دنیا بھر کے کروڑوں اربوں آزاد انسانوں نے نئے سال کا جشن منایا مگر غزہ اب بھی جنگ، بمباری، بھوک اور مصائب کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے ۔۔دنیا نے امیدوں اور خوابوں کے ساتھ 2025ء کا آغاز کیا، لیکن غزہ کی زمین پر صورتحال جوں کی توں ہے۔ نہتے فلسطینی شہری اب بھی اسرائیلی جنگی حملوں، گولہ باری، اور بدترین انسانی بحران کا شکار ہیں۔بمباری سے معصوم جانوں کا ضیاع، خوراک اور پانی کی شدید قلت اور مسلسل جنگی ماحول نے غزہ کے باسیوں کی زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے اور عالمی برادری بھی ان مظالم کے خاتمے میں ناکام نظر آتی ہیں، جبکہ فلسطینی عوام اپنی بقاء کے لیے مزاحمت کر رہے ہیں۔کیا 2025ء غزہ کے لئے امن اور آزادی کا سال بن سکے گا؟ یہ خاکسار اسی سوچ میں ڈوبا اپنے پیر و مرشد حضرت اقدس حفظہ اللہ کی خانقاہ میں حاضر ہوا۔ پیر و مرشد شیخ طریقت حفظہ اللہ اپنے مخصوص درد بھرے انداز میں فرما رہے تھے ۔میرے مسلمان بھائیو!ہم کرسچن نہیں، الحمدللہ مسلمان ہیں محمدی ہیں تو پھر ہمارا صلیبی سال سے کیا تعلق؟ یہ اتفاق ہے اور آزمائش ہے کہ آج کل دنیا پر کافروں ظالموں کی حکومت ہے وہی کافر اور ظالم جو ہر روز غزہ میں ہمارے معصوم بچوں کو مار رہے ہیں ہماری بیٹیوں کو شہید کر رہے ہیں آگے آگے اسرائیل ہے اور اس کے پیچھے امریکہ ،برطانیہ، فرانس وغیرہ ۔یہ سارے خبیث دجال قاتل اسرائیل کو اسلحہ اور مدد دے رہے ہیں اور اقوام متحدہ صرف اوپر اوپر سے شور مچا رہی ہے۔ ہمارے دل غم اور غصے سے پھٹ رہے ہیں ، کبھی افغانستان کبھی عراق اور کبھی شام ۔ان درندوں کی پیاس مسلمانوں کے خون سے بجھ ہی نہیں رہی۔ پھر بھی ہم ان کے سال منائیں؟ ان کی مصنوعات خریدیں؟ اور ان کو مہذب مانیں تو ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔
اسلام پوری دنیا پر پھر غالب ہوگا، انشااللہ تب خون کے ایک ایک قطرے کا۔ مسلمانوں کی گرنے والی ایک ایک لاش کا حساب لیا جائے گا ۔ انشااللہ ۔ نجانے آج کی جدید پڑھی لکھی دنیا کے دماغ کو کس سنڈی یا دیمک نے چاٹ لیا ہے کہ یہ زندگی کے ایک سال کم ہونے پر جشن مناتے ہیں اپنا محاسبہ نہیں کرتے، حالانکہ عقل اور منطق کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہر سال کے مکمل ہونے پر ہم اپنا یکسوئی کے ساتھ محاسبہ کریں۔ بقول شاعر:
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی
نئے سال کی آغاز پر ہر سال علماء اور مفتیان کرام قوم کی دینی شرعی رہنمائی کے لئے تحریر اور تقریر کے ذریعے واضح ہدایات دیتے ہیں۔ اس حوالے سے میرے سامنے دارالعلوم کراچی کا ایک فتویٰ موجود ہے جس کے چند اہم نکات یہ ہیں ۔نئے سال کی آمد پر خوشی منانے اور مبارکباد کے پیغامات وغیرہ کا تبادلہ کرنے کی شریعت میں کوئی اصل نہیں خصوصاً شمسی سال کی ابتدا پر خوشی کا اظہار اہل مغرب اور غیر مسلموں کا طریقہ ہے اس لئے کسی بھی قسم کا ایسا عمل مثلا ًخوشی منانا ،مبارکباد کے کارڈ بھیجنا ،دعوت وغیرہ کا اہتمام کرنا اشتہارات شائع کرنا والدین کا اس موقع پر اولاد کو رقم اور خوشی کا تعاون فراہم کرنا درست نہیں جس سے ان کے طور طریقوں کی ترویج و تائید ہوتی ہو ۔نئے عیسوی سال کے موقع پر فائرنگ کرنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ یہ بے جا اسراف ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں خوف اور وحشت پھیلانے کا سبب بھی ہے اور یہ تمام امور شرعاً ممنوع ہیں نیز اس سے ایذا رسانی اور بعض اوقات انسانی جان کا نقصان بھی ہو جاتا ہے جو کہ سخت حرام ہے لہٰذا اس سے اجتناب کرنا لازم اور ضروری ہے ۔ اگر کوئی شخص کسی کی ہوائی فائرنگ کی زد میں آ کر اتفاقاً جان بحق ہو جائے تو وہ اخروی اعتبار سے شہید ہوگا اور فائرنگ کرنے والے پر دیت اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے ۔کسی مسلمان کا اپنی دکان مکان یا ہوٹل وغیرہ کسی مسلمان یا غیر مسلم کو شراب فروخت کرنے کے لئے یا ایسی تقریب کے لیے جس میں شراب کی محفلیں منعقد ہوں گی کرائے پر دینا گناہ پر مدد کرنا ہے جس کی شرعا ًکوئی اجازت نہیں لہٰذا یہ صورت ناجائز ہے اس سے تمام لوگوں کو اجتناب کرنا لازم ہے ۔
کسی مسلمان کے لئے ایسے اداروں اور ہوٹلوں میں کام کرنا یا ملازمت اختیار کرنا جہاں شراب بیچی یا پیش کی جاتی ہو اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ وہ کسی کو شراب پلانے یا خنزیر یا دوسرے محرمات فروخت کرنے یا ان کے سامنے پیش کرنے کا عمل نہ کرے اس لئے کہ شراب فروخت کرنا یا پلانا یا اس کو دوسرے کے سامنے پیش کرنا حرام ہے اور اس کام کی اجرت بھی حلال نہیں ہے ۔ موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کے سلنسر بلاوجہ نکال کر ایک شور برپا کرنا جو لوگوں کے لئے تکلیف کا سبب بنتا ہے گناہ اور ناجائز ہے اس سے بچنا لازم ہے لہٰذا اگر مکینک حضرات یہ کام مذکورہ مقصد کے لئے نہ کرتے ہوں لیکن ان کو معلوم ہو کہ شور کرنے کے لئے گاڑیوں کے سلنسر نکالے جاتے ہیں تو ان کا ایسی گاڑیوں سے سلنسر نکالنے کا کام کرنا مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولی ہوگا ۔حتیٰ الامکان مسلمانوں بالخصوص مسلم حکمرانوں اور ارباب اختیار کو غیرمسلموں کی ہر اس تقریب میں شرکت کرنے سے بچنا چاہیے جس سے ان کافروں کے طور طریقوں کی ترویج و تائید ہوتی ہو، لہٰذا شمسی سال کی ابتدا پر خوشی کا اظہار بھی اہل مغرب کا طریقہ ہے اس لیے ایسی تقریب میں شرکت کرنے سے احتراز کرنا چاہیے ۔
میڈیا کی خبروں کے مطابق کراچی کے گورنر ہائوس میں 40منٹ تک چراغاں اور آتش بازی کی گئی ۔ ڈوب مرنے کا مقام یہ ہے کہ گورنر کامران خان ٹیسوری نے اس پر فخریہ انداز سے یہ بیان جاری کیا کہ ہم نے آتش بازی کا ایک منفرد ریکارڈ قائم کر دیا ہے اور یہ تحفہ ہے کراچی والوں کے لیے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ مسلمان حکمران جن کا کام تھا اس طرح کی شیطانی رسموں سے عوام کو روکنا وہ خود ہی ان شیطانی کاموں کو کر کے اگر اس پر فخر بھی کریں گے تو اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ۔مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے …اور…
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
آخر میں ایک درد بھری نصیحت پر مشتمل خوبصورت شعر پیش خدمت ہے ۔
اک اور اینٹ گر گئی دیوار حیات سے
نادان کہہ رہے ہیں نیا سال مبارک