ڈونلڈ ٹرمپ 20جنوری 2025ء کو امریکا کے47 ویں صدرکاحلف اٹھانے جارہے ہیں۔ ٹرمپ کی جیت پربالخصوص پاکستان اور بنگلہ دیش میں اس خوش فہمی کوبڑے زورشور سے پھیلایاجارہاہے کہ ٹرمپ کاان ممالک پردبائواس قدربڑھ جائے گاجس کے نتیجے میں ان کے رہنماؤں کونہ صرف رہاکردیاجائے گابلکہ اقتدارکی مسندپربھی دوبارہ لابٹھایاجائے گاگویاٹرمپ ان دونوں ممالک میں اپنی مرضی کے وائسرائے مقررکریں گے گویااب یہ دونوں ممالک امریکاکی نوآبادیاں بن چکی ہیں۔تاہم یہ بھی سچ ہے کہ ٹرمپ کے دوبارہ امریکی صدربننے سے کچھ ممالک میں بے چینی بڑھی جبکہ کچھ ممالک خوش بھی دکھائی دے رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی کے چند رہنماؤں کاخیال ہے کہ ٹرمپ اپنے ’’اچھے دوست‘‘ عمران کورہائی دلوادیں گے اورعمران کی نوراکشتی کے نعرے جوعوامی اجتماعات میں ’’ہم کسی کے غلام نہیں، اورابسولیوٹلی ناٹ‘‘کہہ کرللکارنا، امریکایکسر بھول جائے گا۔
ایساہی گمان اسی خطے کے ایک اورملک بنگلہ دیش میں بھی جاری ہے کہ ٹرمپ کی واپسی سے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اپنا کھویاہواسیاسی میدان دوبارہ حاصل کرلیں گی۔واضح رہے کہ رواں برس اگست کے مہینے میں شیخ حسینہ کوملک میں طلبا تحریک کے نتیجے میں فرارہوکراپنے آقامودی کی گودمیں پناہ لے چکی ہیں اوراب وہاں عبوری حکومت قائم ہوگئی ہے اور نوبل انعام یافتہ ماہراقتصادیات محمد یونس کواس حکومت کاچیف ایڈوائزرمقررکیاگیاہے۔
ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ کیاواقعی ٹرمپ کی ترجیحات میں یہ خوش فہمیاں کہیں موجود بھی ہیں یاحسینہ واجد اورعمران اپنی جماعت کے ووٹروں کے درمیان اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت اورکرپشن کوچھپانے کے لئے ایسے بیانات جاری کررہے ہیں؟امریکامیں اقتدارکی تبدیلی کاپاکستان اوربنگلہ دیش کی سیاست پرکیااثرپڑے گا؟ کیا پاکستان اوربنگلہ دیش کوٹرمپ کے دورمیں وہی حمایت مل سکتی ہے جوپہلے مل رہی تھی؟
ٹرمپ کی کامیابی پرایکس اکاؤنٹ پرشیخ حسینہ نے ٹرمپ کے ساتھ تصویرشیئر کرتے ہوئے امریکاکے 47ویں صدرمنتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے لکھاکہ ’’ٹرمپ کی زبردست انتخابی جیت ان کی قیادت اورامریکی عوام کے ان پراعتمادکاثبوت ہے۔امیدہے کہ ٹرمپ کے دوسرے دورِحکومت میں بنگلہ دیش اورامریکاکے درمیان دوستانہ اوردوطرفہ تعلقات مزیدمضبوط ہوں گے‘‘۔دونوں ممالک کے دوطرفہ اورکثیر الجہتی مفادات کوآگے بڑھانے کے لئے دوبارہ مل کرکام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔اس کے ساتھ انہوں نے نومنتخب صدر اوران کے اہل خانہ کی اچھی صحت اوردرازی عمرکی بھی دعاکی۔
2016ء میں ٹرمپ نے امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوارہیلری کلنٹن کوشکست دی تھی۔محمد یونس نے اس وقت اس متعلق ردعمل دیتے ہوئے کہاتھاکہ ٹرمپ کی امریکی صدارتی انتخاب میں جیت سورج گرہن اورتاریک دنوں کی طرح ہے۔2016 ء کے انتخابات غلط طرزکی سیاست کاشکارہوگئے ہیں۔ ٹرمپ کومشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاتھاکہ انہیں دیواروں کی بجائے پل بنانے اورزیادہ آزادخیال انداز اپنانے کی ضرورت ہے۔اس بیان کے بعدکئی تجزیہ کاروں نے خیال ظاہرکیاکہ محمد یونس امریکامیں ڈیمو کریٹس کے قریب ہیں۔جب بنگلہ دیش میں اقتدارکی تبدیلی ہوئی اورمحمدیونس کوعبوری حکومت کاچیف ایڈوائزر بنایاگیا،اس وقت وہ ڈیموکریٹس،بائیڈن انتظامیہ اور ہیلری کلنٹن کے ساتھ مل کرکام کررہے تھے۔
اس نئے کردارمیں آنے کے بعدیونس کے دورہِ امریکاکابھی بہت چرچاہوا۔25 ستمبرکوانہوں نے ’’کلنٹن گلوبل انیشیٹو‘‘پروگرام میں شرکت کی تھی۔اس پروگرام میں سابق امریکی صدربل کلنٹن بھی موجودتھے۔جب سے امریکامیں اقتدارکی تبدیلی آئی اورڈیمو کریٹس کی بجائے رپبلکن کواقتدارملنے جارہاہے توایسی صورتحال میں سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ کیاٹرمپ ان پالیسیوں کوجاری رکھیں گے جوبائیڈن انتظامیہ کے دورمیں رائج تھیں یاوہ ان میں کچھ تبدیلیاں کریں گے؟سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق پہلے امریکاانڈیا کے نقطہ نظرکوذہن میں رکھتے ہوئے جنوبی ایشیاکوایک اکائی کے طورپردیکھتاتھالیکن بائیڈن انتظامیہ نے بنگلہ دیش کوایک آزاداکائی کے طورپردیکھا۔اس کااثریہ ہواکہ بنگلہ دیش میں حکومت بدل گئی۔بنگلہ دیش میں انسانی حقوق اورانتخابات کے حوالے سے پہلے بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں لیکن بائیڈن کے دورمیں ان پرزیادہ سختی تھی اورشیخ حسینہ کے ساتھ بھی ان کے اچھے تعلقات نہیں تھے۔
بنگلہ دیش کے بنگالی زبان کے ایک روزنامہ ’’پرتھم آلو‘‘کے پولیٹیکل ایڈیٹرکدل کلول کے مطابق ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ حسینہ اورٹرمپ کے دورمیں امریکابنگلہ دیش کے تعلقات کشیدہ نہیں تھے لیکن اس کے باوجوداس وقت بنگلہ دیش میں انتخابی عمل پربہت سے لوگوں نے سوالات اٹھائے تھے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آزادانہ اورمنصفانہ انتخابات کرانے کی اپیل کے علاوہ سرکاری طورپرکچھ نہیں کہاگیا۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت اوربات چیت جاری رہی۔ہمیں یہ بھی یادرکھناچاہیے کہ حال ہی میں محمدیونس امریکاگئے تھے اورانہوں نے جوبائیڈن سے ملاقات کی تھی۔اس تمام پیشرفت کودیکھنے کے بعدہرکوئی تجسس میں ہے کہ آگے کیاہونے والاہے‘‘۔
این ٹی وی بنگلہ دیش کے برشون کبیرکاکہناہے کہ ٹرمپ برصغیرکے بارے میں ایک مختلف نقطہ نظررکھتے ہیں کیونکہ وہ مودی کے بہت قریب ہیں۔ جب یہ معلوم ہواکہ ٹرمپ اقتدار میں واپس آرہے ہیں توبنگلہ دیش کے لوگوں میں اس بارے میں ملے جلے جذبات تھے لیکن محمد یونس کی قیادت میں اب بھی امریکاکے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔بنگلہ دیش میں کوئی تشویشناک صورتحال نہیں تاہم اگلے چندمہینوں کاانتظارکرناہوگاکہ حالات کیسے آگے بڑھتے ہیں۔امید یہی ہے کہ ٹرمپ کے صدربننے سے بنگلہ دیش کے تعلقات کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچے گاتاہم انڈیاکے ساتھ تعلقات میں کئی اہم تبدیلیوں کاامکان ہے‘‘۔
ادھرکل تک بنگلہ دیش کواپنی کالونی سمجھنے والے انڈیاکوایک باضابطہ سفارتی خط بھیجاگیاہے کہ شیخ حسینہ کوبنگلہ دیشی حکومت کے حوالے کیاجائے۔بنگلہ دیش میں خارجہ امورکے مشیر توحیدحسین نے میڈیاکوبتایاکہ ’’بنگلہ دیش انہیں عدالتی عمل کے لئے واپس لانا چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش میں اگست کے عوامی احتجاج اور مظاہروں کے بعدوہاں کی عبوری حکومت نے ابتدائی تفتیش کے بعدمعزول وزیراعظم کے خلاف سینکڑوں طلبہ کی ہلاکت اوردوسرے معاملات میں کئی مقدمات درج کیے ہیں۔ انڈیاکی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کی حوالگی کے بارے میں باضابطہ سفارتی خط بھیجاہے لیکن وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیرجیسوال نے کہاکہ وہ اس مرحلے پراس سے زیادہ کچھ اورنہیں کہہ سکتے۔یادرہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ ملک میں اپنی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پراحتجاج اورپرتشددمظاہروں کے بعد پانچ اگست کوڈھاکہ سے ایک طیارے کے ذریعے دلی فرارہوگئی تھیں۔اس وقت سے وہ دلی میں مقیم ہیں۔ابتدائی طورپراس طرح کی خبریں آئی تھیں کہ وہ دلی سے برطانیہ چلی جائیں گی لیکن وہ کسی وجہ سے وہاں نہیں جاسکیں۔شیخ حسینہ اورعوامی لیگ کودلی کے بہت قریب سمجھاجاتاہے۔انڈیاسے ان کی قربت اوریہاں پناہ لینے سے بنگلہ دیش کے عوام میں انڈیاکے خلاف شدید ناراضگی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔
انڈیااوربنگلہ دیش کے درمیان مجرموں اور مطلوبہ افرادکی حوالگی کامعاہدہ ہے۔انڈیاکی حکومت یہ توقع کررہی تھی کہ کسی نہ کسی مرحلے پربنگلہ دیش کی عبوری حکومت شیخ حسینہ کی حوالگی کامطالبہ کرے گی۔اس بات کاامکان بہت کم ہے کہ انڈیاانہیں ڈھاکہ کے حوالے کرے گا۔بنگلہ دیش کوبھی علم ہے کہ انڈیاشیخ حسینہ کواس کے حوالے نہیں کرے گا۔اگرڈھاکہ نے اس سلسلے میں قانونی قدم بھی اٹھایاتواس عمل میں کئی برس لگ جائیں گے تاہم انڈیااوربنگلہ دیش کے درمیان خلیج بنگال سے کہیں زیادہ وسیع خلیج ضرورحائل ہوگئی ہے۔
محمدیونس کی قیادت میں ڈھاکہ میں عبوری حکومت کے قیام کے بعدانڈین میڈیامیں نئی حکومت کو ایک ریڈیکل اسلام پرست،انڈیا اورہندومخالف حکومت کے طورپرپیش کیاگیا ہے ۔یہاں میڈیامیں مسلسل ایسی خبریں دکھائی گئیں جن میں ملک کے اقلیتی ہندوطبقے اوران کے مندروں پرحملے کے مناظرتھے۔انڈیا کی وزارت خارجہ نے بھی گزشتہ مہینوں میں کئی باربنگلہ دیش کے اقلیتی ہندوں اوران کے مندروں پرہونے والے حملوں کے بارے میں تشویش ظاہرکی۔ابھی گزشتہ دنوں انڈیااوربنگلہ دیش کے درمیان ایک اور تنازع اس وقت اٹھتاہوانظرآیاتھاجب بنگلہ دیشی حکومت کے سربراہ محمدیونس کے مشیرمحفوظ عالم نے فیس بک پرایک پوسٹ شیئرکی تھی جس میں انڈیاکی تین ریاستوں تریپورہ، مغربی بنگال اور آسام کوبنگلہ دیش کاحصہ دکھایا گیا تھا۔ (جاری ہے)