جب کوفہ ایک بارپھرفتح ہونے پرمختارثقفی کا سرکاٹ کرمصعب ابن زبیرکے سامنے پیش کیا گیا تواس نے فرمان جاری کیاکہ جشن مناؤ، دشمن اسلام مارا گیا۔ دربارمیں بیٹھاایک بوڑھا مسکرایا تومصعب نے انتہائی غصے سے دریافت کیا:کیوں ہنستاہے بڈھے؟اس بزرگ بوڑھے نے کہا:ماضی یادآگیا۔حال سامنے ہے۔ مستقبل آدھادکھائی دے رہاہے۔ مصعب نے حکم دیاکہ تفصیل سے بتاؤ!بوڑھے نے کہا:سن سکوگے؟ پھراس نے جب بولناشروع کیاتودرودیوارہل گئے۔
یہی دربارتھا۔عبیداللہ ابن زیادتخت پر بیٹھا تھا۔ سیدنا حسینؓ ابن علیؓ کاسرلایاگیا۔ابن زیاد نے کہاجشن مناؤ، ہم نے جشن منایا۔ ایک بار پھر یہی دربارتھا،جس مختار ثقفی کاسرتیرے قدموں میں پڑاہے، یہ اسی تخت پہ بیٹھاتھاجہاں اس وقت تو بیٹھاہواہے۔ابن زیاد کاسرکاٹ کر لایا گیا تو مختار ثقفی نے فرمان جاری کیا،جشن مناؤ،دشمن اسلام مارا گیا۔ہم نے جشن منایا۔ آج وہی دربارہے اور اسی تخت پرتوبراجمان ہے۔ مختارثقفی کاسرلایاگیا ہے،تیراحکم ہے جشن مناؤ،دشمن اسلام مارا گیا۔ہم آج بھی جشن منائیں گے۔کل بھی یہی دربار ہوگا،یہ تونہیں جانتاکہ تخت پرکون بیٹھا ہو گا لیکن اتناپتہ ہے کہ سرتیراہوگااور فرمان جاری کیا جائے گا، جشن مناؤ،دشمن اسلام مارا گیااورہم جشن منائیں گے۔ بوڑھے کی پیشگوئی کے عین مطابق کوفہ کے دربارمیں عبدالملک بن مروان کے سامنے مصعب بن زبیرکاسرپیش کیاگیااوراس نے جشن منانے کاحکم دیا۔کسی نے بوڑھے کی بات کا عبدالملک بن مروان کے سامنے ذکر کیا تو عبد الملک بن مروان نے فوراً دربارکی عمارت کو گرانے اوردربارکوکوفہ کے کسی دوردراز علاقے میں تعمیر کرنے کاحکم دیالیکن واقعات تواب بھی سرزدہو رہے ہیں۔
تاریخ خودکوایک مرتبہ پھردہرارہی ہے لیکن اس مرتبہ کوفہ کی جگہ دمشق کاانتخاب کیاگیاہے۔ بشارالاسد کو اقتدارسے بے دخل کئے جانے کے بعددمشق میں واقع ایرانی سفارتخانے میں رہبراعلی آیت اللہ خامنہ ای،قاسم سلیمانی اورحزب اللہ کے سابق رہنماحسن نصراللہ کی مسخ شدہ تصاویریہ یاد دلا رہی ہیں کہ ایران کوکیسے ایک کے بعدایک نقصان اٹھاناپڑا ہے اور شام میں واقعی ایک انقلاب برپاہوگیاہے۔اب ایک ایسے وقت پرجب ایران کو ٹرمپ کے ایک اورصدارتی دورکاسامناہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے میں یہ ملک ایک بارپھربہت سخت گیرپالیسی اختیارکرے گایاپھریہ مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کا دوبارہ آغازکرے گا؟اوریہ کہ اس وقت ایران کی اپنی حکومت کس قدرمضبوط ہے؟
بشارالاسدکی حکومت کاتختہ الٹنے کے بعد رہبر اعلی نے بظاہر اس ایک شکست کے باوجودخطاب کے لئے ایک دلیرانہ اندازاختیارکیا۔1 انہوںنے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ کیاکہ’’ایران مضبوط اورطاقتورہے اوریہ مزیدمضبوط ہو گا‘‘۔مشرق وسطیٰ میں ایران کی حمایت سے حماس،حزب اللہ،یمن کے حوثی اور عراقی شیعہ گروہوں پرمشتمل اتحاد ’’مزاحمت کامحور‘‘ بھی اسرائیل کے خلاف مزید مضبوط ہو کر ابھرے گا۔تم جتنا دباؤ ڈالو گے، یہ مزاحمت اتنی ہی بڑھے گی۔تم جتنے جرائم کروگے تویہ مزاحمت اتنی ہی مستحکم ہوگی۔تم ہمارے خلاف جتنالڑوگے تویہ لڑائی اتنی ہی پھیلے گی‘‘۔ مگر 7 اکتوبر 2023ء کوحماس کی طرف سے اسرائیل پر حملے ، جسے اگرایران کی حمایت حاصل نہ بھی تھی تواس کی تعریف اس نے ضرورکی،کے بعدسے جوکچھ خطے میں ہوا،اس سے ایران کی حکومت ہِل کر رہ گئی۔
اسرائیل کی اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئے منظرنامے کوجنم دیا ہے ۔امریکاکے سابق سفارتکار اور تھنک ٹینک ولسن سینٹرکے جیمزجیفری کاکہناہے کہ’’مزاحمت کے محورکے تمام حصہ داراب شکست کھا رہے ہیں ۔ یمن کے حوثیوں کے علاوہ خطے میں ایران کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ ایران اب بھی پڑوسی ملک عراق میں طاقتورمسلح شیعہ گروہوں کی پشت پناہی کرتاہے ‘‘مگرجیمز جیفری کے مطابق’’جوکچھ ہوا اس سے غیر معمولی طورپرخطے میں(ایرانی) اثر و رسوخ کاخاتمہ ہواہے‘‘۔
بشارالاسدآخری بارعوامی سطح پریکم دسمبرکوایران کے وزیرخارجہ کے ساتھ ایک اجلاس میں نمودار ہوئے تھے جب انہوں نے اس عزم کااظہار کیا تھاکہ وہ دمشق کی طرف پیش قدمی کرنے والے باغیوں سے سختی سے نمٹیں گے مگراب اپنی حکومت کے خاتمے کے بعداس وقت اب بشارالاسد فرار ہوکرروس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ایران کے شام میں سفیرحسین اکبری نے بشارالاسد کومزاحمت کے محورکے سرکردہ رہنماکے طورپر متعارف کرایا مگرجب خود بشارالاسدکے اقتدارکا آخری وقت آن پہنچاتوپھرایران بھی ان کے لئے کچھ کرنے کے قابل نہ رہا۔
ایران نے خطے میں اپنااثرورسوخ برقراررکھنے اوراسرائیل کے خلاف ایک طاقت کھڑی کرنے کی غرض سے کئی دہائیاں لگاکر مسلح گروہوں کاایک نیٹ ورک تیارکیا۔یہ سلسلہ 1979ء سے شروع ہوتاہے۔عراق کے ساتھ جنگ کے بعد شام کے حکمران بشارالاسد کے والدحافظ الاسدنے بھی ایران کی حمایت کی۔شام میں اسدخاندان(جن کاتعلق علوی فرقے سے ہے)اور ایران میں شیعہ علماء کے درمیان اتحادنے سنی اکثریتی مشرق وسطیٰ میں ایران کی طاقت کومضبوط کیا۔ایران کے لئے اپنے اتحادی لبنان،حزب اللہ اورخطے میں دیگر مسلح گروہوں کی مددکے لئے شام اہم سپلائی روٹ بھی تھا۔
ایران اس سے قبل بھی بشارالاسدکی مددکے لئے سامنے آیاجب2011ء میں بشارالاسدکے خلاف ایک بغاوت شروع ہوئی توایسے میں ایران نے ان کی مدد کی۔اہم ذرائع کے مطابق ایران نے2011ء سے اب تک30 سے50بلین ڈالر خرچ کئے مگراب ایران کی طرف سے مستقبل میں لبنان میں حزب اللہ اوردیگرگروہوں کی مدد کے لئے یہ سپلائی لائن کٹ گئی ہے۔مزاحمت کامحورایک ایسانیٹ ورک تھا جسے اس طرح بنایاگیاتھاکہ وہ ایران کے لئے اہم اثاثہ ثابت ہواوراس کی موجودگی میں تہران پرکسی قسم کاکوئی براہ راست حملہ نہ ہو سکے مگریہ حکمت عملی واضح طور پر ناکام ہوچکی ہے۔
شام میں بشارالاسدحکومت کے خاتمے کے بعدایران کے لئے آگے بڑھنے کے امکانات محدود ہوگئے ہیں۔اکتوبرمیں ایران نے اسرائیل پر جو بیلسٹک میزائل داغے،ان کا تعاقب کرکے انہیں بے اثرکردیاگیاتھا۔یہ اوربات ہے کہ ان میں سے کچھ میزائلوں سے اسرائیل کے متعددفضائی اڈوں کونقصان بھی پہنچا۔اسرائیل کے جوابی حملے میں ایران کے ایئرڈیفنس کے نظام اورمیزائل بنانے کی صلاحیت کوشدیدنقصان پہنچا۔
ایران کی ترجیح اول اپنی بقاکویقینی بناناہے۔ اب ایران اپنے آپ کوتبدیل کرنے، مزاحمت کے محورمیں سے جوبچاہے،اسے تقویت دینے اور علاقائی تعلقات میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کرے گاتاکہ نومنتخب ٹرمپ کے دباؤسے بچاجاسکے۔ڈینس ہورک نے کینیڈاکے ناظم الامور کے طورپرتین سال ایران میں گزارے۔وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک مضبوط اعصاب والی حکومت ہے جس میں طاقت کے زبردست محورہیں،اوروہ خطرات سے کھیل سکتے ہیں‘‘۔ان کے مطابق ایران میں اب بھی لڑنے کی بے پناہ صلاحیت ہے جسے اسرائیل سے جنگ کی صورت میں وہ خلیجی عرب ممالک کے خلاف استعمال کرسکتاہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کومحض کاغذی شیرسمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔
یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ کو غیرمتوقع ٹرمپ کاسامناہوگاجو20دسمبرکوامریکی صدرکاحلف اٹھالیں گے اوردوسرااسرائیل نے یہ ثابت کیاہے کہ وہ اپنے دشمنوں کاانتخاب کیسے کرتاہے۔ایران یقینی طور پراپنے ’’ڈیفنس ڈاکٹرائن‘‘یعنی دفاعی نظریے کوبھی ازسرنو ترتیب دے گاجس کاپہلے خاصاانحصار مزاحمت کے محور پر تھا۔اب وہ اپنے نیوکلیئرپروگرام کابھی جائزہ لے گا اور اس بات کابھی تعین کرے گاکہ ملک کی وسیع ترسلامتی کے لئے اس پروگرام میں بڑی سرمایہ کاری ضروری ہو گی۔ایران کایہ اصرارہے کہ اس کانیوکلیئرپروگرام مکمل طورپرپرامن مقاصدکے لئے ہے مگرٹرمپ نے اپنے پہلے دو ر اقتدار میں ایران سے2015ء کامعاہدہ ختم کیا۔اس معاہدے کے تحت معاشی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے ایران اپنے پروگرام کو محدودکرنے پر رضامند ہوگیاتھا۔
مغربی ممالک کواس پرتشویش ہے۔تل ابیب یونیورسٹی میں اسرائیلی انسٹیٹیوٹ فارنیشنل سکیورٹی سٹڈیز کی سینیئرمحقق ڈاکٹرریز زمت کاکہناہے کہ’’یہ واضح ہے کہ ٹرمپ ایران کو(اس حوالے سے)مکمل دباؤمیں رکھیں گے مگرمیرے خیال میں وہ ایران سے مذاکرات کے دروازے بھی کھولیں گے تاکہ اس کے متعلق ازسرنو بات چیت کاآغازہو سکے اوروہ ایران کواس کے نیوکلیئر پروگرام سے دستبرداری پرراضی کرسکیں‘‘۔نیتن یاہو ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں مگرڈاکٹرریزکے خیال میں ’’اسرائیل انتظارکرے گاکہ آخرٹرمپ کیاکرتے ہیں اور ایران اس کاپھرکیاجواب دیتاہے۔اس کے امکان کم ہیں کہ ایران جنگ چھیڑنے کامتمنی ہوگا‘‘۔میں اپنے ایک کالم میں اس توقع کااظہار بھی کرچکاہوں کہ میرے خیال میں بطوربزنس مین ٹرمپ ایران سے بات چیت کی راہ نکالیں گے اورڈیل کی کوشش کریں گے۔ اگرایسا نہیں ہوتاتوپھروہ اسے مذاکرات کی میزتک لانے کے لئے زیادہ سے زیادہ دباؤڈالیں گے۔اس لئے میں اب بھی یہ سمجھتاہوں کہ جنگ سے زیادہ ڈیل کے امکانات ہیں۔تاہم اس بات کے بھی امکانات موجود ہیں کہ اگروہ زیادہ دباؤبڑھائیں گے تواس سے خرابی بھی پیدا ہوسکتی ہے اورپھراس کا نتیجہ جنگ کی صورت میں نکلے گاجوامریکااوران کے اتحادیوں میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا۔جیمزجیفری کاکہناہے کہ’’میرانہیں خیال کہ ایرانی عوام دوبارہ اٹھیں گے کیونکہ ایران نے اپنی سلطنت کھودی ہے جوکہ بہت غیر مقبول تھی‘‘
پڑوسی کے مکاں میں چھت نہیں ہے
مکاں اپنے بہت اونچے نہ رکھنا