(گزشتہ سے پیوستہ)
امریکا،اسرائیل اورانڈیا(ٹرائیکا)کوفکرہے کہ پاکستان اپنامقامی سپیس لانچ وہیکل نہ بنالے اور پاکستان پہلے سے2047ء سپیس پروگرام کاوژن رکھتا ہے۔نیوکلیئر ڈیٹیرنس کیلئے سپیس پروگرام میں صلاحیتیں حاصل کرنابہت اہم ہیں جوآپ کو ہدف کودرست نشانہ بنانے اوردفاعی نگرانی وغیرہ کے قابل بناتا ہے۔ امریکا کو خدشہ ہے کہ پاکستان فوجی اورسویلین مقاصدکے لئے اپناسپیس وہیکل لانچ کرسکتاہے جس سے اس کے پاس انٹرکونٹی نٹل بیلسٹک میزائل فائرکرنے کی صلاحیت آجائے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجیم کابھی ذکرہے۔یہ میزائل ٹیکنالوجی کی برآمدپرکنٹرول رکھنے والے ممالک کاگروپ ہے۔ پاکستان اورچین دونوں نے ایم ٹی سی آرپردستخط نہیں کیے مگراس کے بغیربھی چین اورپاکستان دونوں اس کاپاس کرتے ہیں اورکوئی ایساسسٹم برآمدنہیں کیاگیاجس کی رینج 300 کلومیٹرسے زیادہ ہومگراس اقدام کی تعریف کرنے کی بجائے یہ کہاجاتاہے کہ پاکستان اورچین آپس میں تعاون کررہے ہیں۔
اگرمسئلہ دونوں ملکوں کے تعاون سے ہے تو دوسری طرف انڈیاکاسارامیزائل پروگرام روس کے تعاون اورمددسے بناہے اوراب امریکا نے اسے سول جوہری کلب کارکن بناکرہر قسم کی پابندیوں سے آزاد کر رکھا ہے۔اس کی مثال انڈیاکابراہموس میزائل ہے، جب ابتدامیں روس سے یہ ٹیکنالوجی لی گئی تواس کی رینج 290کلومیٹرتھی مگراب انڈیااسے 800 کلومیٹرتک لے جاچکاہے اوراس کے ہائپرسانک ورژن پربھی کام ہورہاہے مگریہاں ایم ٹی سی آرکی بات نہیں کی جاتی۔یادرہے کہ ایم ٹی سی آرمیں300 کلومیٹر سے زیادہ رینج والے میزائل کی برآمدپرپابندی ہے اور500کلوسے زیادہ کے وارہیڈزکی بھی اجازت نہیں ہے۔انڈیاکااگنی فائیوکی مثال آپ کے سامنے ہے جس کی رینج 5000-8000 کلومیٹرہے اوریہ تین سے پانچ اورشایداس سے بھی زیادہ وارہیڈزلے جانے کی صلاحیت رکھتاہے اورانڈیاایٹمی آبدوزوں پرلگانے کے لئے بھی اس کے ورژن تیارکررہاہے۔
جبکہ پاکستان کے پاس تو کوئی ایٹمی آبدوز نہیں ہے۔پاکستان کے تحمل کی تعریف تونہیں کی جاتی مگریہ یادرکھناچاہیے کہ پاکستان کی کوششیں جنوبی ایشیامیں سٹریٹیجک استحکام برقرار رکھنے کے لئے ہیں۔انڈیاکے جواب میں تیارکی گئیں ٹیکنالوجیزسے مسئلہ تونہیں ہونا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکاکے نزدیک انڈیا کواڈ کاسب سے اہم رکن ہے۔اس کے علاوہ انڈیاکی سافٹ پاور، معاشی طاقت پاکستان سے بہت زیادہ اورمغربی ممالک کے ہرتھنک ٹینک میں انڈینزکاغلبہ ہے جوعوام اورحکومتوں کی رائے عامہ بنانے پربہت اثررکھتے ہیں ۔یادرہے کواڈچارممالک کاگروپ ہے جس میں انڈیا،آسٹریلیا، جاپان اورامریکاشامل ہیں۔
امریکاکی مختلف بین الاقوامی مقامات پر جیوسٹریٹیجک دلچسپیاں ہیں جیسے یوکرین روس، مشرقِ وسطیٰ اورتائیوان چین وغیرہ کی صورتحال ہے اوراسی باعث اس نے مختلف جگہوں پران ملکوں سے مختلف وعدے کررکھے ہیں اورجنوبی ایشیاکے خطے میں چین کے اثرورسوخ کوکم کرنے کے لئے کواڈبنایاہے۔ چین کے ساتھ کشیدگی بھی پاکستان کے میزائل پروگرام پر پابندی کی ایک وجہ ہے۔ امریکی پابندیوں کامحوربنیادی طورپرپاکستان کے بجائے چینی کمپنیاں ہیں،تاکہ بیجنگ کومجبورکرکے معاشی دباؤ ڈالاجائے۔
اس لئے معاشی وسیاسی حوالے سے یہ ممکن ہی نہیں کہ پاکستان امریکاکو نشانہ بنانے کا سوچے، کیونکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ (تقریباً 6 ًارب ڈالر)امریکاہے اوروہاں مقیم پاکستانیوں کی بہت بڑی تعدادملک میں رقوم بھیجتے ہیں اس کے علاوہ پاکستان اپنے معاشی مسائل کے حل(آئی ایم ایف)کے لئے امریکاکے ساتھ خیرسگالی کے تعلقات برقراررکھنااپنی خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کااہم ہدف سمجھتا ہے۔
تاہم ایساممکن ہے کہ پاکستان(این ڈی سی) ابابیل میزائل سسٹم کازیادہ جدت والاورژن تیارکر رہا ہو جوکسی بھی انڈین بیلسٹک میزائل ڈیفنس شیلڈکوشکست دے سکتاہے اورایک سے زیادہ وارہیڈزکابھاری پے لوڈلے جاسکتاہوتاہم اس کے لئے زیادہ طاقتورراکٹوں کی ضرورت ہوگی اورامریکی حکام این ڈی سی پراسی کی تیاری کاالزام لگارہے ہیں لیکن یہ انڈیا کے لئے بنائے گئے مخصوص میزائل سسٹم کوآئی سی بی ایم(بین البراعظمیٰ بیلسٹک میزائل)میں تبدیل نہیں کرسکتااوراس کے لئے بالکل نیامیزائل سسٹم چاہیے ہوگا۔
امریکاکے پالیسی سازحلقوں میں انڈیاکے بڑھتے اثرورسوخ کے نتیجہ میں بائیڈن انتظامیہ نے یہ قدم اٹھایاہے اور پاکستانی کی دفاعی صلاحیتوں میں کمی لانے کے لئے انڈیااب امریکا کاکندھا اور دباؤاستعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر تنقیداور شکوک وشبہات کااظہار کرنا اس بات کاثبوت ہے واشنگٹن میں انڈین لابی بائیڈن کے آخری دنوں میں ان کی کمزوری کافائدہ اٹھاناچاہتی ہے۔ مستقبل میں بھی ایساممکن نہیں ہے کہ پاکستان امریکاپرحملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے کیونکہ پاکستان کا میزائل واٹامک پروگرام انڈیا کے لئے مخصوص ہے پاکستان کسی قسم کی ہتھیاروں کی دوڑمیں شامل نہیں ہے۔