امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری ایک جلیل القدر مورخ ‘مفسر، فقیہ اور محدث تھے ۔ان کا عظیم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے احادیث اور اقوال صحابہؓ کی روشنی میں ’’تفسیر بالماثور‘‘ مرتب فرمائی جو ایک علمی شہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔علاوہ ازیں ’’تفسیر الطبری‘‘ بھی ان کی منفرد کاوش ہے جس کا شمار قرآن کریم کی اولین تفاسیر میں ہوتا ہے ۔
امام طبری 839 میں ایران کے شہر ’’امل‘‘ میں پیدا ہوئے جو صوبہ طبرستان میں تھا۔وہ نابغہ روزگار تھے اور بچپن ہی سے ذہین و فطین اور مطالعے کے ذوق و شوق کے حامل تھے۔ابتدائی تعلیم اپنے شہر میں حاصل کرنے کے بعد علم کی پیاس بجھانے کے لئے ملکوں ملکوں سفر کیا ۔کوفہ،بغداد، شام ،بصرہ اور مصر کا سفر کیا اور وہاں کے معروف اساتذہ سے تاریخ ،فقہ،حدیث اور تفسیر کا علم سیکھا۔عام طور پر ان کی علمی خدمات کو تین حصوں پر تقسیم کیا جاتا ہے ۔
اول ۔ مفسر قرآن‘ دوم ۔ تاریخ دان ‘ سوئم ۔فقیہ اور محدث مفسر کے طور پر انہوں نے ’’تفسیر طبری‘‘ اور تفسیر’’بالماثور‘‘ تحریر فرمائی جس میں آیات کی وضاحت و صراحت کے لئے احادیث نبوی،اقوال صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے استفادہ کیا ۔
تاریخ کے حوالے سے ان کی کتاب ’’تاریخ الرسل والملوک‘‘ یاتاریخ طبری ہے جس کا شمار اسلامی تاریخ کی مستند کتب میں کیا جاتا ہے۔ اس تصنیف کی اہم بات یہ ہے کہ اس کا آغاز تخلیق کائنات سے ہوتا ہے اور مختلف زمانوں کے ذکرو اذکاراور حالات و واقعات کے بعد امام طبری کے دور پر اختتام ہوتا ہے ۔
امام طبری نے تاریخی روایات کا ذکر کرتے ہو ئے مبالغہ آرائی یا بد دیانتی سے کام نہیں لیا یہاں تک کہ صحیح یا ضعیف واقعات کو الگ الگ بیان کرنے کی سعی کی۔اسی طرح فقہ اورحدیث کے معاملے میں بھی اسی احتیاط کو مدنظر رکھا ۔ انہوں نے جس فقہی مذہب کی بنیاد رکھی وہ ’’مذہب طبری‘‘ کہلاتا ہے جو مرور زمانہ کے ساتھ معدوم ہوتا چلا گیا۔تاہم امام طبری کا تاریخ اور قرآن کی جامع تفسیر و تفہیم کا کام آج بھی مکمل اہلیت کا حامل ہے اور تاریخی اعتبار سے ان کا کام علمی روشنی فراہم کرتا ہے۔مورخین اسلام نے ان کے تاریخی کام سے بھر پور استفادہ کیا ہے۔
امام طبری نے اپنی پوری زندگی دین کے کام کے لئے مختص کی اور تمام عمر تحقیق کو حرز جاں بنائے رکھا۔ان کی کتب میں فقہی مسائل کے حل اور اصول حدیث کے مباحث شامل ہیں ۔
تاریخ الرسل والملوک اختلاف فقہا صریح السنہ اور جامع البیان عن تاویل القرآن ان کی اہم تصانیف گردانی جاتی ہیں۔
امام طبری اہل سنت کے جلیل القدر مفسر ، مورخ اور محدث ہیں تاہم اہل تشیع عمومی طور پر ان سے متعلق کچھ تحفظات رکھتے ہیں ۔بعض معتدل مزاج شیعہ عالم امام سے بعض مقام پر استفادہ کرتے ہیں لیکن کچھ حضرات تشیع امام کے موقف سے اختلاف رکھتے ہیں ،خاص طور پر تفسیری روایات کے حوالے سے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متعلق اقوال سے اہل تشیع کواختلاف ہے۔کیونکہ حضرات اہل تشیع تفسیری روایات میں اہلبیت کی احادیث اور اقوال کی ترجیحات کے کے معاملے میں اتفاق نہیں رکھتے۔
یہ امر طے شدہ ہے کہ امام طبری فقہی اور کلامی نقطہ نظر سے اہل سنت کے چار بڑے فقہی مسالک سے قرب رکھتے ہیں ۔اہل سنت ہوں یا اہل تشیع ہر دومسلک کے علماء امام طبری کی شخصیت اور ان کے علمی مقام و مرتبہ کے معترف ہیں اور ان کی کتب کو تاریخی اور تفسیری حوالوں کو بنیادی ماخذ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ اہل تشیع اہل بیت کے مقام اور فضائل کے حوالے سے بہر حال تحفظات رکھتے ہیں۔تاویلی اختلاف ہے جس کی گنجائش مختلف مکاتب فکر کے درمیان عام طور پر ہوا ہی کرتی ہے ۔
امام طبری نے923 ء میں وفات پائی مگر علم و دانش کا جو چراغ انہوں نے جلایا صدیاں بیت جانے کے باوجود آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہے۔