اسلامی تہذیب و ثقافت کا عظیم گہوارہ بغداد جسے عباسی خلیفہ المنصور نے 762 میں دریائے دجلہ کے کنارے آباد کیا۔ پھر کچھ ہی عرصہ بعد خلافت عباسیہ کا دارالحکومت بن گیا، فقط یہی نہیں بلکہ اسلامی دنیا کا علمی ،ثقافتی اور تجارتی مرکز بن گیااور بغداد ’’مدینہ السلام ‘‘کہلایا۔علم و دانش کے اس مرکز میں ’’بیت الحکمت‘‘ قیام میں لایا گیا جو دنیا کا عظیم ترین تدریسی اور تحقیقی ادارہ بن کر ابھرا۔جہاں اسلامی اور یونانی علوم پر تحقیق کی بنیاد رکھی گئی اوردنیا کی دیگر زبانوں کے تراجم کئے گئے۔
ابن سینا ،الخوارزمی اور ابن رشد جیسے سائنسدان، فلاسفہ اور علما ء علمی و تحقیقی کام پر مامور ہوئے۔عباسی دور میں بغداد کو فقط علمی اور تحقیقی مرکز ہی نہیں بنایا گیا بلکہ اس کے ثقافتی تشخص کو اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔شاعری ، موسیقی اور فن تعمیر کی ترقی ہوئی۔عمارات ،مساجد کو اسلامی طرز تعمیر کے نادرنمونوں میں ڈھالا گیا۔بغداد کے شہر The Arabian Nights کی کہانیوں کے ذریعے مشہورو معروف ہوئے۔
بغداد مشرق و مغرب کے بیچ تجارتی مرکز کی حیثیت رکھتاتھا۔جہاں سلک روڈ اور دیگرراستے ایک دوسرے سے آن ملتے تھے ،جہاں چین ،یورپ اور ہندوستان کے تجارتی قافلے یک جا ہوتے ۔
جب بغداد تاریخ کے زریں دور سے گزر رہا تھا تو اس کے اثرات ایک عالم کی تاریخ و تہذیب پردکھائی دیتے تھے۔بغداد کے علما ء و فقہا علم و دانش کے اعلی مقام پر فائز تھے۔خلافت عباسیہ نے اسے بین الاقوامی اسلامی مرکز کی صورت دے دی۔ جہاں ایسے علماء و فقہا اور اہل علم و دانش نے جنم لیا جن کی اسلامی علوم،فقہ ،حدیث، فلسفہ اور سائنس میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی تھی۔
امام ابوحنیفہؒ جو فقہ حنفی کے بانی ہیں ،انہوں نے بغداد میں درس و تدریس اور فتوی کے میدان میں عظیم خدمات سر انجام دیں۔ان کے بعد ان کے ہونہار شاگردان گرامی امام ابویوسف اور امام محمد الشیبانی نے فقہ حنفی کو اور منظم کرکے پیش کرنے کی سعی پیہم کی۔
امام احمد بن حنبل بغداد کے ایک اور قابل فخر فقیہ تھے جنہوں نے علم حدیث کے فروغ میں قابل قدر خدمات سر انجام دیں ۔ان کی کتاب ’’المسند ‘‘ اسلامی تاریخ کی کتب حدیث میں اہم ترین کتاب گردانی جاتی ہے۔بلکہ ذخائر احادیث میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔جس میں امام احمد بن حنبل نے احادیث کی سند روایت کے سلسلے کے مطابق مرتب کیا ہے۔معروف ریاضی دان اور ماہر فلکیات الخوارزمی(محمد بن موسی) جو سائنسدان ہونے کیساتھ ساتھ جغرافیہ دان بھی تھے وہ بغداد میں ’’بیت الحکمت ‘‘ کے اہم رکن تھے ۔انہیں الجبرے کا بانی بھی کہا جاتا ہے ۔ان کی کتاب ’’کتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ‘‘ دنیا کی پہلی جامع کتاب ہے جس میں الجبرا کے اصولوں کو منظم طریقے سے وضع کرکے پیش کیاگیا ہے ۔جس نے یورپ میں الجبرا (Algebra )کے عنوان سے ترجمہ ہو کر ریاضی کے میدان میں انقلاب برپا کردیا۔الخوارزمی نے اعشاری نظام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیااور ہندسی اعداد کو اسلامی دنیا سے لے کر یورپ تک سے متعارف کرایا۔
واضح رہے کہ’’الگورتھم‘‘بھی الخوارزمی ہی کے نام سے ماخوذ ہے۔ان کے ریاضیاتی طریقے ہی کمپیوٹر سائنس کی بنیاد ہیں ۔ ’’زیج السند و الہند‘‘ نام کی کتاب میں انہوں نے فلکیاتی جدولوں سے متعلق تفصیل بیان کی ہے ۔
الخوارزمی وہ مسلمان سائنسدان اور محقق ہیں جنہوں نے اسلامی دنیا ہی نہیں مغرب کی نشاۃ ثانیہ کو بھی متاثر کیا۔امام غزالی ایک اور صاحب علم و دانش ہیں جنہوں نے بغداد میں ’’نظامیہ مدرسہ‘‘ میں درس و تدریس کے فرائض کے ساتھ فلسفہ ، تصوف اور اسلامی علوم کے فروغ میں بھی اہم کردار اداکیا۔ان کی کتاب’’احیاعلوم الدین‘‘ نے شہرت دوام پائی۔امام غزالی کی مشہور و معروف ترین تصنیف یہی ہے جواسلامی تعلیمات اور اخلاقیات پر ایک جامع تصنیف ہے ،جس میں دین اسلام کی روحانی اورعملی تعلیمات کو نئے سرے سے حیات بخشنے اور مسلمانوں کو دینی اصولوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کوشش بارے زور دیا۔ دنیوی معاملات میں اخلاقیات اور ذمہ دارانہ رویوں کا درس دیا۔چار حصوں پر مشتمل اس کتاب میں عبادات، عادات،گناہوں سے بچائو اور نجات دینے والے اعمال کی ترغیب دی ہے۔
امام غزالیؒ نے قرآن، حدیث اور تصوف سے متعلق متوازن اسلامی لائحہ عمل پیش کیا۔ابن جریر طبری نے قیام بغداد کے عرصہ میں اسلامی تاریخ اور تفسیر کے حوالے سے معتبرکام کیا ۔ان کی کتاب ’’تاریخ طبری‘‘ تاریخ اسلام کا اہم ماخذگردانی جاتی ہے۔بغداد کے علماء میں حضرت حسن بصریؒ کانام بھی شامل ہے جو تصوف اور زہد و تقویٰ میں خصوصی پہچان رکھتے تھے اور اپنے خطبات واقوال میں کمال تھے۔
ابن حیان بغداد کے معروف کیمیا دان تھے جدید کیمسٹری سے متعلق ان کی تحقیقات کی اہمیت کو اس وقت سے اب اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔غرض بغداد اسلامی دنیا کا وہ عظیم شہر تھا جس میں اسلامی دنیا کی اولین اور منظم دینی درس گاہ قائم کی گئی جس میں فقہ ،حدیث اور اسلامی علوم کی تعلیم دی جاتی تھی۔بغداد کے علماء و فقہا کی دینی خدمات آج بھی اسلامی علوم کے عروج کی علامت ہیں ۔جن کا اثر آج بھی عالم اسلام میں محسوس کیا جاتا ہے۔