(گزشتہ سے پیوستہ)
یادرہے کہ انڈیاکے وزیردفاع رجنات سنگھ سمیت انڈین عہدیدارکئی مواقع پرایسے بیانات دیتے آئے ہیں جن میں یہ اشارہ دیاگیاہے کہ’’انڈیانے ایسی صلاحیتیں حاصل کرلی ہیں جواسے پاکستان کے خلاف قبل ازوقت حملہ کرنے کے قابل بناتی ہیں‘‘۔وہ سپرسونک براہموس میزائل کی مثال دیتے ہیں جوروایتی کے ساتھ نیوکلئیرہتھیاربھی ہے اوراس کے علاوہ انڈیابہت سے ایسے سسٹمزبنارہا ہے جوپہلی سٹرائیک کے لئے زمین، فضا اور سمندرسے بھی لانچ ہوسکتے ہیں۔
اگرآپ کویادہوتو2022ء میں ایک براہموس میزائل پاکستان میں آگراتھاجس کے بارے میں انڈین وزارت دفاع کی جانب سے کہاگیاتھا کہ پاکستان کی حدودمیں گرنے والا براہموس میزائل حادثاتی طور پر انڈیا سے فائرہواتھا۔انڈیابراہموس کوپاکستانی سٹریٹجک فورسز اورکمانڈاینڈکنٹرول کے خلاف روایتی کاؤنٹرفورس سٹرائیک کے لئے استعمال کرسکتاہے اورپھرانڈیایہ دعویٰ کرسکتاہے کہ ہم نے تومحض روایتی حملہ کیاہے لیکن اس طرح کی روایتی سٹرائیک کوپاکستان کی طرف سے پہلاجوہری حملہ تصورکیاجائے گا۔
یہ وہ ساری صورتحال ہیں جن میں کسی بھی حملے کوروکنے کے لئے پاکستان کوتیاررہناہے اوریہ اسی صورت ممکن ہے اگر پاکستان دشمن کودکھانے کے لئے اپنی صلاحتیوں کااظہارکرتارہے اوراسی مقصدسے پاکستان نے شاہین تھری اورابابیل جیسے نیوکلیئروار ہیڈزبنائے ہیں اوران کی نمائش کی ہے۔ انڈیاکے مقابلے میں پاکستان نے اپنے دفاع کاحق استعمال کرتے ہوئے یہ تمام تیاری کی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ امریکاکو ان میزائلوں پرکیاتشویش ہے؟
امریکی وزارتِ خارجہ کے بیان میں الزام عائدکیاگیاہے کہ’’آرآئی اے ایم بی نے شاہین تھری اورابابیل میزائل سسٹم‘‘زاورممکنہ طورپراس سے بھی ’’بڑے سسٹمز کے لئے ڈائیامیٹر راکٹ موٹرزکے ٹیسٹ اور آلات کی خریداری کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ کام کیاہے۔ممکنہ طورپراس سے بھی بڑے سسٹمز کا مطلب یہ ہوسکتاہے کہ اسی میزائل کی اگلی جنریشن پرکام ہورہاہے‘‘۔
ابابیل کاپہلاٹیسٹ جنوری2017ء میں ہواتھااوراس کے بعدابابیل کادوسراتجربہ چھ سال بعد گزشتہ برس اکتوبر2023ء میں ہوا،اوران چھ سالوں کے دوران این ڈی سی میں اس ٹیکنالوجی پرمسلسل کام ہوتارہاہے۔ امریکاکاکہناہے کہ’’ شاہین تھری توپہلے سے آپریشنل تھا لیکن ابابیل کے دوسرے تجربے کے بعدجب مارچ میں اسے پریڈمیں دکھایاگیاتواس کے بعدشاہین تھری اورابابیل زیادہ نظروں میں آئے کیونکہ اس نمائش کامطلب تھاکہ پاکستان اس مرحلے تک پہنچ چکاہے جہاں اس پرریسرچ اورڈویلپمنٹ مکمل ہوچکی ہے اور ابابیل اب آپریشنل ہے‘‘۔یہ ہے امریکی تشویش کی اصل وجہ!امریکاکوخدشہ ہے پاکستان اس کے زیادہ سے زیادہ صلاحتیوں والے ورژن پرکام کررہا ہے۔
امریکی تشویش کی ایک اوروجہ یہ ہے کہ ابابیل تھری سٹیج میزائل سسٹمز ہیں اورموبائل لانچروالاسسٹم ایک بہت اہم صلاحیت ہے کیونکہ کسی بھی سرپرائزحملے کی صورت میں یہ سسٹم نہ صرف بڑی آسانی سے مختلف مقامات پرکیموفلاج کیے جاسکتے ہیں بلکہ انہیں باآسانی ایسی جگہ بھی لے جایاجاسکتاہے جہاں دشمن ان کاپتانہ چلاسکے۔ماہرین کامانناہے کہ کوئی بھی تھری سٹیج میزائل سسٹم،زیادہ رینج والے سسٹم کی بنیادبن سکتاہے لیکن ابابیل کے پہلے اوردوسرے ٹیسٹ کے بیچ چھ سال کاوقفہ اس بات کاثبوت ہے کہ پاکستان اب مقامی طورپر اس ٹیکنالوجی پر کام کررہاہے۔اگرچین سے ہی ساری ٹیکنالوجی لے رہے ہوتے توچھ سال کاانتظارکیوں کرتے؟تاہم یقینااس سسٹم میں کوئی ایسی نئی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے جس نے امریکی تشویش میں اضافہ کیاہے کہ شایدپاکستان مزیدصلاحیتیں حاصل کررہاہے اورمستقبل میں ان نیو کلیئرصلاحتیوں والے میزائلوں کے بہترورژن زیادہ بڑے وارہیڈزلے جا سکتے ہیں اورابابیل شایدتین سے زیادہ وارہیڈزلے جانے کی صلاحیت حاصل کرلے۔
یادرہے اپریل میں ان سسٹمزکے موبائل لانچرزپرپابندیاں لگائی گئی تھیں۔امریکاکی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ میں کہاگیاتھا کہ بیلاروس میں قائم مِنسک وہیل ٹریکٹر پلانٹ نے پاکستان کوبیلسٹِک میزائل پروگرام کے لئے خصوصی گاڑیوں کے چیسس فراہم کیے ہیں اوربیلاروس کے صدرکے ساتھ اعلیٰ سطحی وفدکے پاکستانی دورے کوبھی معنی خیز انداز سے دیکھا جا رہا ہے جبکہ خود امریکااس سے کہیں خطرناک ٹیکنالوجی انڈیااوراسرائیل کومہیاکرچکاہے،پاکستان نے کبھی اس پراعتراض نہیں کیا۔
امریکی پابندیوں میں پاورفل راکٹ موٹرز کا بھی تذکرہ ہے۔امریکاکوابابیل کی طویل رینج کے علاوہ پاکستان کے سپیس پروگرام پر بھی تشویش ہے۔یادرہے اپریل کی فیکٹ شیٹ میں چین کی گرانپیکٹ کمپنی لمیٹڈپرالزام عائدکیاگیاتھاکہ یہ کمپنی پاکستان کی خلائی تحقیق کے ادارے سپارکوکے ساتھ مل کرراکٹ موٹروں کی جانچ پڑتال میں معاون آلات کی فراہمی میں ملوث پائی گئی ہے اور مزیدیہ بھی الزام لگایاگیاتھاکہ یہی کمپنی پاکستان کوبڑی راکٹ موٹرزآزمانے کے لئے پرزے فراہم کرتی رہی ہے۔
(جاری ہے)