شروع کی صدیوں میں جو خطے اسلام کے علمی مرکز رہے ہیں ان میں ایک دمشق بھی ہے جو اسلامی تاریخ کا ثقافتی اور علمی مرکز رہا ہے۔ دمشق کی دھرتی پر بڑے بڑے علماء اور فقہا نے جنم لیا جو آج بھی اپنے علمی اور تاریخی کارناموں کی وجہ سے عالم اسلام میں زندہ و تابندہ ہیں۔ انہیں میں ایک نام امام ابن حنیفہ کا ہے۔
آپ دمشق میں پیدا تو نہیں ہوئے مگر ان کا تعلق دمشق ہی سے تھا اوران کی فقہ کو زیادہ پذیرائی دمشق ہی میں ملی۔ان کی فقہی خدمات نے فقہ اسلامی میں نئی روح پھونکی۔ ان کے تلامذہ ہی کے توسط سے فقہ حنفی دمشق کے چاروں اور پھیلی۔ امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے بعد امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا نام آتا ہے یہ دمشق شہر ہی میں پیدا ہوئے۔ یہ ایک عظیم فقیہ، محدث، مفکر اور فلسفی تھے جنہوں نے دین اسلام کی تشریح کے لئے متعدد کتب لکھیں۔ آپ نے اسلام کے سماجی مسائل کو بھی اپنی توجہ کامرکز بنایا۔
امام ابن تیمیہ کی سب سے اہم کتاب’’الفتوی‘‘ ہے جس میں انہوں نے مختلف مذہبی، فقہی اور سائنسی مسائل کا گہراتحقیقی مطالعہ کیا اور سادہ و واضح تحقیقی کام کیا۔
امام نووی دمشق کے مشہور عالم دین اورفقیہ تھے۔ ان کی معروف تصانیف’’ریاض الصالحین‘‘ اور’’شرح صحیح مسلم‘‘ آج بھی علم حدیث اور اسلامی فقہ میں اہم کتب مانی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے دور میں لوگوں کی بھرپور رہنمائی کی، جس کے اثرات آج بھی دمشق میں ملتے ہیں۔
ابن قیم جوزی رحمت اللہ علیہ امام ابن تیمیہ کے ہونہار شاگرد اور ایک اعلیٰ پائے کے مفکر ومحدث اور مفکر تھے’’زاد المعاد‘‘ اور’’ مدارج السالکین‘‘ ان کی مشہور تصانیف ہیں جو ان کے دینی اور روحانی افکار نظریات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے اسلامی فلسفہ اور اخلاقیات پر بھی خاصہ کام کیا۔
ابن کثیر دمشق کے جید مفسر قرآن اور نبی آخر الزمان صلی علیہ والہ وسلم پر بھی گہری تحقیق فرمائی ہے۔ صاحب علم و دانش، مفکر ومورخ، فلسفی اور ماہر عمرانیات ابو زید عبدالرحمن بن محمد ابن خلدون، انہوں نے اسلامی تاریخ کو عقلی بنیادوں پر سمجھنے کی سعی لازوال کی۔ دمشق کا شہری نہ ہونے کے باوجود دمشق کے علما ء فقہا اور محدثین نے ان کے کام سے بہت زیادہ استفادہ کیا اور دمشق کے علماء و فقہا پر سب سے زیادہ انہیں کے اثرات مرتب ہوئے۔ اور دمشق کا علمی ورثہ ابن خلدون کے علمی اثرات ہی سے مالا مال ہی نہیں بلکہ دمشق کی علمی تاریخ انہیں وجوہات کی بنا پر اسلامی دنیااور اسلامی تاریخ میں بہت اہمیت کی حامل رہی ہے۔ دمشق کے فقہا اور علماء نے کہاں کہاں سے اپنی علمی پیاس نہیں بجھائی۔ مدینہ اور حجاز کے علما ء سے استفادہ کیا۔ دمشق کے علماء نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے ذانوے تلمذ طے کیا۔ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے صاحبان علم تابعین سے فقہ و حدیث کا علم سیکھا۔عراق، بصرہ اور کوفہ کے علما ء سے فقہ اور علم الکلام میں دسترس حاصل کی۔
اسی طرح حضرت امام حسن بصری کا زہدو تقوی سیکھا۔ عباسی دور میں جب بغداد علم وفلسفہ کا مرکز بنا تو دمشق کے علماء نے وہاں کے علما و فقہا سے بہت استفادہ کیا،یہاں تک کہ دمشق کے بعض علماء نے اندلس اور شمالی افریقہ کے علماء سے فقہ مالکی سیکھی۔ یمن اورمشرقی اسلامی ممالک کے علما ء سے بھی دمشق کے علماء نے بہت بڑا علمی ورث لیا۔
امام بخاری اورامام مسلم کی حدیث کی کتب کا دمشق کے علما ء نے عمیق مطالعہ کیا۔ یہاں تک کہ دمشق کے علما ء نے یونانی، ہندی اور فارسی، خاص طور پر طب‘ منطق اور فلسفہ دمشق والوں کے بہت کام آیا۔
اسی طرح عباسی دور میں جب بغدادعلمی مرکز بنا تو دمشق کے علماء و فقہا نے امام احمد بن حنبل اور دیگر علما ء سے علوم سیکھے۔ اس حاصل کیے گئے استفادے ہی کا ثمر تھا کہ دمشق میں علمی روایت پھلی پھولی اور دمشق اسلامی علوم کا ایسا مرکز بنا کہ وہاں علما ء فقہا کی ایک بڑی جماعت وجود میں آگئی جس نے مستقبل میں علمی حوالے سے دمشق کو تاریخی‘ علمی اور فقہی حیثیت دے دی۔
دمشق کے ابتدائی دور پر نظر ڈالیں تو امام اوزاعی، محدث، فقیہ اور شام میں فقہی علوم کے بانی.یحییٰ بن معین علم حدیث کے نقاد اور دمشق میں فروغ حدیث کے اہم ستون‘امام ابوداد السجستانی حدیث کے امام، انہوں نے حیات کا بڑا حصہ دمشق میںبسر کیا.۔
حافظ ابو عمر الدمشقی، حدیث کے معتبر اور مستند عالم جنہوں نے شاگردوں کی ایک بڑی جماعت پیدا کی۔ ابن عابدین محدث، مفسر اور بہت موثر استاذ‘ شام میں اسلامی علوم کی تعلیم دیتے رہے۔ جدید دور میں شیخ محمد الشامی اپنے دور کے علماء و فقہا میں بڑا مرتبہ رکھتے تھے۔ عبدالفتاح فقہ حنفی کے مبلغ، دمشق کے مختلف مدارس میں دینی تعلیم کے استاذرہے۔ انہی علماء و فقہا کی محنت کی برکت ہے کہ دمشق کو علم و حکمت کا ایک عظیم خزانہ ورثے میں عطا ہوا ‘اور فقط دمشق ہی نہیں پورے شام اور ارد گرد کے دوردراز علاقوں تک اسلامی، دینی علوم پھلے پھولے۔