Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

’’خوش گمانی یابدگمانی‘‘

(گزشتہ سےپیوستہ)
انڈیامیں سٹریٹجک امورکے ماہربراہماچیلانی نے محفوظ عالم کی فیس بک پوسٹ کاسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ’’محمد یونس نے سابق امریکی صدر بِل کلنٹن کی موجودگی میں محفوظ عالم کاتعارف بطورشیخ حسینہ کی حکومت گرانے کے ماسٹرمائنڈ کے کروایا تھا۔ اب یہ اسلامی طالب علم رہنمااکھنڈبنگلہ دیش چاہتے ہیں جس میں یہ انڈِیاکے بھی کچھ حصے شامل کرناچاہتے ہیں۔ محفوظ عالم کومحمدیونس کی حکومت میں وزیرخا رجہ مقررکیاگیاہے۔
خارجہ امورکی تجزیہ کارنینیماباسوکہتی ہیں کہ ’’وہاں ہندوں پرحملے ہوئے ہیں لیکن یہ جانناضروری ہے کہ بیشترہندوعوامی لیگ کے حامی ہیں۔بیشترحملے دراصل عوامی لیگ کے حامی ہندوؤں پرہوئے ہیں جنہوں نے عوامی لگ کے دورِحکومت میں مظاہرین پرتشددمیں حصہ لیاتھا۔یہ حملے بڑے پیمانے پرمسلمانوں پربھی ہوئے ہیں،اس لیے ان کی نوعیت مذہبی نہیں سیاسی ہے لیکن یہاں جس طرح اسے غلط اندازمیں بڑھاچڑھاکرپیش کیا گیا اس سے یقینادونوں ممالک کے تعلقات پر اثر پڑا ہے۔ نینیما عبوری حکومت کے قیام کے بعد بنگلہ دیش کا دورہ کرچکی ہیں۔ان کاخیال ہے کہ وہاں کے ہندوملک کے بدلتے ہوئے نظام میں اپنے جمہوری حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔ایسانہیں ہے کہ اگربنگلہ دیش کے ہندوؤں کوموقع مل جائے تووہ سب انڈیاآجائیں گے۔انہیں اگرموقع ملے تووہ سب امریکااوریورپ کارخ کریں گے۔ انہیں انڈیاسے کوئی خاص رغبت نہیں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیاعبوری حکومت کے قیام کے بعددونوں ملکوں کے تعلقات بہت خراب ہوچکے ہیں؟توکیااب شیخ حسینہ کی حوالگی کے مطالبے سے یہ تعلقات اوربھی خراب ہوں گے؟تجزیہ کارنرو پماسبھر امنین کے مطابق اس کادونوں ملکوں کے تعلقات پرکوئی خاص اثرنہیں پڑے گا۔’انڈیاکے خارجہ سیکریٹری وکرم مشری نے حال میں ڈھاکہ کادورہ کیا ۔یہ ایک طرح سے دلی کایہ اعتراف تھاکہ شیخ حسینہ اب مستقبل قریب میں اقتدار میں نہیں آنے والی ہیں اوران کی جماعت عوامی لیگ کودوبارہ ایک فعال اور مقبول پارٹی بننے میں بہت وقت لگے گا۔اس لئے انڈیاکے سامنے یہی راستہ ہے کہ وہ عبوری حکومت کے ساتھ اپنے روابط بہتر کرے۔
ان کامزیدکہناہے کہ یہ صرف اس لیے ضروری نہیں ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک بڑی ہندواقلیت ہے بلکہ اس لئے بھی بنگلہ دیش سے اچھے تعلقات رکھنے ہوں گے کیونکہ اس سے ملک کی شمال مشرقی ریاستوں کی سیکورٹی جڑی ہوئی ہے۔چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا بھی سوال ہے۔خارجہ سیکرٹری کاڈھاکہ کادورہ اس سمت پہلابڑاقدم ہے۔انڈیامیں سرکاری سطح پریہ ڈس انفارمیشن بھی پھیلائی جارہی ہے کہ بنگلہ دیش میں اب جمہوریت کمزورپڑجائے گی اورسخت گیرمذہبی عناصراقتدارپر قابض ہو جائیں گے۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں روشن خیال ارکان کے ساتھ ساتھ ایسے بھی عناصرہیں جوسخت گیرمذہبی نظرئیے میں یقین رکھتے ہیں جبکہ انڈیا جو خودکودنیاکی سب سے بڑی جمہورہت کانعرہ لگاتے ہوئے ذرہ بھرندامت محسوس نہیں کرتاکہ وہ خود کشمیریوں، سکھوں کے علاوہ دیگراقلیتوں کے ساتھ کس قدرہولناک انسانیت سوزسلوک کرچکاہے بلکہ خودگجرات کے مودی قصاب کے دامن سے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کاخون ابھی تک ٹپک رہاہے اوروہ اپنے کئی انٹرویو میں اس پراپنے ہندوہونے پر شرم محسوس کرنے کی بجائے فخر کا اظہاربھی کرچکے ہیں ۔ وہاں پہلے سے ایک کوشش رہی ہے کہ تاریخ کوذراپیچھے کی سمت موڑدیاجائے لیکن بنگلہ دیش میں اس طرح کی کوششوں کی مزاحمت ہوتی رہی ہے۔
خارجی امورکی تجزیہ کارنینیماباسوکہتی ہیں کہ ’’شیخ حسینہ کے خلاف عوام کی سب سے بڑی شکایت تھی کہ وہ خودہی الیکشن لڑتی تھیں اورخودہی الکشن جیت جاتی تھیں۔دوسری جماعتوں کوانتخاب میں حصہ ہی نہیں لینے دیاجاتاتھا۔وہاں کے لئے سب سے ضروری چیزہے کہ وہاں جلد انتخابات ہوں اوراس میں سب جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت ہوکیونکہ جمہوریت میں سب کی شراکت ضروری ہے۔عبوری حکومت کئی باریہ کہہ چکی ہے کہ بنگلہ دیش ایک مسلم اکثریتی ملک ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسری مذہبی اقلیتوں کوبرابرکے حقوق نہیں حاصل ہوں گے‘‘۔
واشنگٹن میں واقع ولسن سنٹرکے ساتھ ایشیاانسٹی ٹیوٹ کے سربراہ مائیکل کوگل مین نے ایک مضمون میں بنگلہ دیش کے حالات پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ’’یہ یادرکھنے کی بات ہے کہ ڈھاکہ میں کوئی منتخب حکومت نہیں ہے۔اس کے باوجودجمہوریت کوبحال کرنے کاعزم لئے ہوئے نئے طاقتورسیاسی گروپ کے ابھرنے سے بنگلہ دیش کی جمہوریت کے لئے امیدیں برقرارہیں۔ان میں وہ احتجاجی طلبہ رہنما بھی شامل ہیں جنہوں نے شیخ حسینہ کوملک سے باہرنکالا۔ان میں سے بعض رہنماعبوری حکومت میں شامل ہیں۔اس عبوری حکومت میں حقوق انسانی کے معتبر علمبردار اوربہت سے ایسے عناصرشامل ہیں جو جمہوری اصلاحات پر زوردیتے ہیں‘‘۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمدیونس کررہے ہیں۔ان کاشمارملک کے سرکردہ جمہوریت پسندوں میں کیاجاتاہے۔بنگلہ دیش کے عوام بالخصوص نوجوان طبقے میں انہیں بہت احترام کی نظرسے دیکھاجاتاہے۔ماضی میں اس طرح کی کئی مثالیں ملتی ہیں جب مزاحمت کاروں نے اپنے ملک کی جمہوریت کومستحکم کیا۔اس سلسلے میں چیکو سلواکیہ کے وکلاوہیویل اورجنوبی کوریاکے کم ڈائی جونگ کانام لیاجاسکتاہے۔ان ملکوں میں مزاحمتی جماعتوں نے اقتدارپرقبضہ حاصل کیا اوراس کے بعد وہاں جمہوریت کومستحکم کیا ۔ اس امکان کو خارج نہیں کیاجاسکتاکہ یونس اوران کے ساتھ آنے والے سٹوڈنٹ لیڈربنگلہ دیش کے خاندانی اور غیرجہوریت پسندسیاسی رہنماں کی سیاست کے خاتمے کے لئے خوداپنی سیاسی جماعت بنالیں۔
ادھربرطانوی وزیرِٹیولپ صدیق کانام بنگلہ دیش میں جاری کرپشن کی تحقیقات کے حوالے سے سامنے آیاہے اورالزام لگایاگیاہے کہ بنگلہ دیش میں ان کاخاندان مبینہ طورپرتین اعشاریہ نوارب پانڈکی خردبردمیں ملوث ہے۔ 42سالہ ٹیولپ صدیق برطانوی حکومت میں انسدادِ بدعنوانی کی وزیرہیں اورشیخ حسینہ کی بھانجی ہیں۔ان پرالزام ہے کہ انہوں نے2013 ء میں بنگلہ دیش اورروس کے درمیان ایک معاہدہ کروایاجس کے باعث بنگلہ دیش میں نیوکلیئرپاورپلانٹ کی کل قیمت میں اضافہ ہوا۔بنگلہ دیش کی نئی حکومت حسینہ واجد اوران کے خاندان کے کرپشن میں ملوث ہونے کی تحقیقات کررہی ہے اورٹیولپ صدیق کانام بھی اسی سلسلے میں سامنے آیاہے جبکہ موصوفہ نے ان الزام کومکمل سیاسی قراردیتے ہوئے ان کی آنٹی شیخ حسینہ کونقصان پہنچانابتایاہے۔
کنزرویٹوپارٹی کے شیڈووزیرِداخلہ میٹ وِکر کا اس حوالے سے کہناتھاکہ’’لیبرپارٹی کی انسداد بدعنوانی کی وزیرخودایک کرپشن کیس میں ملوث ہیں،یہ کیئر سٹارمر کے فیصلوں پرلگنے والانیاداغ ہے۔وقت آ گیا ہے کہ ٹیولپ صدیق سچ بولیں۔برطانوی عوام ایک ایسی حکومت کے مستحق ہیں جس کی ترجیحات میں عوامی مسائل شامل ہوں نہ کہ ایسی حکومت جس کی توجہ ایک اورکرپشن سکینڈل پرمرکوزہو‘‘۔بنگلہ دیش میں اے سی سی اس وقت شیخ حسینہ کی بہن (یولپ صدیق)سمیت ان کے خاندا ن اورسابق حکومت کے متعدداراکین کے خلاف تحقیقات کررہاہے۔بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرمنل ٹربیونل(آئی سی ٹی)نے بھی ’’انسانیت کے خلاف جرائم‘‘کے الزامات میں شیخ حسینہ اوردیگر45افرادکے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کررکھے ہیں۔
حیرت انگیزطورپرشیخ حسینہ اورعمران خان کے سیاسی مستقبل میں مماثلت نظرآرہی ہے۔دونوں رہنماؤ ں کے چاہنے والوں کو ٹرمپ سے نہ صرف اپنے رہنماؤں کی رہائی کی بلکہ دوبارہ اقتدارمیں آنے کی توقعات ہیں۔کرپشن مقدمات کی بھی ایک لمبی فہرست ہے جس کاان کوسامناہے۔سوال یہ ہے کیاان کی ٹرمپ سے خوش گمانیاں بارآورثابت ہوسکتی ہیں جبکہ امریکا کا مانناہے کہ عالمی سیاست میں’’فری لنچ‘‘کی گنجائش نہیں ہوتی۔کیاچین کے خلاف بنائے گئے اتحاد’’کواڈ‘‘میں آلہ کاربننے کی قیمت کے طورپرانہیں استعمال کیاجاسکتا ہے؟دیکھیں اب’’خوش گمانیوں‘‘کامقابلہ بدگمانیوں میں کب بدلتاہے کیونکہ امریکاکی تاریخ ہے کہ وہ اپنے مقاصدکی تکمیل کے بعد اپنے دوستوں کی قربانی دیتے ہوئے ایک لمحہ تاخیرنہیں کرتاکیونکہ پاکستان سے زیادہ کسی کو اتناتلخ تجربہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں