Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

عرب بہارکاعفریت اور گریٹراسرائیل

’’پہنچی وہی پرخاک جہاں کاخمیرتھا‘‘کے مصداق بشارالاسدکوروسی صدرپوٹن نے گودلے لیا اور پہلی مرتبہ بشارالاسدکاٹیلی گرام اکاؤنٹ پرپیغام نشر ہواہے کہ ان کاملک چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھاتاہم انہیں اپنی فوج کی پسپائی اختیارکرنے کے بعدایساکرنا پڑا۔ابھی یہ کہنامشکل ہے کہ اس اکاؤنٹ کاکنٹرول کس کے ہاتھ میں ہے یایہ بیان بشارالاسدنے خودلکھابھی ہے یانہیں۔ بشارالاسد سے منسوب یہ بیان انگریزی اورعربی دونوں میں شیئرکیاگیاہے اوراس میں 8 دسمبر کے واقعات کی تفصیل دی گئی ہے کہ کیسے وہ روسی اڈے پر پھنس گئے تھے۔
خیال رہے 9دسمبرکومخالف گروہوں نے دارالحکومت دمشق کاکنٹرول سنبھالاتھااور بشارالاسد اوراس کے باپ کے ظلم وجبر، رعونیت اورفرعونیت کا 53 سالہ اقتدار اپنے اختتام پرپہنچا تھا۔ بشارالاسدسے منسوب بیان میں کہاگیاہے کہ جس وقت دمشق باغیوں کے کنٹرول میں گیا،وہ اس وقت لاطاقیہ میں ایک روسی فوجی اڈے پرموجود تھے تاکہ ’’ فوجی آپریشن کی نگرانی‘‘ کرسکیں لیکن اس وقت تک شام کی فوج اپنی پوزیشن چھوڑکرپیچھے ہٹ چکی تھی۔روسی ہوائی اڈے حمیمیم پربھی ’’شدیدڈرون حملے‘‘ ہورہے تھے اوراسی وقت روس نے انہیں ماسکو لے جانے کا فیصلہ کیاتھا۔
دراصل جب ہوائی اڈے سے نکلنے کاکوئی راستہ باقی نہیں بچاتوروس نے درخواست کی کہ8دسمبر، اتوارکی شام کوفوراً اسے خالی کیاجائے اوروہاں موجود لوگوں کوروس پہنچایاجائے۔ یہ سب دمشق کے (باغیوں کے) کنٹرول میں آنے کے ایک دن بعد ہواجب شامی فوج نے اپنے ٹھکانوں کوچھوڑ دیا اوراس کے نتیجے میں تمام ریاستی ادارے مفلوج ہوگئے۔اس بیان میں مزیدکہاگیا ہے کہ ’’ان واقعات کے دوران میں نے کسی بھی موقع پر صدارت چھوڑنے یاپناہ لینے پرغورنہیں کیاتھااورنہ ہی کسی فردیافریق نے اس وقت تک مجھے ایسی پیشکش کی تھی لیکن جب ریاست دہشت گردوں کے ہاتھ میں آگئی اورمیری معنی خیزکردارادا کرنے کی صلاحیت ختم ہوگئی توپھرمیری وہاں موجودگی بھی بے معنی ہوگئی تھی‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیابشارالاسدجواپنے اہل وعیال کے ساتھ روس فرارہو گئے ہیں،کیاوہ فوجی نگرانی کے لئے اپنے اہل وعیال کوساتھ لے کرچلتے ہیں؟ کوئی بھی ذی شعوراس بہانے کوتسلیم کرنے کوتیار نہیں ہوگابلکہ بشارالاسد اپنے ظلم وستم کی بناپراپنے انجام سے بخوبی واقف تھا،اس لئے گزشتہ چنددنوں سے وہ شامی خزانے پرہاتھ صاف کرتاہوافرار ہواہے۔
جب ہیئت تحریرشام کی قیادت میں باغیوں نے صرف12دنوں میں شامی شہروں اورصوبوں پرقبضہ کیاتوبشارالاسدکہیں نظرنہیں آئے تھے تاہم اس وقت یہ قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ بشارالاسد ملک چھوڑگئے ہیں۔یہاں تک کہ جب ہیئت التحریراوران کے دیگر ساتھی دمشق میں داخل ہوئے تواس وقت بشارالاسدکے اپنے وزیرِاعظم ان سے رابطہ کرنے سے قاصرتھے۔ اتوارکوعلی الصبح جب مخالف فورسزدمشق شہرمیں بغیرکسی مزاحمت میں داخل ہورہے تھے توہیئت تحریراوراس کے اتحادیوں نے اعلان کیاکہ ’’ظالم بشارالاسد (شام ) چھوڑگئے ہیں‘‘۔اس دوران دوسینیئرشامی فوجی افسران نے بھی تصدیق کردی تھی کہ بشارالاسدسیریئن ایئر کے ایک طیارے میں سوارہوکردمشق ایئرپورٹ سے اتوارکی صبح روانہ ہوگئے تھے۔
اس سوال کاایک سادہ ساجواب تویہی ہے کہ2011ء میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دنوں میں روس بشارالاسد کااہم اتحادی بن کرسامنے آیاتھااورکریملن کے مشرق وسطیٰ کے اس ملک میں دواہم فوجی اڈے بھی ہیں۔ 2015ء میں روس نے بشارالاسدکی حمایت میں فضائی حملے شروع کیے جس سے ملک میں جاری جنگ کاحتمی نتیجہ بشارالاسدکے حق میں نکلااوران کے خلاف برسر پیکارگروپوں کوپے درپے شکست کاسامناکرناپڑاجس کے بعد بشارالاسدحکومت نے اپنے مخالفین کابڑے پیمانے پرصفایاکرنے کے لئے ظلم وستم کے تمام ریکارڈتوڑ دیئے۔برطانیہ میں قائم گروپ کے مطابق روس کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں میں نوبرس میں21,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں8,700 عام شہری بھی شامل تھے۔تاہم روس کی توجہ یوکرین میں بٹی ہونے کی وجہ سے روس یاتواب بشارالاسد سے تعاون کرنے پرآمادہ نہ تھایاپھروہ اس قابل ہی نہیں تھاکہ نومبرکے آخر میں وہ بشارالاسد کے خلاف باغیوں کے حملوں کوروک پاتا۔
بشارالاسدکے روس اورخاص طورپرماسکوسے گہرے روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ 2019ء میں فنانشل ٹائمزکی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران ملک سے کروڑوں ڈالرباہرلے جانے کی غرض سے بشارالاسدکے خاندان نے روس کے دارالحکومت ماسکومیں18انتہائی پرتعیش اپارٹمنٹس خریدے ہیں۔گزشتہ ہفتے روس کے ایک مقامی اخبارکی خبرکے مطابق بشارالاسدکے22برس کے بڑے بیٹے حافظ الاسدماسکوسے اس وقت پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔دمشق میں افراتفری کے دوران روس کے سرکاری ٹی وی چینل نے یہ خبردی کہ روسی حکام اس وقت شام میں مسلح اپوزیشن سے ملک میں موجوددوروسی فوجی اڈوں اورسفارتی عملے کی حفاظت کویقینی بنانے سے متعلق رابطے میں ہیں۔
اس وقت شامی باغی گروہ ملک میں ایک عبوری حکومت تشکیل دے رہے ہیں۔ملک کاسب سے طاقتور گروہ ہیئت تحریرشام2011ء میں جبھ النصرہ کے نام سے منظر عام پرآیاتھا اور اس نے اسی برس القاعدہ سے منسلک ہونے کااعلان کیاتھاتاہم اس تنظیم نے 2016ء میں القاعدہ سے تعلق توڑدیااورمختلف دیگر گروہوں کے ساتھ مل کرہیئت تحریرشام کی بنیادرکھ دی۔تاہم اقوامِ متحدہ،امریکا، برطانیہ اوردیگرمتعدد ممالک تاحال اسے ایک دہشت گردگروہ تصورکرتے ہیں۔تنظیم کے سربراہ احمدالشرع (بومحمدالجولانی)کی جانب سے اعلان کیاگیا ہے کہ وہ شام میں دیگرمذہبی گروہوں اوربرادریوں کے لئے برداشت کامظاہرہ کریں گے۔تاہم ان کے گروہ کاایک جہادی ماضی بھی ہے جس کے سبب کچھ افرادان کے وعدوں کوشک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے نمائندے گئیرپیڈرسن نے اتوارکواحمدالشرع سے ملاقات کی تھی اوران کاکہناہے کہ شام میں ایک ’’مستند‘‘ تبدیلی کاآناضروری ہے۔
قطرنے13برس قبل شام میں اپناسفارتخانہ بندکردیاتھالیکن اب اس کی حکومت کی جانب سے ایک وفددمشق بھیجاگیاہے تاکہ ملک میں سفارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جاسکیں ۔مغربی ممالک نے شام میں سفارتخانے کھولنے کااعلان تونہیں کیالیکن امریکااور برطانیہ کاکہناہے کہ گزشتہ دنوں ان کے ہیئت تحریرشام سے رابطے ہوئے ہیں۔ تاہم برطانوی حکومت نے یہ بات واضح کردی ہے کہ’’سفارتی رابطے‘‘شروع ہونے کے باوجود ہیئت تحریرشام کی بطوردہشتگردگروہ حیثیت برقرار ہے۔دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایاکلاس نے کہاتھاکہ روس اورایران کاشام کے مستقبل میں کوئی کردارنہیں ہوناچاہیے۔
ادھرامریکی وزیرخارجہ انتونی بلنکن نے ہیئت التحریرالشام(ایچ ٹی ایس)کے ساتھ براہ راست رابطے کی تصدیق کی ہے کہ بشار الاسدکی حکومت کے خاتمے کے بعدملک کاکنٹرول سنبھالنے والے ہیئت التحریرالشام سے انہوں نے پہلابراہِ راست رابطہ کیاہے۔ واضح رہے کہ ایچ ٹی ایس کوامریکانے دہشت گردتنظیم قرار دیاہواہے اورشام کے نئے حکمران گروپ کوابھی تک اس فہرست سے نکالانہیں گیاہے۔انتونی بلنکن نے اپنی بریفنگ کے دوران صحافیوں کوبتایاکہ اس رابطے کابنیادی مقصدلاپتہ امریکی صحافی آسٹن ٹائس سے متعلق دریافت کرناتھا۔ انتونی بلکن نے اس رابطے کی تصدیق اردن میں متعدد عرب ممالک،ترکی اوریورپ کے نمائندوں سے اس ملاقات کے بعدکی جس میں شام کے مستقبل کے حوالے سے معاملات پرغورکیاجارہاتھا۔ اجلاس میں شریک حکام نے شام میں اقتدارکی پرامن منتقلی کے عمل کی حمایت کرنے پراتفاق کیا۔اس موقع پراردن کے وزیرخارجہ نے کہا کہ علاقائی ممالک شام کومزیدانتشار کاشکارہوتے نہیں دیکھناچاہتے۔اس اجلاس کے بعدایک مشترکہ بیان بھی جاری کیاگیاجس میں کہاگیاکہ شام میں ایک ایسی جامع حکومت کی حمایت کی جائے گی جواقلیتوں کے حقوق کااحترام کرے اورساتھ ہی ساتھ دہشت گردگروہوں کواپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں