(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک اورلحاظ سے دیکھاجائے تومشرق وسطیٰ میں تیزی سے ہونے والی پیشرفت سے علاقائی اوربین الاقوامی توازن کے علاوہ اسدکے حامیوں میں بھی بڑی تبدیلی سامنے آئی۔روس اورایران کی جانب سے اسدحکومت کے ساتھ قریبی تعاون کے باوجودان دونوں کے درمیان اختلافات برقراررہے۔نئی امریکی انتظامیہ کے آنے کے بعد،جویوکرین میں بحران کے خاتمے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے،روس کے لئے ایران کی اس علاقے میں ضرورت ختم ہوگئی اوراس سے اتحاد کونئی شکل ملی اوراس صورتحال نے اسد حکومت کو ایک مشکل پوزیشن میں ڈال دیا۔
آج جب اسدخاندان کے55سالہ ظالمانہ اقتدارکاخاتمہ ہوگیاہے تواحمدالشرع ایک نئے روپ میں سامنے آئے ہیں۔ان کایہ نیاروپ القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ایک جہادی تحریک کے سربراہ سے مختلف ہے۔ احمدالشرع نے کمانڈرانچیف کی حیثیت سے نئی شامی انتظامیہ کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔وہ سیاسی منظرنامے پربڑے پراعتماد اندازمیں داخلی اورخارجی سطح پرنمایاں یقین دہانیوں پرمبنی پیغامات دے رہے ہیں۔دمشق میں عبوری حکومت کے اعلان کے ساتھ سفارتی سرگرمیاں اورہمسایہ ممالک کے وفودکی میزبانی دیکھی جارہی ہے۔ ایسے میں نمایاں شخصیات بھی دوبارہ سے منظرپردکھائی دے رہی ہیں خاص طورپرسابق نائب صدرفاروق جو گزشتہ کئی برسوں میں سیاسی منظر نامے سیغائب رہے ہیں۔
اب مستقبل کے بارے میں سوالات زیادہ سنجیدہ اورپیشگوئی کے اعتبارسے زیادہ مشکل ہوں گے جیساکہ اب ممکنہ صورتحال کیا ہوگی؟کیاشام میں بیرونی اثرورسوخ صرف ترکی اورمغرب کی مددسے اسرائیل تک محدودرہے گایاپھرمستقبل میں مضبوط عرب اتحاد کا کوئی موقع پیدا ہو گا؟ اس تناظرمیں ایران اوراس کے اتحادیوں کی کیاپوزیشن ہوگی؟یاپھرہم ایک نئے مشرق وسطیٰ کی شروعات دیکھیں گے؟
مہدی طیب،جو2013ء میں ایران کے پاسدران انقلاب کے نائب کمانڈرتھے،ایران کے شام کے ساتھ تعلقات کی درست وضاحت کرتے ہوئے اور اسدحکومت کے خاتمے سے تہران کوہونے والے نقصانات پربات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’اگرہم نے شام کوگنوادیا تو ہم تہران کونہیں بچاپائیں گے‘‘۔ادھراسرائیلی تجزیہ کار یوواسٹرن کے مطابق بشارالاسدحکومت کے خاتمے کے بعدخطے میں مزاحمت کے محورایران پراس کے منفی اثرات نمایاں ہوں گے۔مزاحمت کے اس محورکوقائم رکھنے کے لئے شام سے سپلائی کی گزرگاہیں تھیں جوانتہائی اہمیت کی حامل تھیں اوراب یہ گزرگاہیں بندہوگئیں ہیں اورایران کے لئے حزب اللہ کوہتھیاربھجوانامشکل ہوگیاہے گویا اسد حکومت کے خاتمے سے دراصل اسرائیل کولاحق ایک بڑا سٹریٹیجک خطرہ ختم ہوگیاہے اورشام کی فوجی صلاحیتوں بشمول نیوی کی تباہی سے اسرائیل نے اپناہدف حاصل کرلیاہے۔
اسرائیل نے اپنایہ ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے نہ صرف برسوں اس پربھرپورمحنت کی ہے بلکہ خطے میں اپنی برتری قائم رکھنے کے لئے وہایک باقاعدہ ایک پلان کے تحت آگے بڑھاہے۔یہ حادثہ کوئی اچانک نہیں ہواہے بلکہ اسرائیل نے گزشتہ برس7اکتوبرسے لے کر پوراسال غزہ اورگردونواح کے علاقوں میں خونی ہولی کھیلتے ہوئے اس کوکھنڈرات بنانے پراپنی پوری توجہ مرکوز رکھی اورگاہے بگاہے لبنان کے ساتھ اپنی سرحدوں پر حزب اللہ کوصرف اپنی موجودگی کااحساس دلانے کے سواکوئی جارحیت نہیں کی کیونکہ وہ حزب اللہ کے ساتھ گزشتہ جنگ میں بری طرح شکست کھاکراپنے بھرپور اقدامات کی تیاری میں مصروف رہا اورحزب اللہ کو کمزور کرنے کے لئے اس نے لبنان میں داخلی انتشارکو ہوا دیتے ہوئے وہاں پرمسیحی اورحزب اللہ کے درمیان معاہدے کو سبوتاژکرنے کے لئے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے جہاں پورا نیٹ ورک بچھایاوہاں حزب اللہ کے مضبوط وائرلیس سسٹم میں استعمال ہونے والی واکی ٹاکی سسٹم کے سینکڑوں سیٹ میں خصوصی چپ لگاکران کی تمام منصوبہ بندیوں سے پیشگی آگاہ رہااورجب حزب اللہ نے اسرائیل پر جوابی راکٹ برسائے اور ڈرون حملوں کاآغازکیا تواسرائیل نے اپنے ظالمانہ منصوبہ کے تحت ان تمام واکی ٹاکی سسٹم میں اسی چپ کوموت کے سندیسے میں تبدیل کرکے انسانیت سوزآپریشن کرڈالااوراس کے ساتھ ہی لبنان پراپنے فضائی حملوں کاسلسلہ تیزکردیاجس کے جواب میں بالآخر لبنانی حکومت نے اسرائیل کی مرضی کے مطابق نہ صرف معاہدہ کرکے حزب اللہ کے ٹھکانوں پرکمزورلبنانی فوج تعینات کردی بلکہ اسی دوران اسرائیل نے حزب اللہ کے رہنمائوں کوشہیدکرکے لبنان سے ملحق سرحدکوبھی محفوظ کرلیا۔اس کے ساتھ ساتھ شام پربھی حلے جاری رہے اوربشارالاسدکے فرارکے فوری بعدگولان کے بفرزون پرمکمل قبضہ کرکے اب دمشق سے صرف 26 میل دورتک پہنچ چکاہے۔
خطے کے سیاسی اوردفاعی تجزیہ نگاروں کوخدشہ ہے کہ شام عراق جیسی کسی صورتحال کی طرف ہی جائے گااورجن ممالک میں فرقہ واریت اورنسلی تنوع ہے جیساکہ شام،عراق اوریمن،وہاں نیامستحکم حکومتی سسٹم بنانے میں بہت مشکلات پیش آتی ہیں اس لئے یہ واضح نظرآرہاہے کہ خطے میں بین الاقوامی مداخلت سے شام کی داخلی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے تاہم اس وقت یہ اندازہ لگانابھی بڑامشکل ہے کہ شام میں یاپھراس خطے میں آئندہ کیاہوگا؟
تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہ احمد الشرع نہیں جو دمشق میں داخل ہوگئے بلکہ یہ جنوب سے ایک اور فورس تھی۔اس کے باوجود یہ کہاجاسکتاہے کہ احمدالشرع نے ادلب میں جوکچھ شروع کیا،اس کے ذریعے متحرک آغاز کیا۔اس لیے یہ غیرمعمولی ہوگاکہ ہیت تحریرالشام اکیلے اس ملک پرحکمرانی کرنے کے قابل ہوں۔شام ایساملک ہے جواپنے تنوع کے حوالے سے نمایاں ہے،پھر چاہے وہ سیاسی قوتوں یافرقہ ورانہ لحاظ سے ہو،مذہبی لحاظ سے یا پھر نسلی اعتبارسے ہو۔ہوسکتاہے کہ ہم مارچ تک نئی حکومت کاقیام دیکھیں اورشایدآئینی اعلان اوراس کے بعد انتخابات لیکن ہم ایک پیچیدہ اورحساس عبوری مرحلے کی ابتدامیں ہیں،جوپراسرایت سے بھراہواہے اوراس کے نتائج کیاہوں گے،درست طورپراس کی کوئی بھی پیشگوئی نہیں کرسکتا۔ان پیچیدگیوں کے باوجودخطے سے واقف تجزیہ کارکوپورایقین ہے کہ شام افغانستان جیسے ماڈل کی طرف نہیں جائے گا۔
ٓٓآخرمیں پاکستان پرمیزائلوں کے سلسلے میں امریکی پابندیوں کاسلسلہ ایک بارپھرعالمی توجہ حاصل کررہاہے اورجوبائیڈن حکومت نے اپنی شکست کے بعد آنے والی ٹرمپ حکومت کے راستے میں کانٹے بچھاتے ہوئے پاکستان پرجوپابندیاں عائد کی ہیں یقینا ٹرمپ کے لئے فوری طورپران پابندیوں کوہٹانے کے لئے وقت درکارہوگااوران پابندیوں کی آڑمیں پاکستان میں جاری سیاسی انارکی کابھرپورفائدہ اٹھانے کے لئے ٹرائیکا (امریکا، اسرائیل اورانڈیا)کی پوری کوشش ہوگی کہ پاکستان میں جاری سیاسی درجہ حرارت کوباقاعدہ ایک ایسے محاذمیں تبدیل کیاجائے جس کے لئے افغانستان سے باقاعدہ مختلف پراکسیزپاکستان میں دہشت گردی میں مصروف ہیں اورابھی حال ہی میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں سے مجبورہوکرپاکستان کوان دہشت گردوں کے اندرونی ٹھکانوں پرفضائی حملہ کرناپڑاتوفوری طور پر افغان حکومت نے اس پر بے جا احتجاج کرکے جوابی حملے کی دھمکی دے ڈالی جبکہ پاکستان اس سے قبل ان دہشت گردوں کے بارے میں درجنوں مرتبہ شواہدکے ساتھ افغان حکومت کو کارروائی کے لئے کہہ چکی ہے لیکن شنوائی نہ ہونے کی صورت میںطالبان حکومت کایہ رویہ صریحاً پاک دشمنی کے سوا کیا ہو سکتاہے۔یہی دشمن کی مرضی ہے کہ دو مسلمان ممالک کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا کرکے ان کوتباہ کیاجائے جیساان دشمنوں نے ایران عراق جنگ کے درمیان کیا تھا اورآج ان دونوں ممالک کی صورتحال آپ کے سامنے ہے۔یہاں دونوں ممالک کو ہوش مندی کے ساتھ ان معاملات پرقابوپانے کی اشد ضرورت ہے اورطالبان کوبھی اس بات کاخیال رکھناہوگا کہ رب کریم نے ’’ احسان کابدلہ ماسوائے احسان کے اور کچھ نہیںــ‘‘کاحکم دے کر آپس میں محبت کاسبق دیاہے۔