سال2025 ء آپ سب کو مبارک ہو۔ تاہم یہ سال بہت احتیاط کا ہے۔ توبہ و استغفار و معمول بنا لیں تاکہ فتنہ آخر زمان ‘ ناگہانی حادثات اور واقعات سے محفوظ رہ سکیں۔ جس کی گارنٹی اور ضمانت اللہ تعالیٰ نے سورہ انفال کی آیت 33 میں دے رکھی ہے۔ علم غیب صرف اللہ کے پاس ہے۔ تاہم احادیث کی روشنی اور علم فلکیات اور علم آخر زماں سے ہمیں آخری زمانے کی علامات اور نشانیاں راہنمائی کرتی ہیں۔ جن کے مطابق ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
اسلامی علم آخرزمانeschatology کے مطابق، احادیث میں کئی علامات بتائی گئی ہیں جو اس سال یا اس کے قریب پیش آ سکتی ہیں۔حالیہ اچانک سیریا حکومت کی پر امن مگر پر اسرار تبدیلی۔ ایران اور روس کا خاموش سے سیریا سے گیارہ سال کی جنگ و جدل کے بعد غیر اعلانیہ نکل جانا۔ بشار الاسد کا بھی پراسرار طور پر خاموش سے اقتدار چھوڑ کر چلے جانا اور احمد شرع کا بغیر کسی مشکل کے سیریا کا نیا حکمران بن جانا اور امریکہ یورپ‘ اسرائیل کا خاموشی اختیار کرنا۔سب تعجب خیر امور ہیں۔ اسی طرح ترکیہ کا سیریا کی نئی حکومت کی تائید اور سرپرست کے طور پر منظر عالم پر نئی سپر طاقت کے طور پر ابھرنا۔
احادیث کے مطابق حجاز میں ایک حکمران کی وفات اور قبائلی جنگ کا ہونا مذکور ہے۔ احادیث کے مطابق اس انتشار کے دوران امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہونا اور مقام ابراہیم پر بیعت کا ہونا۔ امام مہدی علیہ السلام آخری دور میں مسلمانوں کی قیادت اور ربانی کریں گے۔ مسلمانوں کو باہم متحد کریں گے اور امن و اتحاد کی طرف بلائیں گے۔آیئے اس سال کو امام مہدی علیہ السلام کی آمد اور استقبال کا سال بنائیں۔
حدیث کے مطابق حج کے دوران خونریزی کا امکان ہے، احادیث میں اشارہ دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑی آزمائش بن سکتا ہے۔امام مہدی علیہ السلام کے خلاف مغربی طاقتوں کی طرف سے ایک بڑی جنگ ہوگی جس کی قیادت سیریا کے علاقے حلب دابق سے سفیانی نامی شخص کرے گا۔ یہ جنگ دمشق سے 20 میل دور مقام غوطہ سے شروع ہوگی جوآرماگڈون (Malhama al-Kubra) کہلائے گی۔
یہ جنگ چار دن تک جاری رہے گی اور اس میں90 فیصد لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ تاہم، چوتھے دن اللہ تعالیٰ کی غیبی نصرت اور مدد سے امام مہدی اور ان کے ساتھی فتح یاب ہوں گے۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے اتحاد اور قیادت کا باعث بنے گا اور عراق کے صالح لوگ ، شام کے ا بدال اور خراسان کا خدائی لشکر امام مہدی کی حمایت میں نکلیں گے۔ امام مہدی خلافت علی منہاج النبوہ قائم کریں گے اور سب مسلمان ان کی قیادت میں متحد اور خوش ہوں گے۔
امام مہدی کی فتح کے بعد کسی وقت یا زیادہ سے زیادہ دو سال کے اندر دجال کا ظہور ہوگا۔ دجال دنیا پر حکمرانی کرے گا۔ اس کو ایسی طاقت اللہ کی طرف سے حاصل ہوگی۔ جو عام لوگوں کو متاثر کرے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے دجال کو مکہ اور مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ کیونکہ ان شہروں کی حفاظت اللہ کے حکم سے فرشتے کریں گے۔امام مہدی دمشق میں ہوں گے۔ دجال کے چالیس دن ایمان داروں کیلئے بڑا امتحان ہونگے۔
دجال کا فتنہ چالیس دن تک جاری رہے گا، اور پھر وہ امام مہدی کے خلاف دمشق پر حملہ کرنے کے لیے آئے گا اور اس موقع پر اللہ تعالیٰ حضرت عیسی علیہ السلام کو نازل کریں گے، جو دجال کو قتل کریں گے اور فتنہ دجال ختم ہوگا۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام دنیا میں امن و انصاف قائم کریں گے اور سارے مسلمان ان کے جھنڈے تلے متحد ہونگے اور خوشی و خوشحالی کا دور ہوگا‘ امت مسلمہ متحد ہوگی اور امام مہدی علیہ السلام حکمران اور قیادت فرمائیں گے۔
حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول پر حضرت امام مہدی ان کا استقبال کریں گے۔ حتمی اور حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ دنیا کے حالات اور آثار سے آخرزمانہ کی علامات قبل ظہور امام مہدی علیہ السلام پوری ہوکر ظاہر ہوچکی ہیں ۔ سواے ایک آخری علامت کے جس کا ذکر اوپر کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نوسٹراڈامس اور بابا وانگا کی پیشگوئیوں میں بھی ایسے ہی واقعات کا ذکر ملتا ہے، جن میں عالمی جنگیں، قدرتی آفات، اور قیادت کی تبدیلی شامل ہیں۔ مختصر یہ کہ ہمیں ان آزمائشوں سے بچنے کے لیے احتیاط کرنی چاہیے۔ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، اللہ سے مدد مانگیں، نماز اور دعا کا اہتمام کریں، اور اجتماعی طور پر خیر و عافیت کی دعائیں کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان آخری زمانے میں صراط مستقیم پر قائم رکھے اور دجالی فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین
اس سال کا آغاز توبہ و استغفار اور دعا سے کریں اور باہمی‘سیاسی‘ ذاتی اور فرقہ وارانہ اختلافات بہلاکر اسلام کے جھنڈے تلے متحد ہوجائیں۔