Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

دیدہ بینا قوم

نبی آخرالزمان ﷺکی حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’اچھی بات جہاں سے ملے حاصل کر لیں کہ یہ مومن کی گمشدہ میراث ہوتی ہے‘‘ علم عقیدے ،نظریئے یا مذہب کا پابند نہیں ہوتا ،سچ بات کوئی بھی کہہ دے اس کے مان لینے اور اس پر عمل کرنے میں خیر ہوتی ہے اور خیر کو ٹھکرانے والے بد نصیب ہوتے ہیں اور جہالت کے اندھیروں ہی میں بھٹکتے رہ جاتے ہیں جبکہ کامیاب و کامران لوگ اپنے لئے بھی راستے بناتے ہیں اور دوسروں کی راہیں بھی ہموار کرتے ہیں ۔وجے لکشمی پنڈت انڈیا کی معروف سیاستدان اور مصنفہ تھیں جو انڈیا کی کامیاب سفارتکار بھی رہیں ۔وہ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی ہمشیرہ تھیں۔انہوں نے اپنی پوری زندگی علم و ادب ،سیاست اور قومی خدمات میں میں خرچ کی یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف میں لکھا ہوا ملتا ہے ۔یوں تو انہوں نے بہت سارے موضوعات پر بہت کچھ لکھا مگر ان کا ایک مضمون ایسا ہے جس میں زندہ قوم بننے کے ڈھنگ بتائے گئے ہیں۔اپنے مضمون ’’دیدہ بینا قوم‘‘ میں انہوں نے اقوام کی ترقی اور تنزل یا زوال کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے ۔ انہوں نے تاریخ ہی سے نہیں بلکہ اپنے تجربات کی روشنی میں اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کا راز اس کی بصیرت اور دور اندیشی پر ہوتا ہے ۔وہ کہتی ہیں ’’جن قوموں میں بصیرت اور شعور کی کمی ہوتی ہے وہ مشکلات اور ناکامیوں کا شکارہوجاتی ہیں ۔تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ صرف وسائل اور طاقت کے بل بوتے پر کوئی قوم کامیاب نہیں ہوسکتی۔بلکہ ان اقوام نے ترقی کی جو مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں اور اپنے مسائل کو دانشمندی سے حل کرتی تھیں ۔‘‘
اپنے مذکورہ مضمون میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’’تعلیم علم اور شعور کے بغیر کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی،جو قوم اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتی اور اصلاح کی کوشش نہیں کرتی وہ زوال پذیر ہوجاتی ہے ۔‘‘ وجے لکشمی پنڈت نے مثالوں سے واضح کیا ہے کہ ’’وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو وقت کی قدر کرتی ہیں،درست فیصلے کرتی ہیں اور آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہتی ہیں ۔ان کے مضمون ’’دیدہ بینا قوم ‘‘ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ’’ایک قوم کی بقاء اور ترقی کا راز اس کے افراد کی بصیرت،شعور اوراور عمل میں پوشیدہ ہے۔‘‘
مضمون اقوام عالم کے لئے ایک سبق کی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو پہچانیں ،تعلیم کو فروغ دیں اور دانش مندی سے فیصلے کریں تاکہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔یہ مضمون پر کر یوں لگتا ہے کہ مصنفہ نے اپنے موضوع کا جوہراسلامی تعلیمات سے اخذ کیا ہے انہیں وہ ساری باتیں جو ہمارا مذہب ،ہمارا دین اسلام ہمیں سیکھنے اور عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے وہی ساری باتیں وجے پنڈت نے کی ہیں ۔ہمارے روشن دن تب ہی تھے جب ہم اپنے عقیدے کے اعتبار سے کمزوریوں کا شکار ہونے کی بجائے راسخ العقیدہ تھے ،شرک و بدعات سے مصفہ و منزہ زندگی بسر کرتے تھے تو آدھی سے زیادہ دنیا پر ہمارا سکہ چلتا تھا ،ہمارے خلیفہ کے احکامات کی تابعداری ہوتی تھی ہمیں راہبر اور رہنما تھے اور جب ہم اپنے ماضی سے جدا ہوگئے تو ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بن گئی۔ہمیں جو بھی حکمران ملے اپنی منفعت کے بھوکے ، پیاسے ملے ۔ہم نے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر جو آزاد خطہ زمین حاصل کیا وہ بھی ہمارے لئے بندی خانے کا روپ دھار گیا ہے۔
جمہوری اقدار و روایات تہہ وبالا ہوکر رہ گئی ہیں ، اپنے بنائے ہوئے آئین کے ساتھ وہ کھلواڑ کیا گیا کہ الامان الحفیظ ۔پوری قوم کا ایک ایک پل عذاب جاں بنادیا گیا ہے ۔غربت و افلاس کا یہ عالم ہے کہ متوسط طبقہ اب ناپید ہوا۔ بھرے گھروں کو اور بھر دیا گیا ہے لٹیروں کو اور مضبوط و مستحکم کردیا گیا ہے۔حکمرانوں نے ایک ہی راگ الاپنا شروع کیا ہوا ہے کہ مہنگائی ختم ہو گئی ہے اور مہنگائی ہے کہ شب و روز فزوں تر ہورہی ہے حکمران تو اتنا بھی کر دینے کے قابل نہیں کہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام مرتب کر پائیں ،ایسا کریں تو ان کے اپنے ہی پہلے گرفت میں آئیں ۔ہم دیدہ بینا قوم نہیں ہیں کہ ہم قوم کی بجائے ایک ریوڑ ہیں جو حکمرانوں کی مرضی سے ہانکا جا رہا ہے ۔کاش ! ہم بحیثیت قوم دیدہ بینا رکھتے ہوتے ،پھرجانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں