Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

بھارت کی بحری توسیع پسندی: چیلنجز اور حقیقت

فضامیں ابھی امریکی پابندیوں کی تلخ گونج ابھی چل رہی ہے کہ اب پاکستان نیوی کی بڑھتی صلاحیتوں پردشمن کی نیندیں حرام ہورہی ہیں۔ جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا جنوبی ایشیا میں دوایسے ہمسایہ ممالک ہیں جوماضی میں تین باقاعدہ بڑی جنگیں لڑچکے ہیں اوراس کے علاوہ متعدد ایسے مواقع بھی آئے جب یہ دونوں چوتھی باقاعدہ جنگ کے دہانے سے واپس پلٹے۔ گزشتہ 77 برسوں سے چلی آرہی کشیدگی کی بناپردونوں ممالک ایک دوسرے کی عسکری قوت پر نظر رکھتی ہیں۔انڈین بحریہ کے سربراہ نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ انڈیا پاکستانی بحریہ کی’’حیرت انگیزترقی‘‘سے پوری طرح آگاہ ہے،جوآئندہ برسوں میں اپنے موجودہ بحری بیڑے کی صلاحیت50بحری جہازوں تک بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔
اِس وقت چین پاکستانی بحریہ کی بحری جہاز اورآبدوزیں بنانے میں مددکررہاہے۔ہم ان (پاکستان) کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے بارے میں پوری طرح آگاہ ہیں،اسی لیے ہم اپنے مفادات پر پڑنے والے کسی ممکنہ منفی اثرکوزائل کرنے کیلئے اپنی حکمت عملی اورآپریشنل منصوبے میں تبدیلی کررہے ہیں۔ہم کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں ۔پاکستانی بحریہ کی بڑھتی ہوئی طاقت اورچین سے اشتراک پر انڈین تشویش دراصل عالمی طاقتوں کوگمراہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔
حالیہ برسوں میں چین کی بحری طاقت میں تیزی سے اضافہ ہواہے اوراس کے بحری بیڑے میں اب امریکاسے زیادہ جہازموجود ہیں اوراس نے بحرہند میں کئی ریسرچ اورجاسوسی کرنے والے جہاز مستقل طورپرتعینات کررکھے ہیں۔انڈین بحریہ کے سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیاہے جب انڈیااورپاکستان کئی برس سے اپنی بحریہ کووسعت دینے میں مصروف ہیں۔حالیہ برسوں میں دنیاکے بدلتے ہوئے سکیورٹی پس منظرمیں جنگی حکمت عملی میں بحریہ مزیداہمیت اختیارکرگئی ہے۔
انڈین بحریہ کے مطابق ان کے پاس اِس وقت چھوٹے بڑے بحری جہازوں کی تعداد150 ہے جبکہ ان کے پاس دوطیارہ بردارجہاز بھی موجود ہیں، اس کے علاوہ انڈیاکے پاس 16 کنوینشل یعنی روایتی جبکہ دونیوکلیئرپاورڈ آبدوزیں بھی موجود ہیں۔ انڈین بحریہ کے مطابق ان کے پاس 275 طیارے،ہیلی کاپٹراورڈرونزبھی موجود ہیں جبکہ 50 بحری جہاز اورآبدوزیں تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ انڈیانے حال ہی میں ایک اپنا طیارہ برداربحری جہاز ’’آئی این ایس وراٹ‘‘ بنایا ہے جبکہ ایک اورطیارہ برداربحری جہازکی منظوری دی ہے جسے بننے میں ابھی کئی برس لگیں گے۔اس وقت انڈین بحریہ کے پاس روسی ساخت کاطیارہ بردار جہاز’’آئی این ایس وکرم ادتیہ‘‘ اور’’آئی این ایس وراٹ‘‘آپریشن میں ہیں۔
انڈیانے حالیہ برسوں میں روس کی مدد سے ملک میں دوجوہری آبدوزیں بنائی ہیں جبکہ مزید دوآبدوزیں آئندہ سالوں میں فعال ہوں گی۔ انڈین بحریہ نے گزشتہ30-40برس میں بہت خاموشی سے خودکووسعت دینے پرتوجہ مرکوزکی ہے۔یہ اس خطے میں پہلی بحریہ تھی جس نے اپنے بیڑے میں طیارہ برداربحری جہازشامل کیا تھا۔ 1964 ء میں انڈین بحریہ نے برطانیہ سے ایچ ایم ہرکولیس نامی ایک پراناطیارہ بردار جہاز خریدا تھا جسے آئی این ایس وکرانت کانام دیا گیا تھا۔ انڈیاکی بیشترآبدوزیں بہت پرانی ہوچکی ہیں۔اس کی16 میں سے نصف کنونشنل آبدوزیں جنگ میں استعمال کے لائق نہیں تاہم اب بحریہ نیوکلیر پاورڈ آبدوزیں حاصل کرنے پرتوجہ مرکوزکررہی ہے۔
بحریہ تین طرح کی ہوتی ہیں: ایک ’’براؤن واٹر‘‘ نیوی،جوسمندرکے اندرونی علاقوں اوردریائوں وغیرہ کے آس پاس کام کرتی ہے۔ ’’گرین واٹرنیوی‘‘ساحلی علاقوں کی نگہبانی کیلئے ہوتی ہے جوکہ عموماً 12سے16بحری میل کے دائرے میں آپریٹ کرتی ہے اور بنیادی طورپراپنے ساحلوں اوربحری حدودکی حفاظت کرتی ہے اور تیسری’’بلیوواٹرنیوی‘‘اپنی بحری حدودسے ہزاروں میل دور تک پیٹرولنگ کرتی ہے اور اپنا حق جتاتی ہے۔اس وقت انڈین بحریہ اب بلیو واٹر نیوی کے زمرے میں آتی ہے اورسب کوعلم ہے کہ انڈیاکی بحریہ کی صلاحیت پاکستان سے زیادہ ہے لیکن اس کے باوجودانڈیاپراس خطے میں سپر پاوربننے کاایک جنگی جنون سوار ہے۔
جبکہ پاکستان میں عسکری ذرائع کے مطابق بحریہ کے پاس مختلف اقسام کے45بحری جہاز ہیں،جن میں چھ آئل ٹینکرزبھی شامل ہیں۔ پاکستانی بحریہ کے پاس پانچ آبدوزیں موجود ہیں، جبکہ آٹھ آبدوزیں اورمتعددجنگی جہازابھی تیاری کے مراحل میں ہیں۔ پاکستانی بحریہ کے پاس فکسڈونگ جہازوں کے تین،روٹری ونگ جہازوں کے تین اورڈرونزکابھی ایک سکواڈرن موجود ہے۔ خیال رہے ایک سکواڈرن میں متعدد طیارے ہوتے ہیں۔پاکستان کی ساحلی پٹی ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ لمبی ہے۔تاہم دونوں ممالک کے دفاعی تجزیہ کارکے مطابق دوممالک کی نیول فورسز کا موازنہ ان کے پاس موجودجنگی سازوسامان کی بنیاد پرکرنامناسب نہیں ہے کیونکہ زمینی حقائق کے مطابق ہرملک کی بحریہ کامقصدالگ ہوتا ہے۔ پاکستانی نیوی کامِشن دراصل دفاعی نوعیت کاہے جس کا مقصداپنی سمندری سرحدوں کی حفاظت کرناہے۔چونکہ ہماری90فیصدسے زیادہ تجارت سمندرکے ذریعے ہوتی ہے توہمیں امن اورجنگ دونوں زمانوں میں اس کی حفاظت کرنی ہے۔اس کیلئے جوچیزیں چاہییں ہم ان کابندوبست کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں پاکستان کی بحریہ نے انتہائی تیزی سے ترقی کی ہے اورپاکستانی قیادت کو انڈیاکی اس(ترقی)میں دلچسپی کا بخوبی اندازہ ہے۔ پاکستان کی بحریہ ہردوبرس بعد مشقیں کرتی ہے تاکہ کسی بھی جنگ کی صورت میں پیچیدہ آپریشنز کی تیاری ہو سکے۔رواں برس فروری کے مہینے میں بھی ایسی ہی مشقیں’’سپارک2024‘‘کے نام پرسندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ہوئی تھی۔ ان مشقوں کے دوران’’سمندرمیں آپریشنز کے دوران پاکستانی بحریہ کے جنگی جہازوں اورہوائی جہازوں نے انڈین بحریہ کے جہازوں ، آبدوزوں اورہوائی جہازوں کی موجودگی کابھی سراغ لگایا جوپاکستان نیوی کی جنگی مشقوں کاخفیہ طریقے سے مشاہدہ کرنے کی کوشش کررہے تھے‘‘۔
گزشتہ چندبرسوں میں پاکستانی بحریہ نے متعدد نئے جہازاپنے بیڑے میں شامل کیے ہیں اورکئی نئے جہازاورآبدوزیں ابھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔گزشتہ برس پاکستانی بحریہ نے ترکی میں بنائے گئے جنگی جہاز’’پی این ایس بابر‘‘ اوررومانیہ میں بنائے گئے جنگی جہاز’’پی این ایس حنین‘‘کواپنے بیڑے میں شامل کیاتھا۔اس طرح پاکستان اورچین کے درمیان چاربحری جنگی جہاز بنانے کا معاہدہ2018ء میں ہواتھااورگزشتہ برس یہ معاہدہ اس وقت مکمل ہواجب چین نے دوٹائپ 054اے جنگی جہازپاکستان کے حوالے کیے ۔ اس سے قبل بھی چین ایسے ہی دوجہازپاکستان کے حوالے کرچکاتھا۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے چین کو آٹھ ہنگورکلاس آبدوزیں بنانے کاآرڈربھی دے رکھاہے اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ تمام آبدوزیں2028ء تک پاکستانی بحریہ کے بیڑے میں شامل کر لی جائیں گی۔
وائس ایڈمرل ریٹائرڈاحمدتسنیم جو 1971ء میں پاکستانی آبدوز’’پی این ایس ہنگور‘‘کے کمانڈر تھے اوران ہی کی قیادت میں پاکستان نے انڈین بحری جہاز’’آئی این ایس کھکری ‘‘ کو تباہ کیاتھا،ان کے مطابق وہ گزشتہ15برسوں میں پاکستانی نیوی کی برق رفتارترقی کی وجہ بحریہ کی قیادت کوسمجھتے ہیں۔پاکستان میں فیصلہ سازوں کو سمندرکی اہمیت دیرسے سمجھ آئی اور’’جب حکومتوں نے اسے نظراندازکرناچھوڑا‘‘۔ہم نے خاموشی سے فنڈحاصل کیے،نئے پلیٹ فارمزحاصل کیے،اچھے ہتھیاراورسینسرزخریدے اوریوں پاکستانی بحریہ کی دیگر ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی کی جوپالیسی انتہائی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔
ابھی حال ہی میں رومانیہ اورترکی میں بنائے گئے جہازبھی پاکستانی بحریہ میں شامل کیے گئے ہیں اورمستقبل قریب میں پاکستانی بحریہ کے پاس50تک بحری جنگی جہازآجائیں گے ۔ پاکستان اورچین مل کرابھی8آبدوزیں بنارہے ہیں جن میں سے چارچین جبکہ چارکراچی کے شپ یارڈ میں بن رہی ہیں۔پاکستان کی بحریہ دیگربحری جنگی جہازبنانے پربھی کام کررہی ہے جس کے کچھ پرزے پاکستان اورکچھ دیگرممالک میں بن رہے ہیں۔
دوسری جانب انڈین کادعویٰ ہے کہ ’’پاکستان نے چین کے ذریعے اپنے جہاز،میزائل اورآبدوزیں بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین نے پاکستان کوایریاڈینائل نامی دومیزائل دیے ہیں جن کی رینج200سے400کلو میٹرتک ہے اور یہ طیارہ برداربحری جہازوں کوبھی باآسانی نشانہ بناسکتے ہیں‘‘۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں