Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

عرب بہارکاعفریت اور گریٹراسرائیل

(گزشتہ سے پیوستہ)
حالیہ ہفتوں میں شام میں ہونے والی ڈرامائی تبدیلیوں اورہنگامہ خیز واقعات کے بعداب شام کے اندراورباہربات چیت کامحورایک ایسی نئی حکومت کے قیام کی اہمیت پرہے جو شام کے عوام کی نمائندگی کرسکے۔’’عرب بیداری‘‘کے نام پراس خطے میں جن استعماری قوتوں نے تباہی مچائی،ان کے عزائم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے اوراپنے مفادات کی تکمیل کے لئے جوبے دریغ انسانی خون بہایاگیا ، وہ بھی تاریخ کاایک حصہ بن چکاہے مگر انتہائی پرامن ملک لیبیاجہاں کی عوام بھرپورریاستی آسائشوں اور مراعات سے اپنی ترقی کاراستہ طے کررہی تھی، وہاں اپنی من پسندحکومت لانے کے لئے جوہرحال میں ان کے احکام کی تعمیل کرے، اس پرامن لیبیاکوجنگ کے خوفناک شعلوں کے حوالے کردیا گیا۔۔
تاہم اب اردن کے اجلاس میں ترکی کے وزیرخارجہ حکان فیدان نے اپنے مقف میں کہاکہ ’’شام کے موجودہ اداروں کومحفوظ رکھنااوران میں اصلاحات لانا،اس وقت سب سے ضروری ہے۔ شام میں اقتدارکی منتقلی کے دوران دہشتگردی کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دیاجائے۔ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اوراپنے اقدامات کو مربوط کرنا ہوگا‘‘ ۔ اردن میں ہونے والی بات چیت میں شام کاکوئی نمائندہ موجودنہیں تھا۔برس ہابرس تک بشارالاسدکی حکومت کے حمایتی ایران اور روس کی بھی اجلاس سے غیر حاضری تھی۔اجلاس میں موجود 8عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ شام متحدرہے اورفرقہ واریت کی بنیادپرتقسیم نہ ہو۔
اسرائیل کی حکومت نے شام میں بشارالاسدکی حکومت کے خاتمے کے بعدگولان کی پہاڑیوں پریہودی آبادکاری کووسعت دینے کا فیصلہ کیاہے۔نتین یاہوکے مطابق شام کی سرحد پر ایک نیامحاذکھل جانے کے بعدیہ قدم اٹھاناضروری تھااوراسرائیل کوباغیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے یہ اسرائیل کی جانب سے اٹھایاگیاایک عارضی قدم ہے۔یادرہے کہ اسرائیل کی یہ تاریخ ہے کہ اس نے اب تک اپنی جارحیت کے سبب تمام علاقوں پرقبضہ کرتے ہوئے یہی مؤقف اختیار کیا تھا اوراب تک ان تمام علاقوں پر قابض ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے گولان کی پہاڑیوں پر، جہاں 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کیاتھا (اور بین الاقوامی قانون کے تحت یہ غیر قانونی تصور ہوتا ہے) ہودی آبادی کی تعداددگنی کرنے کی خواہش کا اظہار کیاہے۔واضح رہے کہ چند دن قبل ہی اسرائیلی فوج نے گولان کی پہاڑیوں پرقائم ایک غیرفوجی بفرزون سمیت شام کی سرحدی حدودمیں موجود چند اہم پوزیشنزپر قبضہ کرلیاتھا۔نیتن یاہو نے ایک بیان میں یہ بھی کہاکہ اسرائیل شام کے ساتھ تنازع میں دلچسپی نہیں رکھتااور زمینی حقائق کودیکھتے ہوئے شام کی جانب پالیسی طے کی جائے گی۔ تاہم ان کے اس اعلان پرسابق اسرائیلی وزیراعظم ایہوداولمرٹ نے تنقیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’گولان کی پہاڑیوں میں آبادکاری کو وسعت دینے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔نیتن یاہو نے کہاکہ ہم شام سے تنازع نہیں چاہتے اور امیدکرتے ہیں کہ شام پرکنٹرول سنبھالنے والے باغیوں سے لڑنانہیں پڑے گاتوپھرہم مکمل الٹ کام کیوں کررہے ہیں؟‘‘
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شام کے نئے رہنماابومحمدالجولانی نے شامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے شام پراسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔یہ حملے خطے میں کشیدگی بڑھاسکتے ہیں۔شام کسی ہمسائے کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا۔ طویل جنگ کے بعدحالات کسی نئے تنازع کی اجازت نہیں دیتے۔برطانیہ میں موجود شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے اعدادوشمارکے مطابق8دسمبرکے بعدسے اب تک ملک میں تقریباً 450فضائی حملے ہو چکے ہیں۔ یادرہے کہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی 30 آبادیاں موجودہیں جہاں تقریباً 20ہزار افراد رہتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ آبادیاں غیرقانونی ہیں۔تاہم اس علاقے میں20 ہزار شامی بھی آبادہیں جو اسرائیلی قبضے کے باوجود اب تک وہی مقیم ہیں۔
دوسری طرف اسرائیل نے خطے کے ممالک کی مذمت کے باوجود شام پرمزیددرجنوں فضائی حملے کیے ہیں۔ان حملوں کی تصدیق وارمانیٹرزکی جانب سے کی گئی ہے۔اسرائیل اس سے قبل یہ کہہ چکاہے کہ وہ ان ’’سٹریٹجک صلاحیتوں‘‘کے خاتمے کے لیے یہ کارروائیاں کررہاہے جواس کے لئے خطرے کاسبب بن سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی شام میں اسرائیل کے سیکڑوں فضائی حملوں پرگہری تشویش کااظہارکیا ہے۔
بشارالاسدکی حکومت کاخاتمہ13سالہ خانہ جنگی کے بعدہوا۔شام کی ایک دہائی سے زیادہ جاری خانہ جنگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب انہوں نے جمہوریت نوازمظاہروں کے خلاف طاقت کا استعمال کیاتھا۔اس جنگ میں5لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے تھے جبکہ لاکھوں بے گھرہوئے۔ اس دوران شام بین الاقوامی طاقتوں اوران کے پراکسی گروہوں کی جنگ کامیدان بن کررہ گیاتھا۔وہ تمام ممالک جوشام کی خانہ جنگی میں کسی نہ کسی طرح شامل رہے اب اس ملک کے مستقبل پران کابھی گہراکردارشامل ہوگا۔اگر شامی عوام کو حالیہ ہفتے میں حاصل ہونے والی آزادی کومضبوط بنیادوں پرقائم رکھناہے تویہاں کے نئے حکمرانوں کوملک کے اندراورباہرمکمل یکجہتی پیداکرنی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی خطے کے دیگر مسلم ممالک کوبھی اسرائیل اوراس کے اتحادیوں کے ممکنہ امکانات کو بدلنے کے لئے عملی طور پر میدانِ عمل میں اترناہوگا وگرنہ ’’عرب بہارکا عفریت ‘‘ گریٹراسرائیل کی شکل میں ان کو نگلنے کے لئے پوری رفتارسے بڑھ رہاہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ امت مسلمہ تمام مفادات سے بالاترہوکراپنے تمام وسائل کو بروئے کارلاتے ہوئے یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے شام کی تقسیم کوروکے اورشام کے موجودہ زمینی حقائق کوتسلیم کرتے ہوئے وہاں پرامن ماحول پیدا کرنے میں مکمل معاونت کرے۔

یہ بھی پڑھیں