فیصلہ سازی اک نازک اور پیچیدہ عمل ہے ۔ فیصلے مشکل اورقومی نوعیت کے ہوں تو کافی ریاضت اور مشاورت درکار ہوتی ہے۔ ملکی سالمیت ، معیشت اور جمہوریت سے جڑے فیصلے بڑی احتیاط اور احساس ذمہ داری کے متقاضی ہوتے ہیں ۔ بروقت اور درست فیصلے دانش و حکمت کی علامت ہوتے ہیں ۔جذبات اور جلد بازی کے فیصلے منفی نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔فیصلے ذاتی ہوں یا قومی انکےاثرات کرنے والےکی بصیرت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ کچھ فیصلے ملکی تاریخ اور جغرافیہ تک بدل دیتے ہیں۔ ہماری قومی تاریخ کا دامن بھی چند ایسے فیصلوں سے داغدار ہےجن سے ملکی جغرافیہ، معیشت ، شہرت اور جمہوری اقتدار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ ملک دولخت ہوا۔ بصد افسوس اس کے باوجود ذمہ داران کو احساس اور نہ کبھی ملال ہوا۔ذاتی مفاد کا تحفظ اور بےحسی ہماری قومی سیاست اور قیادت کا راہنما اصول بن چکا ہے۔ جو ہر سطح پر کسی نہ کسی صورت واضح نظر آتا ہے۔ اک عام تعمیراتی ٹھیکیدار سے وزیراعظم تک سب کا ایک جیسا چلن ہے ۔سڑک کی تعمیر کا معیار اور پائیداری کنٹریکٹر کی نیت اور فیصلے کے غماز ہوتے ہیں۔ دی گئی گارنٹی سے قبل ہی اگر ٹوٹ جائے تو سمجھ جاو کہ فیصلہ سازی میں بدنیتی اور ذاتی مفاد شامل تھا۔اسی طرح جب قومی قیادت ملکی تعمیر و ترقی کے فیصلوں میں ڈنڈی مارتی ہے تو معاشرے اکھڑ جاتے ہیں ۔ بےچینی ، تقسیم اور نفرت جیسے عارضے یکجتی اور اتحاد کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ تعصب کی وبا سے لسانی، مذھبی اور علاقہ پرستی کے جرثومے پھیل جاتے ہیں ۔ جب اہل اور دور اندیش قیادت کی رہنمائی بھی میسر نہ ہو تو یہ ریاست کے لئے چیلج بن جاتے ہیں۔ دانشمند قیادت فیصلوں سے یکجہتی اور امن و آشتی کی فضا کو برقرار رکھتی ہے۔عوام کے دل میں جذبہ قومیت اور احساس اپنائیت کو مضبوط کرتی ہے۔اچھے فیصلوں ہی سے قومی فخر اور حب الوطنی کا عظیم جذبہ پنپتا اور پختہ ہوتا ہے۔ اک فیصلہ ملک کے چند چوٹی کے امرا کی فیکٹریاں قومیانے کا بھی کیا گیا تھا۔ جس نےہمارے معاشی سٹرکچر کو بری طرح متاثر کیا جس کے منفی اثرات ابھی تک ہماری قومی معیشت کے بدن پر موجود ہیں۔ ہوس اقتدار انتخابی دھاندلی کے فیصلہ پہ منتج ہوئی۔نتیجے میں ملکی امن و عامہ خراب ہوا ۔ پاکستان قومی اتحاد نامی تحریک نمودار ہو گئی۔ احتجاج کی حدت اور شدت حد سے بڑھی تو بطور حفظ ماتقدم محافظوں نے اقتدار سنبھال لیا۔ یوں ذاتی مفاد میں رچےفیصلے سانحات اگلنے لگے ۔ اپنے ہی کئے ایک غلط فیصلے کے باعث ایک مقبول وزیراعظم تختہ دار پہ جھول گیا۔ سولی چڑھانے والے آمر کو پروموٹ کرنے کا فیصلہ بھی سولی پہ چڑھ جانےوالے ہی کا تھا۔ کراچی کبھی روشنیوں کا شہر تھا ۔ایک مذہبی پارٹی کا یہاں مکمل راج تھا۔ مقتدر حلقوں کو کچھ خطرہ محسوس ہوا۔اس پارٹی کے توڑ میں اک نئی سیاسی پارٹی لانچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ دیکھتے دیکھتے وہ لسانی پارٹی پورے شہر میں چھا گئی ۔ پھر ہم سب نے اس فیصلے کی بھاری قیمت چکائی ۔ روشنیوں کے شہر میں دہشت اور وحشت کے اندھیرےچھا گئے۔ روشنیوں کو بحال کرنے کے لئے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا جس کی اپنی کوکھ سے بے شمار مسائل پیدا ہوئے۔ تاحال بجھے چراغوں میں امن و آشتی کے تیل سے روشنی بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ روس اور افغانستان کی جنگ چھڑی تواس میں کودنے کا ہم نےفیصلہ کر لیا جس کے بعدہمیں کئی مزید مشکل فیصلے کرنےپڑےجیسےمجاہدین کی پرورش و تربیت، افغان مہاجرین کی مہمان نوازی اور اپنی سر زمین پر آبادکاری ۔ یہ وہ فیصلے تھے جو زہریلے کانٹے کی طرح ابھی تک ہمارے قومی بدن میں دھنسے ہوئے ہیں۔ ان سےبدستور رستا ہوا خون ہماری عاقبت نااندیشی کا پتہ دیتا ہے۔ ڈرگ اور کلاشنکوف کلچر بھی انہی فیصلوں کے بطن سے نکلنے والے تحفے ہیں ۔ کارگل کی چوٹیوں پر قبضے کا فیصلہ بھی بڑا بھیانک ثابت ہوا۔ ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان ہوا ۔حاصل وصول صفر رہا۔ جدھر سےچلے تھے زخمی غرور کے ساتھ واپس ادھر ہی آن پہنچے ۔ایسے فیصلوں سے معاشی اور عسکری ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ۔ وزیراعظم اک فیصلہ کرتا ہے ۔ چند گھنٹوں بعد بزور بندوق اسے الٹ دیا جاتا ہے پھر اسکا دھڑن تختہ بھی کر دیا جاتا ہے۔طاقتور آمر اقتدار پر قابض ہو جاتا ہے۔ یوں ملک کے چیف ایگزیکٹو کو اپنے قانونی فیصلے کی بھی قیمت چکانا پڑجاتی ہے ۔قیدوبند کی صعوبتیں سہنا پڑتی ہیں۔ یہ سب کچھ بڑے عہدوں کے چھوٹے فیصلوں کا شاخسانہ ہی تو تھا ۔ امریکہ کے دو تجارتی ٹاورز پر دہشت گردی کاحملہ ہوتا ہےجس کا الزام افغانستان کی ایک تنظیم پہ لگتا ہے۔ امریکہ اس کےخلاف کارروائی کا منصوبہ بناتا ہے۔ ہمیں کال کر کے پوچھتا ہے کہ ہم اسکے ساتھ ہیں یا اسکے دشمن کے۔ بلا سوچے سمجھے ہماری قیادت سر تسلیم خم ہو جاتی ہے ۔ اپنی زمین اور وسائل تک آپریشن کے لئے پیش کر دیتی ہے۔اس زہر آلود فیصلے کے اثرات بھی ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔پڑوس سے اچھل کر جنگ ہماری سرزمین پہ آ گئی ۔اپنے ہی پالے ہوئے ہمیں کاٹنے لگے ۔اپنوں نے اپنی ہی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے۔دہشت گردی کی آگ بھڑک اٹھی جس کو بجھانےکیلئےفوجی آپریشن کرنے پڑے۔ ہزاروں لوگوں شہید اور زخمی ہوئے۔فوج ، پولیس اور عام شہریوں نےخون کا نذرانہ دے کر دہشت گردی کے ناسور کو قابو کیا، لیکن افسوس ایک اور غلط فیصلے کے سبب وہ دوبارہ اک نئی طاقت کے ساتھ ابھر آیا ہے ۔ فیصلے انتظامی ہوں یا پھر عدالتی، انکے اثرات بہت گہرے اور دور رس ہوتے ہیں۔ بحرانوں کی شکل میں یہ انڈے بچے ضرور دیتے ہیں ۔ایک آمر کے خلاف آرٹیکل چھ لگانے کا فیصلہ ہواجس کو بےاثر کرنے کے لئےطاقتوروں نے دوسرا فیصلہ کیا۔اس وقت کے چیف ایگزیکٹوکی چھٹی کرا کر ایک من پسند کو لانے کا فیصلہ ہوا،جس کی کوکھ سےچار حلقوں کا مطالبہ، ڈی چوک دھرنا اورپانامہ کا مقدمہ برآمد ہوا ۔ پھر ایک فیصلہ عدالت نے دیا ۔پارلیمنٹ اور جمہوریت کی دیواریں لرزگئیں۔ ہنگامہ ریزی اور احتجاج معمول کے مقبول قومی کھیل بن گئے ۔سڑکیں بلاک ہوجاتیں ۔ترقی کا پہیہ جام ہو جاتا۔ یوں سی پیک بھی اسی عدم استحکام کی نذر ہو گیا ۔ من پسند کو لانے کا اٹل فیصلہ ہوا۔ انتخاب سے قبل ہی اسکے لئے میدان صاف کرنےکا فیصلہ ہوا ۔فیض کی آندھی سے بڑے بڑے برج اور سیاسی شجر ڈھیر ہو گئے۔ جنھیں پیشہ ورانہ اصول کے پیش نظر پس پردہ رہنا چاہیے تھا کھل کر سامنے آ گئے۔برملا ایک پارٹی کی حمایت کرنے لگےجس سے متاثرہ فریق نالاں جبکہ فیضاب طبقہ فخر و تشکر کی ہواؤں پہ سوار ہو گیا۔اس فیصلے کی کاٹ سے ابھی تک لہو بہہ رہا ہے ۔ من پسند کو لانے کا فیصلہ کامیاب ہوا مگر نظام انصاف اور انتخاب بری طرح ناکام ہو گیا۔اس عمل میں چلی خطرناک چال نے ہماری سماجی و اخلاقی اقدار کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ من پسند کو لانے کیلئے اسکے تمام مخالفین کے خلاف کردار کشی کی مہم چلا کر انہیں عوام کی نظروں میں گندہ کرنے کا منظم فیصلہ کیا گیا۔ تمام ٹی وی چینلز، اخبارات ،صحافیوں اور مخصوص سیاست دانوں کو ٹاسک دے کر مشن من پسند کامیاب کرانے کا فیصلہ کیا گیا ۔پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کتنے شدو مد اور تواتر سے من پسند کے مخالفین کو چور ، ڈاکو اور غدار ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ من گھڑت داستانوں خبروں ، معلومات اور کاغذات کے ذریعے لوگوں کو مائل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی ۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر مخالفین کی کردار کشی اتنی زیادہ کی گئی کہ نو عمر بچوں کے ذہنوں میں وہ سرایت کر گئی ۔ وقت کے ساتھ جب یہی بچے عمر شعور کو پہنچے تو ان کے ذہن میں مخالفین بارے انڈیلا امیج چٹان کی طرح سخت اور زہر کی طرح مہلک ہو چکا تھا۔ایک طرف من پسند کی شخصیت میں انہیں فرشتہ اور مسیحا نظر آتا تھا جبکہ دوسری طرف سب چور اور غدار دکھائی دیتے تھے ۔ نئی نسل کی ذہن سازی بڑی کامیابی سے ہو چکی تھی۔ جس کے اصل اثرات اور نتائج تب باہر آئے جب من پسند کی حکومت ختم کی گئی اور گرفتار کیا گیا۔ ملک کے درو دیوار ہلا دیئے گئے ۔احتجاج کی شدت اتنی کہ فوجی تنصیبات اور گھروں کو بھی اڑا کر رکھ دیا۔اس افسوسناک سانحے کے پیچھے بھی وہی فیصلے کارفرماہیں ،جو بڑے عہدوں پر بیٹھے چھوٹے لوگوں نے کئے۔ آخری فیصلہ فروری کے الیکشن کو طے شدہ منصوبے کے مطابق کروانے کا تھا ۔ عوامی حمائت کی ہوا کے مخالف سمت فیصلہ بھی جمہوریت کی گرتی دیوار کے لئےآخری دھکا ثابت ہوا۔ یہ بدنصیب قوم کب تک بڑوں کے چھوٹے فیصلوں کا عذاب برداشت کرتی رہے گی ۔کب تک عاقبت نااندیشی ، ذاتی مفاد اور خودغرضی پر مبنی فیصلوں کے کانٹے پلکوں سے چنتی رہے گی۔ جب تک بڑے عہدوں پر حقیقی اہل اور مستحق لوگ نہیں آتےیہ دائروں کا دردناک اور افسوسناک سفر یونہی جاری رہے گا۔