Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

اسلام ایک مکمل نظامِ حیات

اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو پر محیط ہے۔ یہ نہ صرف عبادات اور اخلاقیات کو بیان کرتا ہے بلکہ معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی نظام کے لیے بھی واضح اصول فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو تمام انسانیت کے لیے پسندیدہ اور مکمل قرار دیا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا۔
(آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا، اپنی نعمت تم پر پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا) ۔
اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ زندگی کا مکمل نظام ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوئوں کو منظم کرتا ہے۔
-1عبادات کا نظام‘عبادات انسان کے روحانی پہلو کو قوت بخشتی ہیں اور اللہ سے قربت کا ذریعہ ہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، اور حج جیسے اعمال بندے کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق استوار کرنے کے ساتھ معاشرتی انصاف کو قائم کرنے کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔
-2 اخلاقیات اور معاملات‘ اسلام اخلاقیات کو زندگی کا بنیادی جزو قرار دیتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:’’مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے‘‘ دین معاملات کا نام ہے۔
اسلامی سیاسی نظام خلافت، مشاورت‘ عدل، اور انصاف پر مبنی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے بعد خلافت راشدہ سے خلافت عثمانیہ تک سیاسی نظام کی عملی شکلیں تھیں اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر ایک خلیفہ بنائوں گا، تو انہوں نے کہا: کیا تم اس میں ایسے شخص کو ٹھہرائو گے جو اس میں فساد پھیلائے اور خون بہائے، جبکہ ہم تیری حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔ آپ سے فرمایا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ (اور ان کے معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں)
-4 اقتصادی نظام اسلامی اقتصادی نظام سودی استحصال اور ناانصافی سے پاک ہے۔ تجارت، زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی گئی ہے۔ اسلام نے سود کو سختی سے حرام قرار دیا، کیونکہ یہ ظلم اور ناانصافی کا دروازہ کھولتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے)
’’اے ایمان والو! سود کو دگنا چوگنا نہ کھا ئو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جائو)
(مگر جو لوگ سود کھاتے ہیں، ان کا حال اس شخص کاسا ہوتا ہے، جسے شیطان نے چھوکر بائولا کر دیا ہو اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی ہے ، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سود خوری سے باز آجائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔)
خلافت عثمانیہ اسلام کے سیاسی نظام کی آخری عظیم مثال تھی، یہ نظام نہ صرف عدل و انصاف کا مظہر تھا بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور ترقی کا مرکز بھی تھا۔ تاہم، خلافت عثمانیہ کے خاتمے (1924) کے بعد امتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھر گیا، اور مسلمان مختلف ممالک، قومیتوں اور فرقوں میں تقسیم ہو کر مغرب استعمار کے تابع ہوگئے۔ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ غیر متوقع طور پر ہوا، اور اس کے اسباب میں سودی بنک کا قیام بھی شامل تھا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآنِ مجید میں سود کے حوالے سے واضح الفاظ میں اعلانِ جنگ فرمایا ہے(لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہو جائو کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہے) لیکن مغربی حکومتوں اور بنکاروں کے زیر اثر بعض علما ء نے سودی نظام کو ’’اسلامی‘‘کا لیبل دے کر اسے جائز قرار دے دیا۔ اس غیر شرعی عمل نے نہ صرف مسلمانوں کی معیشت کو تباہ کر دیا بلکہ ان کے حکمرانوں کی فہم و بصیرت کو بھی محدود کر دیا۔ نتیجتاً، مسلمان اس مال دلدل میں پھنس گئے ، جہاں سے نکلنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔
مسلمان حکمرانوں سے ایک درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ اسلامی بنکنگ اور اسلامی جمہوریت کے دھوکے سے باہر نکلنے کی حکمت عملی بنائیں۔ اسلام صراطِ مستقیم کا نظام ہے، جہاں نہ حیلے بہانے ہیں، نہ منافقت۔ یا تو اسلام پر مکمل عمل کریں یا پھر اس کا نام لینے سے اجتناب کریں۔اسلام انصاف ، تجارت ،دیانت و امانت اور صدقات کے اصولوں پر مبنی ہے۔ نقد اموال کی تنظیم کے لیے بیت المال کا نظام موجود ہے، اور ترسیلِ اموال کے لیے صرافہ کا نظام متعارف کروایا گیا ہے۔ یہ نظام نہ صرف شفافیت کو یقینی بناتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کی معاشی ترقی اور استحکام کا ضامن بھی ہے۔’’اسلامی بنکنگ‘‘ اور’’اسلامی جمہوریت‘‘ کے دھوکے میں مبتلا ایک جانب اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات قرار دینے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور دوسری جانب وہی مغربی اختراعات کو اسلامی نام دے کر ان کا پرچار کرتے ہیں۔یہ دونوں تصورات، یعنی ’’اسلامی بنکنگ‘‘اور ’’اسلامی جمہوریت‘‘، درحقیقت مغرب کی تخلیقات ہیں، جنہیں بڑی چالاکی سے چند علماء کے ذریعے مسلمان ممالک میں متعارف کروایا گیا اور پھر مغرب نے لندن کو ’’اسلامی بنکنگ‘‘ کا مرکز قرار دیا، اور مسلمانوں کو اس فریب میں مبتلا کر دیا کہ یہ ان کے دین کا حصہ ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اسلام کی حقیقی تعلیمات کو مسخ کرتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کو اپنے اصل نظامِ عدل و انصاف ، مساوات اور تجارت سے دور کرنا ہے۔ اسلامی جمہوریت کے نعرہ سے خلافت کے تصور کو مسلم فکر سے مسخ کر دیا گیا ہے، اسلامی جمہوریت کو غلط تعبیر کے ساتھ شوری کے نظام سے جوڑا جاتا ہے، اور عصری تقاضوں کے تحت جائز بتایا جاتا ہے۔
اس طرح اللہ نے واضح حکم اور چودہ صدیوں تک چلنے والے نظام خلافت کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔(حکم صرف اللہ کا ہے)۔
امت مسلمہ کو درپیش تمام مسائل کا حل اتحاد اور اصل اسلام کی طرف رجوع میں مضمر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو) یہ آیت مبارکہ ہمیں واضح طور پر فرقہ واریت سے منع کرتی ہے اور اتحاد کی طرف دعوت دیتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج امت مسلمہ میں علما ء نے بھی اپنے اپنے فرقے بنا لیے ہیں، جو قرآن کے اس حکم کے سراسر خلاف ہیں اور ان کا ہدف کرسی اور مال کی جدوجہد رہ گئی۔ آج مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی اور فرقہ وارانہ مفادات کو ترک کر دیں اور اللہ کے سامنے جھک کر فقط اللہ کی رضا کیلئے باہمی اخوت کا راستہ اختیار کریں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا‘(مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے) مولانا رومیؒ فرماتے ہیں:’’اگر تم متحد ہو جائو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، تو تم ایک ایسی طاقت بن جا ئو گے جسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔‘‘ اسلام ایک مکمل اور جامع نظامِ زندگی ہے جو انفرادی اور اجتماعی فلاح کے لیے بہترین اصول فراہم کرتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کے سیاسی، اقتصادی، اور سماجی نظام کو بحال کریں اور اپنے اندر اتحاد پیدا کریں تاکہ امت مسلمہ دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں