گزشتہ سال7اکتوبرکے بعدخطے میں جاری اسرائیلی سفاکی اورامریکاسمیت اتحادیوں کے گٹھ جوڑ سے آج رونماہونے والی صورتحال نے بشارالاسد کی حکومت کے اچانک خاتمے کانہ صرف خطے کے ممالک بلکہ بین الاقوامی منظرنامے پربھی گہرا اثرچھوڑاہے اوریہ سلسلہ اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہاہے جہاں گریٹراسرائیل کے واضح امکانات کوحقیقت میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔کیااب اس شیطانی مثلث کارخ ایران اورترکی کی طرف ہوگا اور بعد ازاں پاکستان کاگھیراتنگ کرکے اس کی ایٹمی طاقت کو نشانہ بنایاجائے گا؟یہ وہ اہم سوالات ہیں جن کا تدارک ہوش مندی سے نہ کیاگیاتومصلحتوں کے سیاہ بادل کسی ہولناک طوفان میں ہمیں تنکوں کی طرح بہالے جائیں گے اورمورخ یقیناہماراشماربھی ان مسلم حکمرانوں کے ساتھ ہی بطور عبرت لکھے گاجس طرح ہمارے پیشروں کوہلاکوخان کی افواج نے نیست ونابودکردیا تھاکہ ہم اپنے اقتدارکے لئے خودہی کوتباہ کرنے پراپنی توانائیاں صرف کرتے رہے۔ (خاکم بدہن)
یادرہے کہ اس سے دوقوتوں،یعنی ایران اور روس جن کی حمایت اورمددسے بشارالاسدپچھلے کئی سال سے اپنے ملک میں بغاوت کودبانے میں کامیاب رہے تھے،کے خطے میں زوال کے بارے میں بھی پتہ چلتا ہے۔ بشارالاسدکے ملک سے فراراورشام میں عبوری حکومت کے قیام کے بعدبھی تجزیہ کاراسدحکومت کے زوال کے پیچھے کارفرماوجوہات اوراس کے نتیجے میں خطے پرپڑنے والے اثرات کوسمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔کچھ ماہرین اس کوسمجھنے کے لئے ’’بٹرفلائی ایفیکٹ‘‘ تھیوری کا سہارا لے رہے ہیں۔اس نظرئیے میں بتایاجاتاہے کہ کیسے دنیامیں رونما ہونے والے واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔اس کوسمجھانے کے لئے تتلی کے پھڑپھڑانے کی مثال دی جاتی ہے کہ کیسے ایک تتلی کااپنے پنکھ ہلاناکہیں دوردرازعلاقے میں طوفان کاسبب بن سکتاہے۔
سیاسی تجزیہ کاراورسابق اسرائیلی سفارتکارمیئر کوہن’’بٹرفلائی ایفیکٹ‘‘ تھیوری کاسہارالیتے ہوئے شام میں بشارالاسدحکومت کے زوال کوحماس کے اسرائیل پر7اکتوبرکے حملے سے جوڑتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ایرانی حمایت سے یحییٰ سنوارکی قیادت میں کیے جانے والے حملے کامقصدلبنان میں حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل کے گردگھیراتنگ کرناتھالیکن ایران خودہی اس چال کاشکارہوگیا۔ ایران کے ’’مزاحمت کے محور‘‘ کا زوال،جس میں حزب اللہ اورحماس شامل ہیں،کسی لڑھکتے برف کے گولے کی مانندہے جواپنی راہ میں آنے والی ہرچیزکوتباہ کردیتاہے اورشام میں اسدحکومت کاخاتمہ اِسی کانتیجہ ہے اوراب یہ صورتحال بالآخرایرانی حکومت کے خاتمے کاباعث بنے گی۔
ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ اسرائیل اور اس کے مضبوط اتحادی امریکا سمیت اس سارے پلان سے نہ صرف بخوبی واقف تھے بلکہ اس پلان کی کمزوریوں کوبڑھاوادینے کے لئے اپنے مہروں کواستعمال کررہے تھے تاکہ اس خطے میں گریٹراسرائیل کے قیام کی راہیں ہموارکرنے کے لئے حماس اوراس کی پشت پناہی کرنے والوں کو7 اکتوبرکوہونے والے حملے کے لئے اکسایا جائے جس کے جواب میں یہ جاری کارروائی سے اپنے مذموم مقاصدکی تکمیل کے لئے اگلے اقدامت پرعملی جامہ پہنایا جائے جس کوہم دیکھ رہے ہیں۔یادرہے کہ حماس کے اس حملے کے فوری بعدنیتن یاہوکے اس بامعنی خیزبیان کوضرورسامنے رکھیں ،جس میں اس نے یہ دھمکی دی تھی کہ ’’اب خطے میں ان کارروائی کرنے والوں کی نسلیں بھی اس کاخمیازہ بھگتیں گی اسرائیل اپنی صحیح منزلِ مقسود پر پہنچ کر ہی دم لے گا۔‘‘
میئرکوہن کاکہناہے کہ’’اب وقت آگیاہے کہ اسرائیل،امریکااورعرب ممالک کوخطے کے مستقبل کے بارے میں مشترکہ وژن ترتیب دیناہوگا۔حالیہ واقعات کاایران پرگہرااثرپڑے گااورایران میں بڑے پیمانے پرہونے والے مظاہرے اس جانب اشارہ ہیں۔ دوسری جانب فلسطین کے مغربی کنارے میں بھی محمود عباس کی حکومت کو ہٹانے کے لئے مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ خطرہ ہے کہ مصرمیں اخوان المسلمین موجودہ واقعات کا فائدہ اٹھانے کے کوشش کرے،ساتھ اردن میں بھی حکومت کوخطرہ لاحق ہے۔‘‘گویاان ممالک کو خطرات سے خوفزدہ کرکے اسرائیل کی گودمیں لینے کامنافقانہ عمل شروع کرنے کااشارہ دیاجارہاہے۔
ادھرواشنگٹن کی اٹلانٹک کونسل کی محقق عالیہ ابراہیمی مشرق وسطی کی سیاست پرتجزیہ کرتی ہوئے میئرکی اس رائے سے متفق ہیں کہ7اکتوبرکے حملے، اسد حکومت کے خاتمے کی وجوہات میں سے ایک ہیں لیکن وہ ان نفسیاتی اورفوجی اثرات کوزیادہ اہمیت دیتی ہیں جوشامی اپوزیشن کے عروج کاباعث بنے۔’’ہم اسرائیل پر 7 اکتوبرکے حملوں اوراسدحکومت کے زوال کے درمیان ایک واضح تعلق دیکھ سکتے ہیں۔‘‘تاہم عالیہ ابراہیمی کی نظرمیں دیگرعوامل جنہوں نے بشارالاسدکے زوال میں فیصلہ کن کردار اداکیاان میں شام کی معیشت کی تباہی،روس کایوکرین پر حملہ، ترکی کااسدحکومت کولے کر صبرکاختم ہونا اور 7اکتوبر حملے کے بعد ایران کی طاقت میں کمی شامل ہیں۔
ان کاکہناہے کہ’’ایک ایسے وقت میں جب اسدکے مخالفین پہلے سے زیادہ متحد،منظم اورپرعزم دکھائی دے رہے تھے تواسرائیل کی حزب اللہ اورشام میں موجودایران کے پاسداران انقلاب کے خلاف کارروا ئیوں نے شامی صدرکومزید کمزور کر دیا تھا ۔’’عالیہ ابراہیمی کے مطابق7 اکتوبرکو شروع ہونے والے ’’بٹرفلائی ایفیکٹ‘‘ نے غیرارادی واقعات کے ایک سلسلے کوجنم دیاتاہم ان کی نظر میں نفسیاتی اثرات کوبھی نظراندازنہیں کیاجاسکتا ’’حماس نے ثابت کیاکہ غالب قوتوں کی بھی کئی کمزوریاں ہوتی ہیں اورطاقت کا توازن کسی بھی وقت پلٹ سکتاہے۔ شامی باغی شایداسی سے متاثرتھے اورایساخطے کے دوسرے حصوں میں بھی ہوسکتاہے۔‘‘
سیاسی تجزیہ کاریوواسٹرن بھی اسد حکومت کے خاتمے اور7اکتوبرکے حملوں کے درمیان موجودتعلق کو تسلیم کرتے ہیں تاہم وہ اس کوثابت کرنے کے لئے ’’بٹرفلائی ایفیکٹ‘‘ تھیوری کے استعمال کے حق میں نہیں۔ ان کے خیال میں اس سے شام اورخطے میں رونماہونے والے واقعات کے درمیان تعلق صحیح تناظر میں پیش نہیں ہوتا۔خطے کے ایک حصے میں پیش آنے والاکوئی بھی واقعہ کسی نہ کسی اندازمیں خطے کے دیگرحصوں پربھی اثرانداز ہوتاہے۔شام میں ہونے والے واقعات کو اسرائیل ، لبنان،فلسطین اوردیگر علاقوں میں ہونے والے واقعات سے الگ نہیں کیاجاسکتا۔
ان کاکہناہے کہ خطے میں ملوث تمام قوتوں بشمول ایران،ترکی،امریکا،اسرائیل،روس اور عرب ممالک کے درمیان چندمشترکہ عوامل پائے جاتے ہیں۔ان تمام ممالک کاخطے میں ہرجگہ کردارپایاجاتاہے جواس خطے کوبہت پیچیدہ بنادیتا ہے۔بٹرفلائی ایفیکٹ کا استعمال وہاں کیاجاتاہے جہاں واقعات کے درمیان کوئی واضح تعلق موجودنہ ہو۔اس کے برعکس مشرق وسطی میں پیش آنے والے واقعات کے درمیان براہ راست تعلق پایاجاتاہے اوران کااثرخطہ عرب کے تمام پڑوسی ممالک پرپڑتاہے۔
دراصل7اکتوبرکے واقعات کے اثرات اوراس کے نتائج میں اسدحکومت کے خاتمے کونظر انداز نہیں کرسکتے۔تاہم اسدحکومت کا خاتمہ اچانک ہی نہیں ہوابلکہ یہ اس بڑھتی ہوئی عوامی بغاوت کانتیجہ تھاجس کا آغاز2011ء میں ہواتھا اور بعدازاں جس نے پیچیدہ خانہ جنگی کی صورت اختیارکرلی تھی۔ادلب میں 2020ء سے موجود فوجیں اس لمحے کے لئے تیاری کررہی تھی اور پھر وہ داخلی، علاقائی اوربین الاقوامی سطح پرہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ مل گئیں جس نے شامی حکومت کومزیدکمزور کیا۔ اس صورتحال کوبہترکرنے کی بجائے اسد نے اپنے اقتدارکو مضبوط کرنے کاراستہ لیااورمنشیات کے کاروبارمیں شامل ہونے سے شام کی پٹاگون بنانے والا بڑاملک بن گیا۔اگرچہ شامی فوجیوں کی تنخواہوں کوکم کر دیاگیا،وہاں لاپتہ افراداور قیدیوں کی صورتحال مزیدابترہوگئی اوراس تمام صورتحال نے بھی شامی حکومت کے خاتمے میں اہم کرداراداکیا۔
امریکانے اس وقت اسدحکومت کے مضبوطی سے قائم رہنے میں بلواسطہ کرداراداکیاتھاجب بشارالاسد نے2013ء میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے اور اپنے جوہری پروگرام کے لئے ایران سے بات چیت کو ترجیح دی تھی۔اسرائیل نے بھی اسدحکومت کوگولان کی پہاڑیوں کے حوالے سے1974ء کے علیحدگی کے معاہدے پر قائم رہنے کی وجہ سے دیگرممالک کی نسبت کم خطرناک تصورکیا۔ اسرائیل نے اس علاقے میں سنی اکثریت کی بجائے اقلیتوں کے ساتھ معاہدے کو ترجیح دی لیکن پھرروس کے یوکرین پرحملے اور ایرانی مددمیں کمی کی وجہ سے شام میں سکیورٹی کے حوالے سے ایک خلا پیدا ہوا۔گویااپنے اقتدارکی بقاکے لئے اسدحکومت کا علاقائی اوربین الاقوامی سطح پرمختلف تنازعات میں کردارجاری رہا ۔ تاہم سابق بشارالاسدنے اسرائیل اورایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن لانے کی کوشش کی لیکن انھیں بہت مشکل کاسامناکرنا پڑاجس میں وہ کوئی بھی فیصلہ نہ لے پائے۔ (جاری ہے)