بہترین صلاحیتوں والے میزائل ہیں۔ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے مطابق پاکستان نے 2017ء میں ابابیل میزائل کا پہلا تجربہ کرنے کے بعدگزشتہ برس18 اکتوبر 2023ء کو بھی زمین سے زمین پردرمیانی فاصلے تک مارکرنے والے ابابیل میزائل کی ایک نئی قسم کاتجربہ کیاتھاجس کے بعدرواں برس 23مارچ کوپاکستان ڈے پریڈکے موقع پرپہلی مرتبہ اس کی نمائش کی گئی۔
سٹریٹیجک اورڈیفنس سٹڈیزکے ماہرین کے مطابق یہ جنوبی ایشیاء میں پہلاایسامیزائل ہے جو 2200 کلومیٹرکے فاصلے تک متعدد وارہیڈزیاجوہری ہتھیارلے جانے کی صلاحیت رکھتاہے اورمختلف اہداف کونشانہ بناسکتاہے۔ ماہرین کااندازہ ہے کہ ابابیل میزائل تین یااس سے زائدنیوکلیئروارہیڈزیاجوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتاہے۔ان کے مطابق یہ ایم آروی میزائل سسٹم ہے جو دشمن کے بیلسٹک میزائل ڈیفنس شیلڈکوشکست دینے اوربے اثرکرنے کیلئیڈیزائن کیاگیاہے۔اس میزائل میں موجودہروارہیڈایک سے زیادہ اہداف کونشانہ بنا سکتا ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ میزائل ایسے ہائی ویلیو اہداف، جوبیلسٹک میزائل ڈیفنس شیلڈسے محفوظ بنائے گئے ہوں، کے خلاف پہلی یادوسری سٹرائیک کی بھی صلاحیت رکھتاہے۔
ایم آروی میزائل کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ اگر ہدف کے قریب پہنچنے پران کے خلاف مخالف سمت میں میزائل ڈیفنس شیلڈیا بیلسٹک میزائل سسٹم موجود ہو تووہ انہیں کنفیوژکر سکتے ہیں۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک فاسٹ بالرگیندکوسوئنگ کرتاہے جس میں وہ بیٹسمین کے ڈیفنس کوتوڑنے کے لئے اپنی رفتارکے ساتھ سوئنگ اورسیم پربھی انحصارکرتاہے۔ایم آئی آرویزمیزائل میں کئی وارہیڈزہوتے ہیں جوآزادانہ طورپر پروگرامڈ ہوتے ہیں اورآزادانہ طورپرہی اپنے اپنے اہداف کی جانب جاتے ہیں اورہرایک کا فلائٹ پاتھ یعنی فضائی راستہ مختلف ہوتاہے۔
انڈیاتقریباً ایک دہائی سے بھی زائدعرصے سے بلیسٹک میزائل سسٹم پرکام کررہاہے اوروہ نہ صرف اس کے تجربات کرتے رہتے ہیں بلکہ عوامی سطح پرایسے بیانات بھی دیتے ہیں۔ انڈیانے حال ہی میں پہلے ایم آروی میزائل اگنی فائیو کاایک سے زائدوارہیڈز کے ساتھ تجربہ کیاہے۔یہ انٹرکونٹی نینٹل بیلسٹک میزائل ہے جس کی رینج کم ازکم 5000-8000 کلو میٹرہے، اس کے مقابلے میں ابابیل کی رینج محض2200 کلو میٹر ہے اور یہ پوری دنیامیں سب سے کم رینج تک مارکرنے والا ایم آروی ہے۔ایسی غیرمصدقہ اطلاعات ہیں کہ انڈیا کا ’’اگنی پی‘‘بھی ایم آروی ہے جس کی رینج 2000 کلو میٹرتک ہے۔
ابابیل صرف اورصرف انڈیاکامقابلہ کرنے کے لئے ڈیزائن کیاگیاہے لیکن امریکاکو2021ء سے جس میزائل پرتشویش ہورہی ہے وہ شاہین تھری میزائل ہے جس کی رینج2740کلو میٹرہے۔دراصل ابابیل شاہین تھری میزائل کی اگلی جنریشن ہے۔شاہین تھری کے تجربے کے وقت نیشنل کمانڈاتھارٹی کے مشیرلیفٹیننٹ جنرل(ر)خالداحمد قدوائی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’یہ میزائل صرف اور صرف انڈیاکامقابلہ کرنے کے لئے بنایاگیاہے اوراس کامقصدانڈیامیں اہم سٹریٹجک اہداف(خاص طورپرانڈمان اورنیکوبار جزیروں اور مشرق میں وہ مقامات جہاں ان کی نیوکلئیرسب میرین بیسزتعمیرکی جارہی ہیں)کونشانہ بناناہے تاکہ انڈیاکوچھپنے کے لئے کوئی جگہ نہ مل سکے اوریہ غلط فہمی نہ رہے کہ انڈیامیں ایسی جگہیں ہیں جہاں وہ کائونٹریاپہلی سٹرائیک کے لئے اپنے سسٹمزچھپاسکتے ہیں اورپاکستان ان مقامات کونشانہ نہیں بناسکتا‘‘۔(جاری ہے)