اسلام میں عورت کا مقام ایک منفرد اور عظیم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ حیثیت نہ صرف دینی معاملات میں نمایاں ہے بلکہ سماجی، اقتصادی اور سیاسی معاملات میں بھی ابتدائی ادوار میں واضح نظر آتی ہے۔ ابتدائی اسلامی دور میں عورتیں تمام اہم شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ بدقسمتی سے، خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد بہت سے مسلم ممالک استعماری تقسیم اور دین اسلام کی حقیقی تصویر کو غیر موثر اور غیر مقبول کرنے کے لئے کچھ مذہبی افراد کی خدمات حاصل کرکے انہیں اسلامی تعلیمات میں نئی انتہا پسندا نہ اور تنگ نظر فکر اور عورت مخالف سوچ متعارف کرانے کے لئے بڑی ہوشیاری سے سرگرم کر دیا اور اس کو اصل اسلام کے طور پر پھیلا یا گیا۔تاکہ اسلام سے لوگ دور ہوجائیں۔ عورتوں کے متعلق سخت رویہ اختیار کر کے ان کی اکثریت کو تعلیم سے دور کر کے ان کو گھروں تک محدود کردیا گیا اور نوجوان نسل کے اندر جذباتی تعصب اور شدت کارویہ پیدا کردیا ۔
جبکہ اسلام نے عورت کو بنیادی حقوق دیئے جو اس وقت کے کسی بھی معاشرے میں نہیں دیئے گئے تھے۔عورت کو شادی کا حق ،اور رضا مندی ،مرضی اور اختیار کے حق کو فرض قرار دیا۔ اس کے ساتھ عورت کو وراثت میں حقدار بنایا گیا۔ جو پہلے عورت کو حاصل نہیں تھا۔ حضرت آدم کو انسان کا باپ اور حضرت حوا کو انسان کی ماں کا درجہ دیا اور پھر بطور ماں ا سے فضیلت دی۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے آخری خطبہ میں عورت کے متعلق خاص بیان کے ذریعہ عورت کے حقوق اور احترام کے لئے تاکید فرمائی۔ آپ نے جنت کو ماں کے قدموں کے نیچے بیان کر کے بھی عورت کو فضیلت دی ۔
-1اسلام سب سے پہلے عورت نے قبول کیا۔ حضرت خدیجہؓ اسلام قبول کرنے والی پہلی شخصیت تھیں اور ان کی زندگی اسلامی تاریخ میں ایک مشعل راہ ہے۔
-2 اسلامی عہد میں عورت کا سیاسی و انتظامی کردار اہم رہا۔
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ نے مدینہ منورہ میں لیلی شفا کو مارکیٹ انسپکٹر وزیر کے طور پر تعینات کیا اور مکہ مکرمہ میں بھی ایک عورت کو مارکیٹس میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بطور منتظم تعینات کیا اور انہیں وزیر کا درجہ دیا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے عورتوں کو انتظامی و سیاسی معاملات میں شروع سے شامل کیا۔علم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں کے لئے فرض کیا۔ علم اور تعلیم میں عورتوں کا کردار بہت اہم رہا ہے ۔سیدہ عائشہؓ زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عالمہ اور محدثہ کے مقام پر فائز رہیں اور کبار صحابہ ان سے سیکھتے اور راہنمائی لیتے تھے۔
-1دنیا کی پہلی یونیورسٹی القرویین کی بنیاد ایک مسلمان خاتون فاطمہ الفہری نے 859 عیسوی میں مراکش کے شہر فاس میں رکھی۔ یہ یونیورسٹی نہ صرف مسلم دنیا بلکہ پوری دنیا میں تعلیم و تحقیق کا مرکز بن گئی۔
-2تعلیم کے فروغ میں مسلم خواتین کا کردارابتدائی اسلامی دور میں عائشہ صدیقہؓ اور دیگر خواتین علم حدیث، فقہ اور دیگر دینی علوم کی تعلیم دیتی تھیں۔ ان کی علمی خدمات نے مسلمانوں کے علمی ورثے کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
جنگوں اور معیشت میں عورتوں کا کردار‘
-1جنگوں میں شرکت‘ا سلام کے ابتدائی دور میں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ جنگوں میں شریک ہوتی تھیں۔ وہ نہ صرف زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں بلکہ بعض مواقع پر میدان جنگ میں بھی حصہ لیتی تھیں۔ حضرت ام عمارہؓ اور حضرت صفیہؓ کی بہادری اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
-2 تجارت اور معیشت میں شراکت‘ حضرت خدیجہؓ خود ایک کامیاب تاجرہ تھیں۔ ان کے تجارتی اصول اور معیار اسلامی تجارت کا نمونہ بن گئے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی مسلم خواتین تجارت میں نمایاں تھیں۔
خلافت عثمانیہ کے بعد مسلم دنیا میں استعماری تسلط نے کچھ مذہب لوگوں کو ایک پلان کے تحت اسلام کے خوب صورت پیغام اخلاق و محبت کو مسخ کرنے اور متشددانہ تاویلوں کے ذریعہ پیش کرایا اور خلافت عثمانیہ کے بعد نئے انتہا پسند خود ساختہ تصورات عام کروائے اور خاص کرعورت کو گھر کے اندر محدود کردیا اور تعلیم سے بھی محروم کرکے گھر کی باندھی بنادیا اور اس تنگ نظری نے عورتوں کی ترقی میں رکاوٹیں ڈالیں۔ بہت سے علما ء نے ثقافتی رسومات کو دینی تعلیمات پر ترجیح دی، جس کے باعث عورتوں کے کردار کو محدود کیا گیا۔
اسلام نے عورت کو معاشرتی، اقتصادی، تعلیمی اور سیاسی میدانوں میں عظیم مقام دیا ہے۔ اس ورثے کو دوبارہ زندہ کرنا آج کے مسلم معاشروں کی ذمہ داری ہے۔اسلامی تاریخ میں خواتین کے عظیم کردار کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، کہ اسلام نے عورت کو معاشرتی، دینی، اور عسکری میدانوں میں اہم مقام دیا۔
پہلی شہید: حضرت سمیہ‘ حضرت سمیہؓ اسلام کی پہلی شہید خاتون تھیں۔ ابو جہل نے آپ کو اسلام پر ثابت قدم رہنے کی پاداش میں شہید کر دیا۔
سیدہ خولہ بنت ازور کی جرات مندی اورشجاعت نے اپنے بھائی حضرت ضرار بن ازور کو دشمن کی قید سے آزاد کرانے کے لیے مردانہ لباس پہن کر جرات اور حکمت کا مظاہرہ کر تے ہوئے گھوڑے پر سوار ہو کر دشمن کی قید سے اپنے بھائی کو آزاد کرایا ۔ یہ واقعہ خواتین کی بہادری اور عقل مندی کی ایک نادر مثال ہے۔
اسلامی تاریخ میں خواتین نے میدان جنگ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا:
-1حضرت ام عمارہ ؓ‘ غزوہ احد میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرتے ہوئے کئی مشرکین کو زخمی کیا۔
-2 حضرت صفیہؓ ‘ خندق کے معرکے میں انہوں نے دشمن کے جاسوس کو تنہا قتل کیا اور مسلمانوں کی حفاظت یقینی بنائی۔اسلام کی ابتدائی تاریخ میں خواتین نے دین کی خدمت، علم کے فروغ، معیشت اور عسکری میدانوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا۔ یہ چند واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ اسلام میں عورت کو اعلیٰ مقام دیا گیا ہے اور ان کی جرات و قربانی کی داستانیں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں اور عورتوں کے حقوق اور احترام تمام مردوں کا فرض ہے اور یہ اسلامی تقاضا ہے۔