(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک یلغارہےجس نےسب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیا۔فلسطین کی بات کرنااب دقیانوسی روّیہ ہے کہ عرب جوخودکوفلسطین کاوکیل سمجھتے تھے،نہ صرف اس کامقدمہ ہارچکے بلکہ خودکواس وکالت نامےسے آزادکرکےاس کانام بھی سنناانہیں گوارہ نہیں۔ان کی ترجیحات تواپنے اقتدارکوطول دینا،قومی دولت کواغیارکے خزانوں میں محفوظ کرناکہ مشکل وقت میں کام آئےگی۔ انہیں صدام اورمعمرقذافی کےعبرتناک انجام سےڈرایاجاتاہےلیکن وہ یہ بھول گئےکہ جب بھیڑکوذبح کردیاجائےتواس کی بلاسےکہ اس کی بوٹیوں کا سائز کیا ہو گا یاپھر اس کے گوشت کاقیمہ بنایاجائے گا۔
وہ ممالک جوخودکوجمہوریت کی ’’ماں‘‘ کہتے ہیں،انہوں نے اپنے ہاتھوں مصر اور الجزائر کے جمہورکاگلاگھونٹ دیا ۔مرسی حکومت کے ساتھ انسانی حقوق کے علمبرداروں کاسلوک یقینا آئندہ نسلوں کاسرجھکادینے کیلئے کافی ہوگا۔ ہزاروں سال پرانی بابل ونینواکی تاریخ کے حامل عراق کوتاراج کرکے تاتاریوں کے مظالم کوبھی شرمندہ کردیا۔ عرب بادشاہت کے نظام پرسب ہی معترض ہیں لیکن ان کا استقبال ’’ریڈکارپٹ‘‘ پرکرتے ہوئے جمہوریت گنگ ہوجاتی ہے۔ مغرب میں شخصی آزادیاں ایک چیلنج بن چکی ہیں، یہاں کسی بھی خاتون کوبرہنہ ہونے کااختیارتوہے لیکن اپنی مرضی سے اسکارف نہیں پہن سکتی۔ مذہب کی توہین کرتے ہوئے لمحہ بھرکیلئے شرم محسوس نہیں کرتے۔
کون نہیں جانتاکہ قذافی کوامریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط نہ رکھنے کی سزا دی گئی، بظاہرتولیبیا پریہ کہہ کرحملہ کیاگیاکہ وہاں کےعوام کوقذافی سے بچایاجارہاہے لیکن حقیقت یہ تھی کہ معمرقذافی یورپی ممالک اور امریکا کواپنے اقتصادی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتے تھے بلکہ وہ عالمی منڈی میں تیل کے بدلے ڈالرکے مقابلے میں سونے کاسکہ چلانےکیلئے کوشاں تھے اورتمام تیل پیداکرنے والے ممالک کواس فارمولے پرقائل کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہورہےتھے۔قذافی کی کوشش تھی کہ وہ چین ، ترکی اورایشیائی ممالک سمیت ان ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلق رکھیں جوامریکاکے اثرسے پاک تھے۔قذافی کے خلاف یہ بات اڑائی گئی کہ ان کی ایئرفورس بن غازی میں عوامی مظاہروں کے خلاف استعمال ہورہی ہے،الجزیزہ ٹی وی پر یہ خبربھی چلی کہ بن غازی میں بمباری کے نتیجے میں50ہزارلوگ مارے گئے،اگرچہ یہ خبرواپس لے لی گئی لیکن اس خبر کے نتیجے میں لیبیاکے اوپر نوفلائی زون قائم کردیاگیا۔بعدمیں اسی نوفلائی زون کوتوڑتے ہوئے بمباری شروع کردی گئی اورقذافی کے گھرپربمباری کرکےان کے ایک بیٹے کوبچوں سمیت شہیدکردیاگیا۔اس موقع پرپوری عرب اوراسلامی دنیادیکھتی رہ گئی اورکچھ نہ کرسکی۔یہ جہاں امریکا کی جانب سے لیبیاکے عوام کو بچانے کیلئےکھلی بدمعاشی اورجارحانہ مداخلت تھی وہاں تمام مسلمان ملکوں کے سربراہوں کوان کی اوقات بتادی گئی ۔مغرب کی خاموشی،آج ان کے ضمیروں پربوجھ بن کرتازیانے برسارہی ہے۔ اپنے اس جرم کا اعتراف خودمجھ سے مغرب کے کئی دانشوروں نے کیاہے۔
بالآخربھارت کا اقلیتوں سے غلیظ،متعفن آمریت کے سلوک کے بارے میں 75کانگرس امریکی ارکان نے جوبائیڈن کوخط لکھ کراس کی جمہوریت پر تھوک دیاہے لیکن کیا جمہوریت کے علمبرداروں کے کانوں پرکوئی جوں رینگی؟ سیدعلی گیلانی نے اپنی سوانح حیات’’وولرجھیل کے کنارے‘‘ میں دل کےزخم دکھانے سےتوگریز کیا لیکن بین السطور میں چشم کشا منظرناموں کی نشاندہی کردی ہے۔ بھارتی بنئےکےسینے پربیٹھ کر اپنے لاکھوں چاہنے والوں اور سرفروشوں کے درمیان علی الاعلان یہ دعویٰ رقم کردیاکہ’’ ہم ہیں پاکستانی،پاکستان ہماراہے‘‘لیکن ہم نے کشمیر کا وکیل بن کرکھلا دھوکہ دیا۔کیاکشمیریوں کا قصور بھی یہ ہے کہ وہ تاریخ ِعالم میں ان چند پرعزم، بلند حوصلہ،حق پرست،حریت پسند اور جذبہ اِستقلال سے سرشار اقوام میں سرِ فہرست ہیں جو 8لاکھ سے زائد بھارتی درندوں کے ظلم سے نہ توخوفزدہ ہیں اورنہ ہی ان کی جارحیت کے سامنے سرتسلیم ِخم کیا ہے ۔
1947ء سے لےکر آج تک ان پرزندگی تنگ کردی گئی ہے ۔گمنام اجتماعی قبریں،بے گناہ شہدا،معصوم یتیم، بیوہ ونصف بیوہ عورتیں، نابینابنادیئے گئے بچے،جوان،معذوروبے سہارا بوڑھے اور لہولہان وادی کشمیربھارتی مظالم کامنہ بولتا ثبوت ہیں لیکن وہ آج بھی اقوام عالم کے سب سے بڑے ادارے اقوام متحدہ جوان دنوں بڑی طاقتوں کی ایک لونڈی کا کرداراداکررہا ہے، سے اپناوہ جائزحق مانگ رہے ہیں جواس ادارے میں اقوام عالم کے اتفاق رائے سے دنیاکی چندبڑی طاقتوں کے بطورضامن،ان کودینے کاوعدہ کیا تھا۔ آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم کشمیری خاموش زبانوں،نابیناآنکھوں،بہتے زخموں،لٹی عزتوں اوربے بس ہاتھوں میں جوان لاشے اٹھائے ضمیر ِ عالم کوجھنجھوڑنے کی ناکام مگر پر امید کوشش میں مصروف وشکوہ کناں ہیں۔
1948ء میں اقوامِ متحدہ نے اس دن انسانی حقوق کے تحفظ اورآگاہی کیلئے48ممالک کی رضامندی سے30دفعات پرمشتمل عالمی منشور جاری کیا تھا- اس منشورکے تحفظ ،بہتری اورعمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کیاگیاتھا-انسانی حقوق کے اس عالمی منشورمیں بنیادی انسانی حقوق مثلاانسانی آزادی، مساوی حیثیت،آزادانہ نقل وحرکت،آزادی اظہار، باوقارزندگی،سماجی تحفظ کاحق،مذہبی آزادی اور تشدد، ظلم وستم،غیرانسانی اورتوہین آمیزسلوک یا سزا کانشانہ نہ بنائے جانے کویقینی بنایا گیا ہے- گوکہ اِس دن دنیابھرمیں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آوازبلندکی گئی، مگرسوائے پاکستان ودیگرچندممالک کے،اقوامِ عالم نے کشمیرو فلسطین میں ہونے والی اندوہ ناک انسان دشمنی کوہمیشہ کی طرح پسِ پشت ڈالے رکھاہے۔
مسلمانوں کے دکھ پررونااب انتہا پسندی اورمطالعہ پاکستان بھی مسخروں کے مزاح کاعنوان بن چکا،بیانیہ اب وہی ہے جو مغرب سے آتاہے ، جس میں بتادیا گیاہے کہ مسلمانوں کے حقوق انسانی نہیں ہوتے۔ہم نے اپنے نصاب کوجانے کن کن فضولیات سے بھررکھاہے۔کیااس میں فلسطین کے محموددرویش کی دونظمیں ہم شامل نہیں کر سکتے۔ آپ محمود درویش کوپڑھ کرتو دیکھیں۔ میں انگریزی ادب کابھی طالب علم رہاہوں اور ورڈز ورتھ، کیٹس، بائرن، شیلے، ییٹس، براوننگ، ہارڈی،جان ڈن، شیکسپیئر،ملٹن سمیت کتنوں کو پڑھ رکھاہے لیکن جوبات محمود درویش میں ہے وہ ان میں کہاں۔ محمود درویش،نزادقبانی،سمیع قاسم، فوزی اسمر،حناابو حنا، توفیق زیاد،توفیق فیاض،امین حبیبی، ایک کہکشاں آبادہے،ہمیں جس کاعلم ہی نہیں۔سمیع قاسم کی نظم ’’ارمتو‘‘کمال ہے۔ ’’ہمیشہ سے اس راستے پر ہمارے پرچم اندھوں کیلئے بصارت بنے ہیں‘‘۔ محموددرویش نے کیاخوب لکھا: ہم،عرب،نعم عرب، ہمارے دشمن آوازے کستے ہیں،یہ عرب ہیں،یہ اجڈ ہیں اوروحشی،ہاں سن رکھوہم عرب ہیں۔درویش کے ’’اناشید کوبا‘‘ کا توجواب نہیں۔ؕ(جاری ہے)